ابصار بلوچ – میرے آئیڈیل، میرے وطن کا سپاہی
تحریر: زرنود بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف پسندیدہ نہیں ہوتے، بلکہ ہماری سوچ اور احساسات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم انہیں اپنا آئیڈیل سمجھنے لگتے ہیں، ان کے کردار سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی شخصیت میں اپنے لیے ایک مثال تلاش کرتے ہیں۔
ابصار بلوچ میرے لیے بھی ایسی ہی شخصیت ہیں۔ میں نے انہیں کبھی بالمشافہ نہیں دیکھا۔ ہماری صرف چند بار بات ہوئی ہے، مگر ان مختصر گفتگوؤں، ان کی باتوں اور ان کی شاعری نے میرے دل میں ان کے لیے ایک خاص مقام بنا دیا۔ میں نے ان کی شاعری صرف پڑھی نہیں، بلکہ اسے محسوس کیا ہے۔ ان کے لفظوں میں اپنے وطن کی محبت اور اپنے شہداء کے لیے احترام محسوس کیا ہے۔
لیکن میرے لیے ابصار بلوچ کی سب سے بڑی پہچان صرف ان کا شاعر ہونا نہیں۔ وہ ایک فوجی ہیں، اپنے وطن کے لیے لڑنے والے ایک سپاہی ہیں اور یہی پہلو مجھے ان کی شخصیت میں سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ میرے لیے وطن سے محبت صرف الفاظ کا نام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری اور وفاداری کا احساس ہے۔ ابصار بلوچ کی شخصیت میں مجھے یہی وابستگی نظر آتی ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے انہیں ہمیشہ اپنے لیے ایک آئیڈیل سمجھا ہے۔
کچھ دن پہلے جب معلوم ہوا کہ انہوں نے شاعری چھوڑ دی ہے تو مجھے واقعی دکھ ہوا۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا، اور میں ان کی وجہ فرض بھی نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن ان کے قلم کی خاموشی نے مجھے اداس ضرور کیا، کیونکہ ان کی شاعری میرے لیے صرف شاعری نہیں تھی؛ اس میں میرے وطن اور میرے شہداء کی یاد بھی شامل تھی۔
میں نے انہیں صرف ایک شاعر کی حیثیت سے اپنا آئیڈیل نہیں بنایا۔ میں نے انہیں ایک سپاہی، اپنے وطن سے وفادار انسان اور ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھا ہے جس سے میں متاثر ہوں۔
شاید انہیں اندازہ بھی نہ ہو کہ ہماری چند باتیں اور ان کے چند لفظ میرے دل میں ان کے لیے اتنا احترام پیدا کر گئے ہیں۔ میں انہیں مکمل طور پر جاننے کا دعویٰ نہیں کرتی، مگر جتنا محسوس کیا ہے، اتنا میرے لیے کافی ہے۔
ابصار بلوچ میرے لیے صرف ایک نام نہیں؛ وہ میرے لیے ایک مثال ہیں۔ ایک شاعر جس کے لفظ دل تک پہنچے، ایک سپاہی جس کی وطن سے وابستگی نے متاثر کیا، اور ایک ایسا شخص جسے میں نے ہمیشہ اپنے آئیڈیل کی طرح دیکھا۔
ابصار بلوچ کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی کتاب «ساہ کش» ہے۔ ایک شاعر کے لیے اپنے احساسات کو کتاب کی صورت میں محفوظ کرنا محض لکھنے کا عمل نہیں، بلکہ اپنے خیالات اور اپنے عہد کو لفظوں میں ثبت کرنا بھی ہے۔ ابصار بلوچ نے اپنے قلم کے ذریعے جو کچھ بیان کیا، وہ ان کی ادبی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کی شاعری اور ان کی کتاب کا ذکر میرے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ میں انہیں ہمیشہ ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتی آئی ہوں جس کی شخصیت سے میں نے بہت کچھ محسوس کیا اور سیکھا ہے۔
مجھے اس بات کا بھی دکھ ہے کہ جس قلم سے وطن، اس کے لوگوں اور شہداء کے لیے لفظ نکلتے تھے، وہ آج خاموش ہے۔ میں نہیں جانتی کہ اس خاموشی کے پیچھے کیا وجہ ہے، اور نہ ہی ان کے احساسات کے بارے میں اپنی طرف سے کوئی بات کہنا چاہتی ہوں۔ لیکن میری خواہش ہے کہ ان کے لفظوں کا یہ سفر کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو۔ کیونکہ «ساہ کش» صرف ایک کتاب کا نام نہیں، بلکہ ابصار بلوچ کے قلم سے وابستہ ایک ایسی ادبی یاد ہے جسے ان کے پڑھنے والے اپنے اپنے احساس کے ساتھ سنبھال کر رکھ سکتے ہیں۔
میں نہیں جانتی کہ آپ دوبارہ شاعری کریں گے یا نہیں، ابصار بلوچ، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ آپ کی شاعری نے میرے دل میں آپ کے لیے جو احترام پیدا کیا، وہ آپ کے لکھنے یا نہ لکھنے سے مشروط نہیں۔ آپ میرے لیے آج بھی ایک آئیڈیل ہیں۔ آپ کے اشعار، آپ کی کتاب «ساہ کش» اور آپ کی باتیں میرے لیے ہمیشہ ایک خاص معنی رکھیں گی۔
کھو دیا ہے؛ کیونکہ آپ کے لفظوں سے محبت کرنے والے دل اب بھی آپ کے اگلے شعر کے منتظر ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































