اُن تمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ علم کا چراغ روشن رکھا۔بساک

5

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے سفر کا دارومدار تعلیم اور علم پر ہے، اور استاد ہی اس زیور سے آراستہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ انسانی ترقی میں تخلیق، تشکیل اور تحقیق نے بڑا کردار ادا کیا ہے، اور یہ سب اساتذہ کی مرہونِ منت ہے۔ استاد ہی کے ذریعے قومی اور سماجی ترقی ممکن ہوئی ہے، جنہوں نے نہ صرف کسی فرد کو بلکہ پورے معاشرے کو باشعور بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے نچلی سطح سے معاشرے کی تعمیر کی ہے۔ ان ہستیوں کے کردار سے کوئی بھی ذی شعور شخص انکاری نہیں ہو سکتا۔ اساتذہ نے جہاں سچ اور حق کا ساتھ دیتے ہوئے کئی مشکلات سہی ہیں، وہاں انہوں نے اپنے سے بڑھ کر قوم اور سماج کی اصلاح، فلاح اور بہتری کی آبیاری کی ہے۔

ترجمان نے کجا ہے کہ بلوچستان کے مفلوج تعلیمی نظام میں جہاں ایک جانب پہلے ہی اساتذہ کی شدید کمی محسوس کی جاتی ہے، وہاں دوسری جانب کئی اساتذہ عقوبت خانوں کی نذر کر دیے گئے ہیں اور کئی اساتذہ و پروفیسرز شہید کیے گئے ہیں۔ یہ بات اٹل ہے کہ بلوچستان کی تعلیمی بہتری اور شرحِ خواندگی کا دارومدار اساتذہ پر ہے، جو بلوچ سماج کو بہتر تعلیم سے آراستہ کرکے ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن کریں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے بلوچستان کے تعلیمی نظام میں ایک ایسا خلا دیکھا ہے جو ان اساتذہ کی وجہ سے ہے جو استاد ہوتے ہوئے بھی اپنے قومی فریضے سے کوسوں دور ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض اساتذہ اپنے فریضے سے ہٹ کر تحقیق، تشکیل اور تخلیق کو بانجھ پن کی جانب لے جا رہے ہیں۔

مزید کہا ہے کہ لیکن سب سے بڑھ کر بلوچستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ آج بھی کچھ ایسے بے لوث اساتذہ موجود ہیں جو خود سے بڑھ کر قومی اور سماجی ترقی کے لیے رختِ سفر باندھ کر علمی، قومی اور انسانی شعور کا نعرہ بلند کیے ہوئے ہیں۔ ہم بحیثیت ایک ذمہ دار طلبہ تنظیم ان تمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو بلوچستان میں تعلیم اور علم کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں—وہ تمام اساتذہ جو متعدد مشکلات کے باوجود علم بانٹنے اور شعور پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہم ان تمام اساتذہ سے نہ صرف اپیل کرتے ہیں بلکہ ان سے دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے قومی فریضے کو پہچانیں اور تعلیم و شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنی خدمات سر انجام دیں۔