کوئٹہ میں کوئلہ کان کے دھماکے میں درجنوں کانکن پھنس گئے، خصوصی آلات نہ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ۔
محکمہ مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق جمعرات کی سہ پہر کوئٹہ کے علاقے سوررینج میں ایک مقامی کوئلہ کان میں میتھین گیس کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 42 کانکن کان کے اندر پھنس گئے۔
دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا، تاہم خصوصی آلات نہ ہونے کے باعث آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
اب تک موصولہ اطلاعات کے مطابق مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت چھ کانکنوں کی لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، حکام کے مطابق واقعے میں ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کانکنی سے متعلق حادثات کوئی نئی بات نہیں، پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان میں سال 2025 کے دوران کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مختلف حادثات کے نتیجے میں 89 کانکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ حفاظتی اقدامات کا فقدان قرار دیا جاتا ہے، تاہم کان مزدور یونینوں کے بارہا مطالبات کے باوجود مؤثر اقدامات عمل میں نہیں لائے جا سکے ہیں۔



















































