بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ضلع گوادر میں شادی کور کے قریب واقع سردشت ایک قدیم بلوچ آبادی ہے جہاں تقریباً تین ہزار افراد نسلوں سے آباد ہیں۔ ریک بازار، سید محمد بازار اور تولگو سمیت یہ پورا علاقہ مقامی لوگوں کی سماجی اور معاشی زندگی کا مرکز ہے۔ آج ریاست سیکیورٹی تھریٹ کے نام پر انہی لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقے سے بے دخل کر رہی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس ریاستی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس پالیسی کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کا یہ جواز محض ایک بہانہ ہے۔ جس ریاست کی آئینی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے، وہی ریاست انہیں ان کی زمین سے نکال رہی ہے۔ اگر علاقے میں واقعی کوئی خطرہ ہے تو ریاست کا فرض عوام کو تحفظ دینا ہے، انہیں بے گھر کرنا نہیں۔ تین ہزار لوگوں کو گھروں سے نکال دینے سے وہ محفوظ نہیں ہوتے، بلکہ اپنے ہی وطن میں پناہ گزین، بے روزگار اور دربدر ہو جاتے ہیں۔ پوری آبادی کو ہی خطرہ قرار دے کر اسے اس کے گھروں سے محروم کرنا اجتماعی سزا کے سوا کچھ نہیں۔ جب تحفظ کے نام پر لوگ ہٹائے جائیں اور زمین خالی کرائی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ ریاست کا نشانہ کوئی خطرہ نہیں بلکہ بلوچ زمین ہے۔
ترجمان نے کہا کہ سردشت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان، بالخصوص مکران کے ساحل پر جاری ایک منظم ریاستی پالیسی کی کڑی ہے۔ گوادر کی زمین اور ساحل کو نام نہاد ترقیاتی منصوبوں اور طاقتور حلقوں کے مفادات کی نذر کیا جا رہا ہے، اور بلوچ عوام کو اس راہ کی رکاوٹ سمجھ کر ہٹایا جا رہا ہے۔ کبھی گوادر شہر کو باڑ لگانے کا منصوبہ، کبھی قدم قدم پر چیک پوسٹیں، کبھی ماہی گیروں کو ان کے اپنے سمندر سے محروم کرنا، کبھی سرحدی روزگار پر پابندیاں، اور اب لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا ، یہ سب ایک ہی پالیسی کے مختلف مراحل ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بلوچ سرزمین اور وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا، بلوچوں کو ان کے اپنے ہی گھر میں اقلیت بنانا اور بلوچ قوم کی معاشی و سماجی بنیادیں کھوکھلی کرنا ہے۔ اسی لیے ہم اسے بلوچ بقا پر براہِ راست ریاستی حملہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے مبہم جواز پر ایک پوری آبادی کو اس کے گھروں سے نکالنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9، 14، 15، 23 اور 24 کے ساتھ ساتھ شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندرونی نقل مکانی سے متعلق رہنما اصول بھی ہر اس بے دخلی کو ممنوع قرار دیتے ہیں جو اجتماعی سزا کے طور پر کی جائے، جس کا نتیجہ کسی آبادی کی نسلی ساخت کی تبدیلی ہو، یا جو کسی ناگزیر عوامی مفاد کے بغیر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کی جائے۔ ہم ریاست سے پوچھتے ہیں: کس قانون کے تحت سردشت کو خالی کرایا جا رہا ہے؟ اس کا تحریری حکم کہاں ہے؟ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟ ان کی واپسی کی ضمانت کون دے گا؟ ریاست کو ان سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ سردشت سے بے دخلی کا عمل فوری طور پر روکا جائے اور اس سے متعلق تمام احکامات واپس لیے جائیں۔ جو خاندان اب تک بے دخل کیے جا چکے ہیں، انہیں فوری اور باعزت طور پر اپنے گھروں میں واپس آنے دیا جائے اور ان کے تمام نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ اسی طرح بلوچستان بھر میں سیکیورٹی کے نام پر عام آبادی کو بے دخل کرنے کی پالیسی فی الفور ختم کی جائے، اور بلوچ زمین پر کوئی بھی سیکیورٹی، انتظامی یا ترقیاتی منصوبہ مقامی آبادی کی آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی کے بغیر شروع نہ کیا جائے۔ ہم ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سردشت کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں، آزادانہ فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجیں اور پاکستانی ریاست کو ان اقدامات پر جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ اپنی سرزمین کے وارث ہیں، مہمان نہیں۔ سیکیورٹی کے نام پر ہو یا ترقی کے نام پر، بلوچوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی ہر کوشش کو ہم مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہر فورم پر پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سردشت کے عوام تنہا نہیں، پوری بلوچ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔













































