گوادر، کوئٹہ: 4 افراد جبری گمشدگی کا شکار

42

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے چار افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کوئٹہ سے ایک ہی خاندان کے باپ بیٹے سمیت جیونی اور پیشکان کے دو نوجوان شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ سے 14 جولائی 2026 کو 20 سالہ طالب علم اویس شاہ بلوچ ولد قاہم شاہ کو شام 5 بجے، جبکہ ان کے والد 42 سالہ قاہم شاہ بلوچ ولد مہران شاہ کو اسی روز صبح 3 بجے ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔ لواحقین کے مطابق دونوں افراد کے لاپتہ ہونے میں سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکار ملوث ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے جیونی کے علاقے لبادی سے 23 جولائی 2026 کی شب معظم ولد عبدالمجید کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

جبکہ پیشکان سے بھی گزشتہ شب عدنان ولد رضائی کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق عدنان کے والد رضائی کو بھی 2012 میں پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جن کی بعد ازاں مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔