سلمان بلوچ کی بازیابی کے بجائے ثبوت طلب کرنا ناانصافی ہے۔ سعدیہ بلوچ

59

جبری طور پر لاپتہ ہونے والے سلمان بلوچ کی ہمشیرہ سعدیہ بلوچ کا کہنا ہے میرے بھائی سلمان بلوچ کو 13 نومبر 2022 کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان کی بازیابی کے لیے ہم نے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی، جبکہ جبری لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن سے بھی رجوع کیا۔ بدقسمتی سے کمیشن نے میرے بھائی کی بازیابی کے لیے کوئی مؤثر یا خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے اور بغیر کسی نتیجے کے کیس کو ڈسچارج کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ہماری مسلسل کوششوں کے نتیجے میں کمیشن نے ایک مرتبہ پھر میرے بھائی کا کیس دوبارہ کھولا۔ گزشتہ دنوں میری کمیشن کے سربراہ امان اللہ یاسین زئی کے روبرو پیشی ہوئی۔ اس موقع پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ آئندہ سماعت پر اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے ثبوت پیش کروں بصورتِ دیگر کیس کو دوبارہ ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ قانونی اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن خود حکومتِ پاکستان کے قائم کردہ ادارے کے طور پر کام کرتا ہے اور اسے سرکاری وسائل اور اختیارات حاصل ہیں۔ لہٰذا کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ جبری لاپتہ افراد کے مقدمات کی غیرجانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کرے، متعلقہ سیکیورٹی اداروں اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں سے رپورٹس طلب کرے اور جس تھانے کی حدود سے میرا بھائی لاپتہ ہوا، اس تھانے کو بھی تحقیقات کے عمل میں شامل کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے پاس خود ثبوت جمع کرنے یا تحقیقات کرنے کے قانونی اختیارات موجود ہوتے تو ہمیں عدالتوں اور کمیشن سے رجوع کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ میں خود اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کی گواہ ہوں جب وہ کوئٹہ سے خضدار کے لیے روانہ ہوئے تو مسلسل میرے ساتھ رابطے میں تھے، لیکن اچانک ان کا موبائل فون بند ہو گیا، جس کے بعد آج تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرے، حقائق کی مکمل تحقیقات کرے، اور میرے بھائی کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے، نہ کہ متاثرہ خاندان سے ایسے شواہد طلب کرے جنہیں جمع کرنا قانوناً خود ریاستی اداروں اور کمیشن کی ذمہ داری ہے۔