بی ایل اے نے تین جان بحق ارکان کی تفصیلات جاری کردی

845

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے تین جان بحق ارکان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے ان کے نام، آبائی علاقوں اور تنظیمی پس منظر کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ تنظیم کے مطابق جان بحق افراد میں ملک محمد ہاشم شاہوانی عرف صلاح الدین، فرید بلوچ عرف بابر اور عثمان بلوچ عرف تلار شامل ہیں۔

بی ایل اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک محمد ہاشم شاہوانی عرف صلاح الدین کا تعلق کوئٹہ کے قمبرانی علاقے سے تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے قمبرانی علاقے سے تعلق رکھنے والے سنگت ملک محمد عرف صلاح الدین نے 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور تنظیمی احکامات کے تحت شہری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے شہری جنگی ذمہ داریوں کو دیانت داری اور بہترین انداز میں نبھایا، اہم معلومات فراہم کیں اور دیگر عسکری سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ بعد ازاں، جنوری 2026 میں انہوں نے پہاڑی محاذ پر اپنی خدمات کا آغاز کیا۔

“بلوچ مسلح جدوجہد کے سیاسی مقاصد و فلسفے سے آگاہی کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مسلح جنگ پاکستانی تشدد اور جبری قبضے کے خاتمے کے لیے موثر ترین ذریعہ ہے اور اسی فلسفے کے تحت بلوچ ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ریاست کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بنیادی فوجی کورسز کی تکمیل کے بعد دشمن کی پیش قدمی کے خلاف فرنٹ لائن جنگجو کے طور پر خدمات انجام دیں اور آخری دنوں تک سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ بلوچ سرمچار اپنی دفاعی پوزیشنوں کو مضبوطی سے برقرار رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ سنگت ملک محمد نے کردگاپ کے محاذ پر دشمن سے لڑتے ہوئے یکم جون 2026 کو شہادت حاصل کی اور قابض دشمن پر یہ واضح کر دیا کہ بلوچ نوجوان اب ریاست کی اس مصنوعی طاقت سے گھبرانے والے نہیں ہیں اور وہ اپنے وطن و ریاست کی حفاظت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی قربانیاں بلوچ قومی آزادی کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد رکھی جائیں گی۔

تنظیم نے مزید بتایا کہ فرید بلوچ عرف بابر کا تعلق پنجگور کے علاقے جائین پروم سے تھا۔ بی ایل اے کے مطابق انہوں نے رواں سال تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور پنجگور کے محاذ پر سرگرم رہے۔ بیان کے مطابق وہ 3 جون 2026 کو چیدگی، پنجگور میں پیش آنے والے ایک معرکے کے دوران جان بحق ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ سنگت فرید قومی وقار، بقا، اور بلوچ شناخت و جغرافیے کے تحفظ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ وہ اس حقیقت سے بھی باخبر تھے کہ ایک قابض قوت، جو بندوق اور فوجی طاقت کے ذریعے ہم پر مسلط ہے اور اپنے قبضے کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، اسے موثر طاقت اور منظم عسکری قوت کے ذریعے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس شعوری فکر کو محض تحریک سے ہمدردی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ تنظیمی احکامات کے تحت انہوں نے پنجگور کے محاذ پر اپنی قومی اور عسکری ذمہ داریوں کا آغاز کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اُن نئے کیڈرز میں شامل تھے جو جنگ کی رفتار، شدت، اور جدید عسکری تقاضوں و کلچر سے بخوبی آگاہ تھے۔ انہوں نے اس جدید عسکری کلچر کو اپنی عملی سرگرمیوں کا حصہ بنایا اور بنیادی فوجی کورسز مکمل کرنے کے بعد فرنٹ لائن کے جہدکاروں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔ ان کے رویے میں صرف پیشہ ورانہ فوجی نظم و ضبط ہی نہیں، بلکہ ایک شعوری اور انقلابی فکر بھی کارفرما تھی۔ انہوں نے انہی انقلابی اصولوں کو فوجی نظم و ضبط کے تابع رکھتے ہوئے عملی صورت میں ڈھالا اور دشمن کے خلاف موثر انداز میں بروئے کار لایا۔ پنجگور کے محاذ پر انہوں نے اپنے ساتھی سرمچاروں کے ہمراہ قابض قوت کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری اقتصادی ناکہ بندی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس شعوری اور قومی فکر و فیصلے کے تحت انہوں نے جنگی محاذ میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ اپنے آخری لمحے تک اس پر ثابت قدم رہے اور اسی عملی جدوجہد کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانیاں نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ وہ قومی، اخلاقی اور انقلابی حقائق کو سمجھتے ہوئے اس عظیم قومی جدوجہد کا حصہ بنیں، جو ہماری قومی بقا، آزادی اور روشن مستقبل کی ضامن ہے۔

اسی طرح تنظیم کے مطابق عثمان بلوچ عرف تلار، جو پنجگور کے علاقے جائین پروم کے رہائشی تھے، نے بھی 2026 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پنجگور کے محاذ پر مختلف ذمہ داریاں انجام دیتے رہے اور 3 جون 2026 کو چیدگی کے علاقے میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران جان بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ عثمان عرف تلار نے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی اور تنظیمی احکامات کی روشنی میں پنجگور کے محاذ پر اپنی قومی اور عسکری ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ تنظیمی صفوں میں ایک بہادر اور پُرعزم سرمچار کے طور پر جانے جاتے تھے، جو فوجی اہداف کے حصول کے لیے ہر قسم کے سخت اور مشکل اقدامات اٹھانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ بنیادی فوجی کورسز کی تکمیل کے بعد انہوں نے دشمن کے خلاف جاری اقتصادی ناکہ بندی سے متعلق آپریشنز میں عملی طور پر حصہ لینا شروع کیا اور اپنی ذمہ داریوں کو پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ انجام دیا۔

ترجمان نے کہا کہ انہوں نے نہایت کم عرصے میں تنظیم کے انقلابی نظریات اور فوجی نظم و ضبط کو اپنالیا اور اپنی عسکری ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھانا شروع کیا۔ وہ ایک مضبوط اور موثر عسکری قوت بننے کے لیے درکار بنیادی کلچر، روایات اور اصولوں سے بخوبی واقف تھے، اور انہی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے قومی جدوجہد کے دوران ایک فعال، ثابت قدم اور ذمہ دار سرمچار ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کے خلاف مختلف معرکوں میں بھرپور حصہ لیا اور دشمن کی پیش قدمی کی کوششوں کو ناکام بنانے میں اہم انفرادی کردار ادا کیا۔ حالیہ اقتصادی ناکہ بندی کی پالیسی کے دوران انہوں نے چیدگی کے مقام پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور دوران جنگ دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید عثمان کا آخری سانس تک قابض دشمن کے خلاف ثابت قدم رہنا اور عسکری قوت کے ذریعے اسے بلوچستان سے بے دخل کرنے کے عزم پر قائم رہنا، ان کی عظیم قومی فکر اور غیرمتزلزل وابستگی کا مظہر ہے۔ وہ بلوچ قومی تاریخ کے اُن جانباز جہدکاروں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے قومی آزادی اور قومی ریاست کی بحالی کے لیے اپنی ذاتی زندگی اور تمام تر آسائشوں کی قربانی دی۔ ان کی قربانیاں بلوچ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہیں گی۔