بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری ختم کیا جائے۔بی این ایم کا جرمنی میں احتجاج

3

بی این ایم کے مطابق پارٹی نے جرمنی کے شہر بون کے مارکٹ-پلاٹس میں ایک احتجاجی مظاہرے اور آگاہی مہم کا انعقاد کیا۔

اس مہم کا بنیادی مقصد بلوچستان کی موجودہ ابتر صورتحال کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا تھا۔

مظاہرین نے ریاستی جبر کا شکار ہونے والے افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے قائدین کے خلاف ‘فیس لیس ٹرائلز’ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے مسلمہ اصولوں کے سراسر منافی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں تمام آئینی و قانونی حقوق معطل ہیں اور پاکستانی فوج اپنی مرضی چلا رہی ہے۔ وہاں بی وائی سی کی معروف رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد ایک ایسے غیر شفاف عدالتی عمل کے ذریعے سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں عدالت کے عملے، گواہان اور جج تک کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

شرکاء نے بلوچ کارکنان اور سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ سیاسی کارکنان کے مکانات کو لوٹا اور مسمار کیا جا رہا ہے۔ جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ پریس کانفرنسز کر کے اپنے جبری لاپتہ پیاروں سے اعلانیہ لاتعلقی کا اظہار کریں۔

مظاہرے کے دوران شرکاء نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور محققین پر مشتمل ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن تشکیل دے۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کرتے وقت انسانی حقوق کے ان سنگین خدشات کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کا احترام اور احتساب کسی بھی قسم کے بین الاقوامی تعلقات کا محور ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے ممالک پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات کو اسی تناظر میں دیکھیں اور پاکستان کو پابند کیا جائے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے۔