بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے خاران، قلات، نوشکی، کوئٹہ اور شاہرگ میں مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے قابض پاکستانی فوج کے مخبروں اور تشکیل دیئے گئے ”ڈیتھ اسکواڈ” کے سات کارندوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دہشتگرد عسکری جتھے کے ایک سرگرم ٹھکانے کو بارودی مواد سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گزشتہ شب خاران کے علاقے برشونکی میں ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے کارندے حافظ ممتاز کے خفیہ ٹھکانے پر بارودی مواد نصب کرکے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ مذکورہ ٹھکانہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے مسلح جتھے کے کارندوں کے زیرِ استعمال تھا، جہاں وہ مختلف اوقات میں رہائش اختیار کرتے اور پناہ لیتے تھے۔
ایک اور ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران، سرمچاروں نے خاران ہی سے “ڈیتھ اسکواڈ” کے کارندے سمیر ولد رفیق، سکنہ برشونکی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ بی ایل اے کے انٹیلیجنس ونگ کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے دوران مذکورہ آلہ کار نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ ماہ بی ایل اے کے جانباز سرمچار سنگت علی جان عرف سدیس کی شہادت کے واقعے میں براہِ راست ملوث تھا۔ سمیر نے مزید اعتراف کیا کہ وہ خاران شہر اور اس کے گردونواح میں چوری اور ڈکیتی کی متعدد سنگین وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ دورانِ تفتیش مذکورہ کارندے نے اپنے دوسرے جرائم پیشہ ساتھیوں کے ناموں کا انکشاف کرنے سمیت کئی دیگر اہم راز بھی اگلے۔
انہوں نے کہاکہ اسی طرح ایک اور اہم ترین کارروائی میں، بی ایل اے کے سرمچاروں نے قلات کے علاقے اسکلکو سے قابض پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے ایک کارندے طاہر ولد چوہدری مبارک، سکنہ ملتان کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ بھیس بدل کر علاقے میں مخبری کے لیئے نقل و حرکت کر رہا تھا۔ تنظیمی تفتیش کے دوران طاہر نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستانی فوج کا حاضر سروس اہلکار ہے اور اس وقت براہِ راست ملٹری انٹیلیجنس کے لیئے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ طاہر چوہدری نے انکشاف کیا کہ گزشتہ مہینے ہی اس کی تعیناتی قلات میں کی گئی تھی، جہاں قلات شہر کے بعد وہ گردونواح کے دیگر علاقوں میں بھی بھیس بدل کر مخبری کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نوشکی میں قابض پاکستانی فوج کے ایک اور مہرے شعیب ولد اختر محمد مینگل کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جب وہ سرمچاروں کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مذکورہ کارندے کو قابض فوج نے بلوچ سرمچاروں کی صفوں میں شامل ہو کر انہیں اندرونی طور پر بڑا نقصان پہنچانے کا باقاعدہ ٹاسک دے کر بھیجا تھا، تاہم کیمپ کے سخت تنظیمی اصولوں، ڈسپلن اور سیکیورٹی طریقہ کار کے باعث وہ سرمچاروں کو نقصان پہنچانے کی سازش میں کامیاب نہ ہو سکا۔
ترجمان نے کہاکہ شعیب کی مشکوک حرکات و سکنات کے باعث سرمچاروں نے فوری طور پر اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا اور ساتھیوں کی جانب سے اس پر سخت خفیہ نگرانی برقرار رکھی گئی تھی۔ اپنی اس مذموم سازش میں مکمل ناکامی کے بعد شعیب نے ۴ جون کو کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر بی ایل اے کی ایک گوریلا یونٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ہدف بنایا اور موقع پر ہی ڈھیر کردیا۔
انہوں نے کہاکہ مزید برآں، بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ۶ جون کو نوشکی ہی میں ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے ایک اور سرگرم کارندے بابو گلستان مینگل کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا جو “ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے معاویہ جمالدینی کا ساتھی تھا جس کو گذشتہ سال جولائی میں سرمچاروں نے ہلاک کیا تھا۔ بابو گلستان گزشتہ طویل عرصے سے قابض پاکستانی فوج کے تشکیل کردہ مسلح جتھے سے وابستہ تھا جو نوشکی شہر اور گردونواح کے علاقوں میں قابض فوج کی براہِ راست سہولت کاری اور پشت پناہی میں ملوث تھا۔ یہ کارندہ مقامی معصوم نوجوانوں کو قابض فوج کے لیئے بطور مخبر بھرتی کرنے کے گھناؤنے کام میں بھی سرگرم تھا۔ بابو گلستان کو بی ایل اے کی جانب سے اس سے قبل بھی اپنے بلوچ کش اعمال ترک کرنے کے لیئے سخت تنبیہ کی گئی تھی، لیکن وہ اپنی روش بدلنے کے بجائے بدستور ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کے ساتھ منسلک رہا، جس پر سرمچاروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچایا۔
مزید کہاکہ گذشتہ شب سرمچاروں نے ایک کاروائی میں پاکستان فوج کے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ایک کارندے کو احمد وال نوشکی میں ایک کاروائی میں ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندے کو قابض فوج کی گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ گذشتہ کئی دنوں مذکورہ کارندہ خواتین کے کپڑوں میں احمد وال اور اس کے گردنواح میں نقل و حرکت کررہا تھا۔
سرمچاروں نے گزشتہ ماہ ۴ مئی کو کوئٹہ میں لنک بادینی روڈ پر ایک کامیاب کارروائی کے دوران قابض پاکستانی فوج کے آلہ کار فیروز مری ولد لال محمد مزارانی کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ کارندہ “کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ” کے لیئے بطور مہرہ کام کررہا تھا، جبکہ وہ آئی ایس آئی کے دفتر میں قابض ریاست کے خفیہ اداروں کے افسران سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتا تھا۔ مذکورہ شخص قابض فوج کے دور دراز پوسٹوں پر رسد و ایندھن پہنچانے سمیت کوئٹہ شہر میں چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر چھاپوں اور بلوچوں کی جبری گمشدگیوں میں قابض عسکری اداروں کی براہِ راست سہولت کاری کا مرتکب تھا۔
انہوں نے کہاکہ اسی طرح گزشتہ مہینے سرمچاروں نے شاہرگ کے علاقے سے ایک اور آلہ کار تاج محمد ولد سلطان محمد سمالانی، سکنہ مارگٹ کو حراست میں لیا۔ دورانِ تفتیش تاج محمد نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے پاکستانی فوج کے ملٹری کیمپ میں کرنل شوکت سے باقاعدہ ملاقات کی تھی، جس کے بعد اس نے قابض فوج کے لیئے مخبری اور سہولت کاری کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس آلہ کار نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے ہی قریبی رشتہ دار آصف ساتکزئی اور نجیب اللہ سمالانی کو قابض فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کروانے کے سنگین جرم میں براہِ راست ملوث تھا، جس کے عوض قابض فوج کے کرنل نے اسے بیس ہزار روپے کی حقیر رقم بطور انعام دی تھی۔
ترجمان نے کہاکہ آلہ کار تاج محمد نے مزید بتایا کہ بعد ازاں اسے فوج کی جانب سے شاہرگ کے علاقے میں بھیجا گیا، جہاں پہنچ کر اس نے اپنے ساتھ مزید دو مخبر ساتھیوں کا نیٹ ورک تیار کیا، جن میں سے ایک خاتون ہے۔ اس آلہ کار نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ شاہرگ میں مزید دو افراد کو فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کروانے کی کوششوں میں مصروف تھا کہ اس سے قبل ہی اسے بی ایل اے کے ہاتھوں حراست میں لے لیا گیا۔ بلوچ قومی عدالت نے آلہ کار تاج محمد کو سنگین ترین قومی جرائم اور وطن دشمنی میں ملوث پائے جانے پر سزائے موت سنائی، جس پر سرمچاروں نے عملدرآمد کر دیا۔
آخر میں کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اس امر کو واضح کرنا اپنا اصولی موقف سمجھتی ہے کہ قابض ریاست کے خفیہ عسکری اداروں کے لیئے مخبری کرنا، یا ان کے سرپرستی میں چلنے والے آلہ کار ”ڈیتھ اسکواڈز” کا حصہ بن کر بلوچ قومی تحریک کے خلاف متحرک ہونا بلوچ، بلوچ وطن اور شہدا کے لہو سے غداری کا ایک ناقابلِ معافی اور سنگین ترین جرم ہے۔ قومی آزادی کی اس فیصلہ کن جنگ میں جو کوئی بھی شخص محض حقیر مالی مفادات، مراعات یا ذاتی دشمنیوں کی خاطر غاصب فوج کا مہرہ بنے گا اور اپنے ہی قوم کی جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی نسل کشی میں دشمن کی سہولت کاری کرے گا، اسے بلوچ قوم، تاریخ اور تحریک کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بی ایل اے کے تمام انٹیلیجنس نیٹ ورکس اور شہری گوریلا یونٹس ہر اس چہرے اور نیٹ ورک پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ایسے تمام اندرونی خطرات اور آستین کے سانپوں کو قومی بقا کے تحفظ کی خاطر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہماری اولین عسکری ترجیح رہیگا۔

















































