انوار الحق کاکڑ بازگشتی کمرے کا مکین
سفر خان بلوچ ( آسگال )
دی بلوچستان پوسٹ
انسانی فطرت کا ایک عجیب اور پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے خیالات، تصورات اور عقائد کے گرد ایسی مضبوط دیواریں کھڑی کر لیتا ہے جن کے پار اسے کوئی حقیقت، کوئی دلیل اور کوئی دوسرا نقطۂ نظر دکھائی نہیں دیتا۔ وہ رفتہ رفتہ ایک ایسی ذہنی دنیا میں آباد ہو جاتا ہے جو صرف اس کی اپنی بنائی ہوئی ہوتی ہے۔ اس دنیا کی بنیاد حقائق، مشاہدات اور اجتماعی تجربات پر نہیں بلکہ اس کی ذاتی پسند، خواہشات، تعصبات اور خود ساختہ تصورات پر قائم ہوتی ہے۔ ایسے افراد کے نزدیک دوسروں کی ہر بات مشکوک، مصنوعی یا بے بنیاد محسوس ہوتی ہے، جبکہ اپنی ہر رائے انہیں آخری سچائی دکھائی دیتی ہے۔ اگر وہ خود کسی غلطی کا ارتکاب کریں تو اسے غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس کے جواز تلاش کرتے ہیں، اور اگر کسی معاملے میں ان کی رائے حقائق کے برخلاف بھی ثابت ہو جائے تو وہ اپنے موقف پر اسی شدت سے قائم رہتے ہیں جیسے وہ پتھر پر لکھی ہوئی کوئی اٹل حقیقت ہو۔ ان کے نزدیک سچ وہی ہوتا ہے جو ان کے ذہن نے قبول کر لیا ہو، اور جھوٹ وہی قرار پاتا ہے جو ان کے خیالات سے اختلاف رکھتا ہو۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ رویہ انہیں حقیقت کی دنیا سے مزید دور لے جاتا ہے۔ وہ اپنے گرد ایک ایسی مصنوعی فضا قائم کر لیتے ہیں جہاں دلیل کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، شواہد کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اور اجتماعی شعور کی کوئی قدر باقی نہیں رہتی۔ وہاں صرف ان کے احساسات، ان کی پسند اور ان کی اپنی تشریحات ہی معیارِ حق و باطل بن جاتی ہیں۔ اگر پوری دنیا ایک حقیقت کی گواہی دے رہی ہو، اگر بے شمار لوگ ایک ہی بات کو اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر بیان کر رہے ہوں، تب بھی وہ اسے تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، کیونکہ ان کے نزدیک حقیقت کا پیمانہ دنیا نہیں بلکہ ان کا اپنا ذہن ہوتا ہے۔ اس ذہنی کیفیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ایسے لوگ اکثر خود کو دوسروں سے زیادہ سمجھدار، باشعور اور دانا تصور کرتے ہیں۔ وہ اپنی رائے کو علم و حکمت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں جبکہ اختلاف کرنے والوں کو جاہل، کم فہم یا گمراہ قرار دیتے ہیں۔
اردو میڈیا میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا مواد دیکھنے یا پڑھنے کو ملتا ہے جو واقعی فکری گہرائی، تحقیقی دیانت اور غیر جانب دارانہ تجزیے پر مبنی ہو۔ بیشتر اوقات خبروں، تبصروں اور پروگراموں کا دائرہ انہی موضوعات اور زاویوں تک محدود رہتا ہے جو پہلے سے طے شدہ بیانیوں کے اندر فٹ بیٹھتے ہوں۔ نتیجتاً قاری اور ناظر حقیقت کے مختلف پہلوؤں تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ صورتِ حال صرف مقامی ذرائع ابلاغ تک محدود نہیں۔ اردو زبان میں کام کرنے والے متعدد بین الاقوامی میڈیا ادارے بھی اکثر اسی روش پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے انتخابِ موضوعات، ترجیحات اور بیانیوں میں وہ نقطہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے جو صاحب اختیار کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ یوں غیر مقبول حقائق یا تو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
گزشتہ روز اتفاقاً یوٹیوب پر ایک پوڈکاسٹ دیکھنے کا موقع ملا جس میں سابق پاکستانی نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ گفتگو کر رہے تھے۔ پوری نشست کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ تاثر ابھرتا رہا کہ وہ ایک ایسی فکری دنیا میں رہتے ہیں جہاں ان کی اپنی رائے ہی معیارِ حقیقت ہے۔ گویا جو کچھ وہ سوچتے ہیں وہی سچائی کا آخری درجہ ہے، اور جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں وہ پتھر پر لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے برعکس باقی دنیا، اس کے تجربات، مشاہدات اور آراء ان کی نظر میں یا تو ناقابلِ اعتبار ہیں یا کسی نہ کسی درجے میں گمراہی کا شکار۔ گفتگو کے دوران ایک اور پہلو بھی نمایاں طور پر سامنے آیا، اور وہ فکری تضاد کا تھا۔ متعدد مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ ایک سوال کے جواب میں پیش کیا جانے والا مؤقف اگلے ہی سوال کے جواب میں کمزور پڑ جاتا ہے یا اس کی نفی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے مختلف خیالات اور دلائل کو ایک مربوط فکری نظام کے تحت پیش کرنے کے بجائے موقع اور موضوع کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہو۔ سیاسیات اور فلسفے کی زبان میں اسے بعض اوقات “انتخابی استدلال” (Selective Reasoning) کہا جاتا ہے، جہاں دلائل کو کسی مستقل اصول کے بجائے مطلوبہ نتیجے کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
تاریخ کے حوالے سے ان کی گفتگو نے بھی خاصا غور طلب تاثر چھوڑا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے تاریخی واقعات، شخصیات اور ادوار کو ان کے اصل سیاق و سباق میں سمجھنے کے بجائے ایک مخصوص بیانیے کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جا رہا ہو۔ بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوا جیسے دنیا بھر کے مؤرخین، محققین اور تاریخ دان ایک طرف ہوں اور تاریخ کی حقیقی تفہیم کا واحد سرچشمہ صرف ان کی ذاتی تعبیر ہو۔ گویا تاریخ کی تمام مستند کتابیں صرف ایک ہی الماری میں رکھی ہوں اور باقی دنیا نے کبھی ان صفحات کو کھول کر دیکھا ہی نہ ہو۔ یہ رویہ دراصل اس ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جسے بعض مفکرین “Echo Chamber” یا “بازگشتی کمرہ” قرار دیتے ہیں؛ یعنی ایک ایسی فکری فضا جہاں انسان صرف انہی خیالات کو سنتا، قبول کرتا اور دہراتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم شدہ تصورات کی تائید کرتے ہوں۔ نتیجتاً اختلافِ رائے اسے علمی چیلنج کے بجائے جہالت محسوس ہونے لگتا ہے، اور متبادل نقطۂ نظر تحقیق کے بجائے سازش دکھائی دینے لگتا ہے۔ مسئلہ کسی فرد کے کسی خاص مؤقف سے اختلاف کا نہیں، بلکہ اس طرزِ فکر کا ہے جس میں اپنی رائے کو حتمی سچائی اور باقی تمام آراء کو ناقص یا بے وقعت سمجھ لیا جائے۔ علم، تحقیق اور دانش کا بنیادی اصول تو یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات کو مسلسل سوالات، دلائل اور حقائق کی کسوٹی پر پرکھتا رہے۔ لیکن جب کوئی شخص اپنے ذہن کے گرد یقین کی اتنی بلند فصیل تعمیر کر لے کہ اس کے پار سے آنے والی ہر آواز غلط اور ہر دلیل ناقابلِ قبول محسوس ہونے لگے، تو پھر مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور صرف بیانیہ باقی رہ جاتا ہے۔
پوڈکاسٹ دیکھتے ہوئے کم از کم مجھے یہی احساس ہوا کہ وہاں مکالمے سے زیادہ ایک ایسا بیانیہ موجود تھا جو خود کو ثابت کرنے میں مصروف تھا، اور جس میں سوالات کے جواب دینے سے زیادہ پہلے سے طے شدہ تصورات کو درست ثابت کرنے کی کوشش نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ ویسے تو یہ پوڈکاسٹ غیر معمولی حد تک طویل تھا، مگر اس کا ایک بڑا حصہ بلوچستان، بلوچ قومی سیاست، مزاحمتی تحریک اور ریاستی بیانیے کے گرد گھومتا رہا۔ پوری گفتگو سنتے ہوئے بار بار یہ احساس پیدا ہوتا رہا کہ یا تو انور الحق کاکڑ بلوچستان کے تاریخی اور سیاسی تناظر کو انتہائی سطحی انداز میں دیکھتے ہیں، یا پھر وہ جان بوجھ کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جس میں الفاظ کی بازی گری (Verbal Gymnastics) اور اصطلاحات کی ازسرِنو تعریف کے ذریعے ایک خاص نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بظاہر گفتگو مدلل محسوس ہوتی ہے، لیکن جب اس کے مختلف حصوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو کئی مقامات پر استدلال میں تضادات، تاریخی ابہام اور منطقی کمزوریاں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ سیاسیات میں ایک اصطلاح “Straw Man Argument” استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مخالف کے اصل مؤقف کو بیان کرنے کے بجائے اس کا ایک کمزور اور مسخ شدہ خاکہ کھڑا کریں، پھر اسی مصنوعی مؤقف کو آسانی سے رد کر دیں۔ پوڈکاسٹ کے متعدد حصوں میں یہی تاثر ابھرتا ہے کہ بلوچ قومی بیانیے کو اس کی اصل شکل میں سمجھنے اور بیان کرنے کے بجائے اس کا ایک ایسا ورژن پیش کیا جا رہا ہے جو آسانی سے تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے۔ مثال کے طور پر جب یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچ “ایک نئی ریاست” بنانا چاہتے ہیں، تو یہ تعبیر بلوچوں کی مؤقف کی مکمل نمائندگی نہیں کرتی۔ بلوچ کسی نئی قومی شناخت یا نئے وطن کی تخلیق کے لئے جدوجہد نہیں کررہے ہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل اور اپنی قومی شناخت کی بحالی کے لئے کررہے ہیں۔ بلوچ ایک ایسی قوم ہیں جو صدیوں سے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور سیاسی وجود کا ایک نمایاں ستون رہی ہے، اور ان کی جدوجہد اسی تاریخی و قومی حیثیت سے متعلق ہے۔
ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ موصوف ایک طرف بلوچستان میں آزادی پسند تحریکوں کے وجود کا اعتراف کرتے ہیں، اور دوسری طرف پوری صورتحال کو صرف دہشت گردی کے دائرے میں سمو دیتے ہیں۔ یہاں مسئلہ اتفاق یا اختلاف کا نہیں بلکہ منطقی تسلسل کا ہے۔ اگر ایک سیاسی تحریک موجود ہے، اگر اس کے نظریاتی، تاریخی اور قومی محرکات موجود ہیں، تو پھر ان محرکات پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔ اور اگر پورے مسئلے کو صرف سیکیورٹی کے مسئلے کے طور پر بیان کیا جائے تو پھر اس کے سیاسی اور تاریخی پہلو پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سیاسیات میں اس رویے کو بعض اوقات “Reductionism” کہا جاتا ہے، یعنی کسی پیچیدہ مسئلے کو اس کے تمام تاریخی، سماجی اور سیاسی عوامل سے الگ کرکے صرف ایک زاویے سے دیکھنا۔
تاریخ کے حوالے سے بھی گفتگو میں کئی مقامات پر یہ تاثر ملا کہ تاریخی واقعات کو ان کے مکمل تناظر میں بیان کرنے کے بجائے منتخب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کوئی ایسی چیز نہیں جسے اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق کاٹ چھانٹ کر پیش کیا جا سکے۔ برطانوی مؤرخ ای۔ ایچ۔ کار نے اپنی مشہور کتاب “What is History?” میں لکھا تھا کہ تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ واقعات کی تشریح بھی ہے۔ لیکن تشریح اور تحریف میں ایک واضح فرق موجود ہے۔ تشریح حقائق کی بنیاد پر کی جاتی ہے جبکہ تحریف حقائق کو مطلوبہ نتیجے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔
مؤرخین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بلوچ قوم صدیوں سے اس خطے میں آباد ہے اور مختلف ادوار میں اس نے سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً میر نصیر خان نوری کا دور بلوچ تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، کیونکہ اس دور کو بلوچ سیاسی تنظیم اور ریاستی استحکام کے حوالے سے نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ پوڈکاسٹ سنتے ہوئے مجموعی طور پر یہ تاثر ملا کہ بحث کا محور حقائق کی کھوج سے زیادہ ایک مخصوص بیانیے کا دفاع تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پہلے نتیجہ طے کر لیا گیا ہو اور پھر دلائل کو اس نتیجے کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہو۔ فلسفے میں اسے “Confirmation Bias” کہا جاتا ہے، یعنی انسان صرف انہی معلومات کو اہمیت دیتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم شدہ خیالات کی تائید کرتی ہوں، جبکہ متضاد حقائق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ کسی بھی قومی یا سیاسی تحریک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اختلاف رکھنے والے فریق کے مؤقف کو دیانت داری کے ساتھ بیان کیا جائے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ پہلے مخالف کے مؤقف کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ وہ خود بھی اس تشریح کو قبول کر سکے، پھر اس پر تنقید کی جائے۔ لیکن جب کسی مؤقف کو مسخ کر کے پیش کیا جائے، اس کی تاریخی بنیادوں کو نظر انداز کیا جائے، یا اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو سادہ نعروں میں تبدیل کر دیا جائے، تو بحث حقیقت کی تلاش سے نکل کر محض پروپیگنڈا اور بیانیہ سازی تک محدود ہو جاتی ہے۔
اسی لیے اس پوڈکاسٹ کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں سب سے مضبوط تاثر یہی ابھرا کہ مسئلہ صرف اختلافِ رائے کا نہیں تھا، بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ ایک پیچیدہ تاریخی اور سیاسی معاملے کو اس انداز میں بیان کیا جا رہا تھا جہاں سوالات سے زیادہ جوابات پہلے سے تیار تھے، اور تحقیق سے زیادہ یقین کو اہمیت دی جا رہی تھی۔ جب کوئی شخص یا ادارہ اس مقام پر پہنچ جائے جہاں وہ خود کو حقیقت کا واحد ترجمان سمجھنے لگے، تو پھر مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور صرف بیانیے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے رہ جاتے ہیں۔
پوڈکاسٹ کے دوران ایک اور بات جس نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، وہ ریاست، تشدد اور مزاحمت کے حوالے سے انور الحق کاکڑ کا مؤقف تھا۔ ان کی گفتگو سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ ریاست کو تقریباً غیر محدود اختیار حاصل ہے؛ یعنی اگر ریاست طاقت استعمال کرے، لوگوں کو گرفتار کرے، قتل کرے، یا ان کے بنیادی حقوق سلب کرے، تب بھی متاثرہ فریق کو مزاحمت یا ردِعمل کا کوئی اخلاقی یا سیاسی حق حاصل نہیں۔ یہ مؤقف سن کر میرے ذہن میں بار بار یہ سوال پیدا ہوتا رہا کہ آخر اس نظریے کی فکری اور فلسفیانہ بنیاد کیا ہے؟ دنیا کی سیاسی تاریخ، فلسفۂ سیاست اور قانون کی روایت کو دیکھا جائے تو شاید ہی کوئی سنجیدہ مکتبِ فکر ایسا ملے جو ریاست کو مکمل اور غیر مشروط اختیار دیتا ہو جبکہ شہریوں سے ہر قسم کے ردِعمل یا مزاحمت کا حق بھی چھین لیتا ہو۔ درحقیقت جدید ریاست کا پورا تصور ہی “سماجی معاہدے” (Social Contract) کے نظریے پر قائم ہے۔ فلسفیوں جیسے John Locke، Jean-Jacques Rousseau اور Thomas Hobbes نے مختلف انداز میں یہ بحث کی کہ ریاست اپنی قانونی اور اخلاقی حیثیت عوام کی رضامندی اور ان کے حقوق کے تحفظ سے حاصل کرتی ہے۔ اگر ریاست ہی ان حقوق کی پامالی کا ذریعہ بن جائے تو پھر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ریاست کی اخلاقی حیثیت کہاں کھڑی ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ کسی خاص تحریک یا کسی مخصوص سیاسی مؤقف کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ استدلال کی داخلی منطق (Internal Logic) کا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کو ہر حال میں طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عوام یا متاثرین کو کسی بھی صورت مزاحمت کا حق حاصل نہیں، تو یہ ایک ایسا عدم توازن پیدا کرتا ہے جسے سیاسی فلسفے میں “Power Without Accountability” یعنی جوابدہی کے بغیر طاقت کہا جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طاقت کو مکمل اختیار اور استثنا حاصل ہوا، اس کے نتائج اکثر استبداد، جبر اور حقوق کی پامالی کی صورت میں سامنے آئے۔ مزید حیرت اس وقت ہوئی جب گفتگو کے ایک حصے میں موصوف یہ مؤقف اختیار کرتے نظر آئے کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے، لیکن اسی سانس میں مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو قتل کر دیا گیا، فلاں جگہ حملہ ہوا، یا فلاں کارروائی کیوں کی گئی۔ یہاں ایک واضح منطقی تضاد دکھائی دیتا ہے۔ اگر واقعی یہ مان لیا جائے کہ “جنگ میں سب کچھ جائز ہے”، تو پھر کسی بھی فریق کے اقدامات پر اخلاقی اعتراض کی بنیاد کمزور پڑ جاتی ہے۔ اور اگر بعض اقدامات پر اعتراض کیا جا رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں بھی کچھ اخلاقی، قانونی یا انسانی حدود موجود ہیں۔ دونوں مؤقف ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتے۔ منطق کی زبان میں اسے “Double Standard” یا دوہرا معیار کہا جاتا ہے؛ یعنی ایک ہی اصول کو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مختلف انداز میں استعمال کرنا۔ اگر ایک فریق کی کارروائیوں کو جنگی ضرورت کہہ کر جائز قرار دیا جائے، لیکن دوسرے فریق کی ہر کارروائی کو مطلق برائی قرار دیا جائے، تو یہ اصولی استدلال نہیں بلکہ انتخابی اخلاقیات (Selective Morality) بن جاتی ہے۔ اس کی ایک سادہ مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص کہے کہ کھیل میں جیت ہی سب کچھ ہے اور جیت کے لیے ہر حربہ جائز ہے، لیکن جب مخالف ٹیم وہی حربے استعمال کرے تو وہ اسے غیر اخلاقی قرار دینے لگے، تو مسئلہ اصول کا نہیں بلکہ پسند و ناپسند کا رہ جاتا ہے۔ اصول تو وہ ہوتا ہے جو سب پر یکساں لاگو ہو، خواہ نتیجہ ہمارے حق میں آئے یا خلاف۔ اسی طرح بین الاقوامی سیاست میں بھی ریاستوں کے لیے یہ نہیں کہا جاتا کہ جنگ کے دوران ہر چیز جائز ہو جاتی ہے۔ اسی لیے تو جنگی قوانین، انسانی حقوق کے معاہدے، اور بین الاقوامی انسانی قانون وجود میں آئے۔ اگر جنگ میں واقعی سب کچھ جائز ہوتا تو پھر جنگی جرائم، شہری آبادی کا تحفظ، قیدیوں کے حقوق اور دیگر قانونی تصورات کی کوئی ضرورت ہی نہ رہتی۔ پوڈکاسٹ سنتے ہوئے مجموعی طور پر مجھے یہی محسوس ہوا کہ موصوف کے استدلال میں ایک بنیادی فکری تضاد موجود ہے۔
ایک طرف وہ طاقت کے استعمال کے لیے تقریباً غیر محدود جواز فراہم کرتے ہیں، اور دوسری طرف اسی طاقت کے استعمال کے نتائج پر اعتراض بھی کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ جنگ اور تصادم کی منطق کو قبول کرتے نظر آتے ہیں، اور دوسری طرف اسی منطق کے ناگزیر نتائج پر حیرت اور شکوہ بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے ابتدا میں کہا تھا کہ انور الحق کاکڑ کی گفتگو میں ایک طرح کا فکری انتشار اور کنفیوژن محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مختلف مؤقف جب الگ الگ سنے جائیں تو بظاہر مربوط معلوم ہوتے ہیں، لیکن جب انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو کئی جگہ وہ ایک دوسرے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نتیجہ پہلے سے طے ہو اور دلائل بعد میں اس کے گرد ترتیب دیے جا رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ گفتگو سننے والے کے ذہن میں سوالات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ ایک دعویٰ دوسرے دعوے سے ٹکرا رہا ہوتا ہے اور ایک اصول دوسرے اصول کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
پوڈکاسٹ کے دوران ایک اور پہلو جس نے خاص طور پر میری توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، وہ یہ تھا کہ انور الحق کاکڑ بلوچستان میں جاری سیاسی اور مسلح تحریک کو غلط ثابت کرنے کے لیے تقریباً ہر ممکن دلیل اور مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی دلائل کے دوران بعض ایسی مثالیں بھی دی گئیں جو بظاہر ان کے اپنے مؤقف سے متصادم دکھائی دیتی تھیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے اسپین میں کاتالونیا (بارسلونا) اور برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی مثال دی، اور یہ استدلال پیش کیا کہ وہاں علیحدگی یا خودمختاری کے مطالبات سیاسی اور جمہوری ذرائع سے کیے گئے، لہٰذا اگر کسی قوم کو کوئی سیاسی مطالبہ ہے تو اسے اسی راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ دنیا میں مختلف قومیں اپنی قومی شناخت، خودمختاری یا حقِ خود ارادیت کے مطالبات رکھ سکتی ہیں، تو پھر آپ اصولی طور پر یہ مان رہے ہیں کہ ایسے مطالبات بذاتِ خود کوئی غیر فطری یا غیر قانونی تصور نہیں ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں گفتگو میں ایک فکری تضاد محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف پورے مسئلے کو محض دہشت گردی کے دائرے میں رکھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایسی مثالیں دی جاتی ہیں جن کا تعلق قومی حقوق، سیاسی خودمختاری اور حقِ آزادی کی بحث سے ہے۔ اگر مسئلہ صرف دہشت گردی ہے تو پھر اسکاٹ لینڈ اور کاتالونیا کی مثالیں کیوں دی جا رہی ہیں؟ اور اگر ان مثالوں کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ قومیں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف تصورات رکھ سکتی ہیں، تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ معاملہ محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ سیاست، تاریخ اور قومی شناخت کا بھی ہے۔ منطق کی زبان میں اسے “Contradictory Framing” کہا جا سکتا ہے، یعنی ایک ہی مسئلے کو مختلف مواقع پر دو متضاد خانوں میں رکھنا۔ جب ایک مؤقف کسی موقع پر سیاسی مسئلہ قرار دیا جائے اور دوسرے موقع پر اسے صرف سیکیورٹی مسئلہ بنا دیا جائے، تو سامع کے ذہن میں فطری طور پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس کے بارے میں سابق حکومتی اعلی عہدیدار لاعلم ہوں۔ یہ مسئلہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، اس پر بے شمار کتابیں، تحقیقی مقالات، سیاسی تجزیے اور دستاویزات موجود ہیں۔ اس لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کوئی شخص جو اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک پہنچا ہو، وہ اس کے تاریخی، سیاسی اور سماجی پس منظر سے مکمل طور پر بے خبر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ معلومات کی کمی کا نہیں بلکہ ترجیحات اور سیاسی وابستگیوں کا ہے۔
سیاسیات میں ایک اصطلاح “Narrative Management” استعمال ہوتی ہے، یعنی کسی پیچیدہ حقیقت کو ایک مخصوص بیانیے کے اندر محدود کر دینا تاکہ عوام اسے اسی زاویے سے دیکھیں جس زاویے سے آپ دکھانا چاہتے ہیں۔ جب کسی مسئلہ کے تاریخی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کو پس منظر میں دھکیل کر صرف ایک مخصوص تشریح کو بار بار دہرایا جائے تو رفتہ رفتہ وہی تشریح حقیقت کا متبادل بننے لگتی ہے۔ اسی طرح نفسیات میں “Cognitive Dissonance” یعنی فکری تضاد کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جب ایک شخص بیک وقت دو ایسے خیالات یا مؤقف رکھتا ہے جو ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔ ایسی صورت میں اکثر انسان یا تو ان تضادات کو نظر انداز کرتا ہے یا پھر ان کے لیے نئے جواز تراشتا ہے۔
پوڈکاسٹ کے مختلف حصوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو بعض مقامات پر یہی کیفیت محسوس ہوتی ہے،ایک طرف قومی تحریکوں کی مثالیں دی جاتی ہیں، دوسری طرف اسی نوعیت کے مطالبات کو مکمل طور پر غیر سیاسی قرار دیا جاتا ہے۔ پوڈکاسٹ سنتے ہوئے مجموعی طور پر یہی محسوس ہوا کہ انور الحق کاکڑ ایک ایسے فکری دائرے میں گفتگو کر رہے تھے جہاں بعض اوقات ان کے اپنے دلائل ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے تھے۔ ایک طرف وہ ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جو قومی سیاسی مطالبات کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں، اور دوسری طرف وہی مثالیں ان کے بنیادی مؤقف کو کمزور کرتی نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ سامع کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ محض استدلالی کمزوری ہے، یا پھر ایک ایسا بیانیہ جس میں نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہے اور دلائل کو بعد میں اس کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے۔
پوڈکاسٹ میں بارہا ایسا محسوس ہوا کہ بعض دلائل اپنے ہی وزن تلے دب رہے تھے۔ ایک طرف آزادی، خود ارادیت اور قومی تحریکوں کی مثالیں دی جا رہی تھیں، دوسری طرف انہی تصورات کو مکمل طور پر رد بھی کیا جا رہا تھا۔ ایک طرف جنگ اور طاقت کی منطق کو قبول کیا جا رہا تھا، دوسری طرف اسی منطق کے نتائج پر حیرت اور شکوہ بھی کیا جا رہا تھا۔ ایک طرف تاریخ کا حوالہ دیا جا رہا تھا، اور دوسری طرف تاریخ کو اس انداز میں بیان کیا جا رہا تھا کہ وہ پہلے سے طے شدہ نتیجے کی تائید کرتی دکھائی دے۔
فلسفے میں ایک قول مشہور ہے کہ “سب سے خطرناک جھوٹ وہ نہیں ہوتا جو مکمل طور پر جھوٹ ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جس میں کچھ سچائی شامل ہو اور باقی حصے کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ پوری تصویر بدل جائے۔”
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































