کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے رہنما نیاز محمد کی سربراہی میں 6201ویں روز میں داخل ہوگیا۔
جبری لاپتہ راشد حسین کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ نے کہا کہ ان کے ماموں راشد حسین کی جبری گمشدگی کو آٹھ سال مکمل ہو رہے ہیں، تاہم آج تک نہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طویل غیر یقینی صورتحال نے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ راشد حسین کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں ملکی قوانین اور آئینی تقاضوں کے مطابق فوری انصاف مہیا کیا جائے۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مسلسل درد اور بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راشد حسین سمیت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں، انہیں قانون و آئین کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف نہیں ملتا، وی بی ایم پی کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔



















































