قطر: گیس پروسیسنگ مرکز میں حادثے کے بعد 54 افراد زخمی، 18 لاپتہ

29

قطر میں ایل این جی کے ایک بڑے پروسیسنگ مرکز راس لفان انڈسٹریئل سٹی میں حکام کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتہ ہیں۔

قطر انتظامیہ کے مطابق راس لفان انڈسٹریئل سٹی میں ’تکنیکی حادثے‘ کے باعث پہلے دھماکہ ہوا اور پھر بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اُٹھی۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا اور آگ پر کُچھ ہی دیر کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔‘

قطر کی وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ وزارت کے مطابق دھماکہ ایک ’تکنیکی حادثے‘ کے باعث ہوا اور اس کے نتیجے میں گیس کا ’ایسا اخراج نہیں ہوا جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔‘

وزارتِ داخلہ نے مزید بتایا کہ قطری انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس ٹیموں کے تعاون سے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔

قطر انرجی نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھماکے سے پلانٹ کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔ یہ پلانٹ قطر کی مقامی مارکیٹ کو گیس فراہم کرتا ہے۔

ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے کی زور دار آواز دارالحکومت دوحہ میں بھی سنی گئی، جو راس لفان تنصیب کے جنوب میں واقع ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے بعد قطر نے اپنے برآمدی ٹرمینل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔

سرکاری کمپنی قطر انرجی کے مطابق اتوار کی رات اسی کام کے دوران تنصیب میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔

دھماکے کے بعد نقصان کی نوعیت اور حجم ابھی تک معلوم نہیں۔ ابتدا میں حکام نے کہا تھا کہ صرف چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم چند گھنٹے بعد قطر کی وزارتِ داخلہ نے زخمیوں کے کہیں زیادہ اعداد و شمار جاری کیے۔

اس پلانٹ کی یومیہ گنجائش تقریباً 1.4 ارب سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس تھی۔ قطر اسے بجلی پیدا کرنے اور صحرائی علاقوں میں واقع اپنے پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو چلانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔

پلانٹ کی تقریباً مکمل ملکیت قطر کے پاس ہے جبکہ اس میں ایک چھوٹا حصہ ایگزون موبل کا بھی ہے۔

مارچ میں ایرانی میزائل راس لفان میں آ گرا تھا جس سے آگ بھڑک اٹھی اور حکام کے مطابق اس سے ’وسیع‘ نقصان ہوا تھا۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ ایرانی حملوں کے باعث قطر پہلے ہی وہاں پیداوار روک چکا تھا۔

خلیج فارس میں واقع اپنے وسیع سمندری قدرتی گیس کے ذخیرے میں قطر اور ایران کے درمیان شراکت بھی قائم ہے۔ قدرتی گیس کی اسی پیداوار نے قطر کو دولت مند بنایا۔

اے پی کے مطابق قطر نے اسی دولت کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی، الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے قیام اور ایک بین الاقوامی ثالث کے طور پر اپنے کردار کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا ہے۔