جیل میں دھرنے کا نواں دن: زیرِ حراست بی وائی سی رہنماؤں کے منصفانہ ٹرائل کے مطالبات

50

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق آج ہدہ جیل کے احاطے میں جاری دھرنے کا نواں دن ہے، جس میں بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنما، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ شریک ہیں۔

زیرِ حراست بی وائی سی رہنماؤں نے یہ احتجاج نام نہاد ’’فیس لیس ٹرائلز‘‘ (Faceless Trials) اور اپنے بنیادی قانونی حقوق سے مسلسل محرومی کے خلاف شروع کیا ہے۔ ان رہنماؤں نے ان عدالتی کارروائیوں اور اپنی جانب سے مقرر کیے گئے وکلاء کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے، اس کے باوجود ان کی رضامندی کے بغیر عدالتی کارروائیاں جاری رکھی گئی ہیں، جبکہ سرکاری وکلاء ان پر زبردستی مسلط کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ فیس لیس ٹرائلز نہ صرف شفاف انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ زیرِ حراست افراد کو اپنا دفاع کرنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ جب خاندانوں کو اپنے پیاروں سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے اور عدالتی کارروائیاں عوامی نگرانی سے دور منعقد ہوں، تو انصاف، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے خدشات مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔

بی وائی سی نے کہاکہ موجودہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل ایک عدالتی سماعت کے دوران پیش ہوئے، انہوں نے جج پر دباؤ ڈالا اور کہا کہ انہیں بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ اس مداخلت کے بعد مقدمات کو فیس لیس کارروائیوں میں تبدیل کر دیا گیا اور روزانہ کی بنیاد پر سماعتیں شروع کر دی گئیں۔

گزشتہ نو دنوں سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر زیرِ حراست بی وائی سی رہنما شدید گرمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ سخت موسمی حالات کا سامنا کرتے ہوئے پُرامن طریقے سے شفاف اور منصفانہ ٹرائلز اور اپنے قانونی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق احتجاج کرنے والے رہنماؤں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بیبرگ بلوچ، جو ایک معذور شخص ہیں، اپنی جسمانی حالت کے باوجود دھرنے میں شریک ہیں۔ وہ اس سے قبل ایک آپریشن سے گزر چکے ہیں اور مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے اب انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور مجموعی جسمانی حالت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام زیرِ حراست بی وائی سی رہنماؤں کی صحت اور سلامتی کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ یہ رہنما اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے سخت حالات میں بھی اپنا پُرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔