احساسِ ذمہ داری اور احساس
تحریر: زورین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
احساس کیا ہے؟ کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ کیا احساس ہی احساسِ ذمہ داری کو اپنی بطن سے جنم دے گا؟
کوئی بھی جہدکار جب کسی بھی جذبے، سوچ، خیال اور تصور کی بنیاد پر جہد و جہد سے وابستہ ہوتا ہے، وہ ایک عام جہدکار سے لے کر کمانڈر اور کمانڈر سے لے کر قیادت تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ کتنا ہی باعلم کیوں نہ ہو، وہ نیلسن منڈیلا، ڈاکٹر چے گویرا، ہو چی من، ماؤزے تنگ سے لے کر جنرل اسلم بلوچ جیسی عظیم لیڈروں کے فکر و تعلمات سے واقف و متاثر ہو اور جہد و جدوجہد میں شامل ہو کر ان عظیم رہنماؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فخریہ طور پر اپنے آپ کو ان کا پیروکار پیش کرتا ہو۔ اگر اس جہدکار کے اندر مکمل احساسِ مادہ موجود نہ ہو تو اس میں احساسِ ذمہ داری کا بھی عمل غائب ہی ہوگا۔
بے شک تم باصلاحیت ہو، ماہر ہو، محنتی ہو مگر جب احساس کا عنصر موجود نہ ہو یا کم لیول پر ہو تو تمہاری جدوجہد خانہ پری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگی۔ ایسے جہدکاروں اور ذمہ داروں کا تحریک میں ہونا یا نہ ہونا کوئی اجتماعی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ موجودگی انتہائی خطرناک ہوگی۔ ان کی وجہ سے دوسرے احساس مند جہدکاروں کے ذہنوں میں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اپنے عظیم شہداء کے لہو کے قطرہ قطرہ کا احساس، نظریاتی و فکری سنگتی کا احساس، اپنی قومی جنگ اور قومی مقصد کا احساس، اپنی قومی و تنظیمی وسائل کا احساس، ہر اس ماں، باپ، بہن، بھائی اور یتیم بچوں کا احساس جن کے لختِ و جگر اس سرزمین کے لیے قربان ہو چکے ہیں، ہر لاپتہ شخص کے لواحقین کا احساس، اس زخمی دوست کا احساس جو دشمن کی گولی سہہ کر بھی اس کا حوصلہ چٹان جیسے بلند رکھتا ہے، مجھے یاد ہے جب چینی قونصل خانہ کراچی میں فدائی آپریشن کے آخر میں فدائی رئیس وسیم جان نے فدائی رازق بلال جان سے کہا: “اب آخری گولی کا وقت پہنچ چکا، تم مجھے مارو” لیکن بلال کہتا ہے، “میں تمہیں قربان مار نہیں سکتا۔” یہ دردناک اور ارمانوں سے لبریز احساس تم کہاں سے لاتے ہو؟ یہ احساس تمہیں بڑی بڑی کتابوں سے بھی نہیں ملے گا، پھر کہاں سے ملے گا؟
یہ احساس اپنی اندر کی جستجو سے، اپنے ضمیر کو بار بار جھنجوڑنے سے اور اپنے آپ سے بار بار سوال کرنے سے پیدا ہوگا: کیا میں واقعی جہدکار ہوں؟ کیا میں واقعی انقلابی ہوں؟ کیا میں واقعی اپنی ذات سے زیادہ تحریک کو ترجیح دے رہا/رہی ہوں؟ کیا مجھے اس سنگت کا احساس ہے جب فلسفۂ “آخری گولی” پر عمل کرتے ہوئے اس کی کیفیت اس وقت کیا ہوگی؟ کیا مجھے اس ماں کا احساس ہے جو اپنی بیٹی اور بیٹے کے سر پر قومی پرچم ڈال کر انہیں فدائی مشن کے لیے رخصت کرتی ہے؟ اگر ان تمام سوالات کے جوابات میں بے حسی اور نفی پن کے معمولی آثار موجود ہیں تو پھر احساس خود ہی گم شدہ ہے۔ جب احساس وجود نہ رکھتا ہو تو احساسِ ذمہ داری نبھانا صرف دعویٰ بن جاتا ہے، عمل خود ہی فریب ہوگا، ایمانداری اور مخلصی محض الفاظ ہوں گے۔
احساس کسی بھی جہدکار کے کردار کی روح ہوتی ہے۔ احساس کے بغیر کوئی بھی جہدکار کا کردار آج نہیں تو کل زوال پذیری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔
اگر احساس موجود نہیں ہوگا یا ختم ہوگا تو ایسے جہدکاروں سے توقعات اور امید وابستہ کرنا خود کو اپنی ہی ہاتھوں کسی ویرانے میں پھینک دینے کے برابر ہے، کیونکہ بے احساس جہدکار تحریکوں کو دشمن سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ دشمن تو باہر سے تحریک پر وار کرتا ہے، بے احساس جہدکار تحریک کو اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تنظیموں اور تحریکوں کے زوال کی اصل وجہ ہمیشہ بے احساسی رہی ہے، کیونکہ بے احساسی تمام تحریکی اور تنظیمی برائیوں اور خامیوں کا بنیادی کارخانہ ہے۔
احساس مند دماغ ہمیشہ طاقت اور اعتماد پیدا کرتا ہے؛ بے حس دماغ بہانے تراشتا ہے۔ کامیاب لوگ بہانے نہیں بناتے، عمل کرتے ہیں، اور بے عمل لوگ عمل نہیں کرتے مگر بہانے ڈھونڈتے ہیں؛ اس لیے وہ آخر کار ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہر ناکامی اور زوال کے پیچھے بے حسی کا ایک تسلسل ہوتا ہے اور ہر کامیابی احساس کے بیج سے اُٹھتی ہے۔
خود غرضی اگر تحریک کے لیے زہر قاتل ہے تو آپ اندازہ کریں کہ احساس کی غیر موجودگی میں خود غرضی جنم لیتی ہے۔ آج ہم ہر جہدکار کو کم از کم کچھ لمحے ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی ہم اپنی ذمہ داریوں کو احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہے ہیں یا صرف خانہ پری کر رہے ہیں؟
اگر آج بھی ہمیں اپنی تحریک کا احساس نہیں ہوا اور ہم اپنی خلوص اور ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو احساسِ ذمہ داری کے ساتھ پورا نہیں کریں گے تو تاریخ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی بلکہ ہمیں مجرم قرار دے گی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































