امریکی فضائیہ کا بی 52 بمبار طیارہ گر کر تباہ، تمام آٹھ افراد کی موت

17

امریکی فضائیہ کے حکام کے مطابق ایک بی-52 اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیارہ پیر کو جنوبی کیلیفورنیا کے صحرائے موجاوے میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے اڑان بھرتے ہی گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور اس میں سوال عملے کے تمام آٹھ افراد جان سے چلے گئے۔

فضائیہ کے کرنل جیمز ہیز نے حادثے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا: ’آٹھ انجنوں پر مشتمل جیٹ طیارہ جو جوہری اور روایتی بموں کی وسیع اقسام لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک معمول کے آزمائشی مشن پر تھا جب زمین سے بلند ہونے کے فوراً بعد ایڈورڈز کے رن وے پر گر کر تباہ ہوگیا۔

حادثے کے فوراً بعد جائے وقوعہ سے اٹھنے والا سیاہ دھویں کے بادل کئی میل دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔

کرنل جیمز ہیز نے بتایا کہ طیارے میں سوار ’مخلوط عملہ‘ سرکاری سویلین افراد، سرکاری ٹھیکیداروں اور وردی پوش فوجی اہلکاروں پر مشتمل تھا۔

 فضائی و دفاعی شعبے کی بڑی کمپنی بوئنگ، جس نے اس طیارے کو ڈیزائن اور تیار کیا تھا، نے کہا کہ اس کے دو ملازمین بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔

کرنل جیمز ہیز نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ پرواز ریڈار کی جدت کے ایک پروگرام کی معاونت کے لیے کی جا رہی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

فضائیہ کے حکام نے مرنے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے اور کہا کہ ان کے اہل خانہ کو مطلع کرنے کا عمل ابھی جاری ہے۔

حادثے کے مقام کی فضائی ویڈیو، جو لاس اینجلس سے تقریباً 161 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، میں صحرا کی زمین کا ایک جلا ہوا حصہ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا اور جو ایک فٹ بال گراؤنڈ سے بھی بڑا تھا جبکہ ایک ہنگامی گاڑی مقام کے اطراف گشت کرتی ہوئی دیکھی گئی۔

فاصلے سے لی گئی ویڈیو میں ملبے کے بڑے ٹکڑے واضح طور پر نظر نہیں آئے۔

کرنل جیمز ہیز نے کہا کہ رن وے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ’ہم کم از کم منگل تک ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر تمام سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں‘، تاہم بیس سے باہر کی کارروائیاں معطل نہیں کی جائیں گی۔

ایڈورڈز، جو 1930 کی دہائی میں ایک خشک جھیل کے کنارے قائم کیا گیا ایک وسیع آزمائشی پروازوں کا مرکز ہے، جو صحرائے موجاوے کے تقریباً 1,245 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے، جس کی وجہ سے یہ امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا فضائی اڈہ ہے۔

اس مرکز کی تجرباتی ہوابازی کی تاریخ میں چک ییگر کی جانب سے 1947 میں بیل ایکس-1 طیارے میں آواز کی رفتار توڑنے والی پرواز، ایکس-15 طیارے کی آزمائشی پروازیں اور ناسا کے خلائی شٹلز کی پہلی لینڈنگز شامل ہیں۔

حادثے کا شکار ہونے والا بی-52 اسٹریٹوفورٹریس، ایک طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا ذیلی صوتی طیارہ ہے، جو 70 ہزار پاؤنڈ تک ہتھیار اور سازوسامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فوج کے مطابق طویل عرصے سے امریکی عملے کے زیرِ استعمال اسٹریٹجک بمبار بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔

فضائیہ کی ایک معلوماتی دستاویز کے مطابق، یہ جھکے ہوئے پروں والا طیارہ امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے میں موجود وسیع ترین اقسام کے ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں کلسٹر بم، گریویٹی بم، درست نشانہ لگانے والے میزائل اور جوہری وارہیڈز شامل ہیں۔

یہ 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کی جنگی پرواز کی حد ایندھن بھرے بغیر 8 ہزار میل سے زیادہ ہے۔

جنیوا میں قائم دنیا بھر کے فضائی حادثات کا ڈیٹا جمع کرنے والے ادارے بیورو آف ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹس آرکائیوز کے مطابق پیر کو پیش آنے والا یہ واقعہ مئی 2016 کے بعد بی-52 اسٹریٹوفورٹریس طیارے کا پہلا حادثہ تھا، جب اسی نوعیت کا ایک بمبار طیارہ گوام کے جزیرے پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار تمام سات افراد زندہ بچ گئے تھے۔

بی-52 کے صرف ’ایچ ماڈل‘ اب بھی امریکی فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہیں اور ان کی اکثریت شمالی ڈکوٹا اور لوئیزیانا میں تعینات ہے۔

پیر کو حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 412 ویں ٹیسٹ وِنگ کے زیرِ استعمال تھا، جس کا مرکز ایڈورڈز میں واقع ہے۔