اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد ایران نے دوبارہ آبنائے ہرمز بند کر دی

11

ایران نے ہفتے کے روز امریکہ کے ساتھ عارضی معاہدے کو دو دھچکے دیے۔ لبنان میں اسرائیل کے مسلسل حملوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ اس کے مذاکرات کار اگرچہ سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں، لیکن وہاں زیادہ پیش رفت کا امکان نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سب سے پہلے ایران کی مشترکہ عسکری کمان نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔ بیان میں اسرائیلی حملوں اور امریکہ کی ’بد نیتی اور ’واضح طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا۔ سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

اس کے کچھ دیر بعد سرکاری نشریاتی ادارے نے اعلان کیا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’کچھ ہی دیر میں‘ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہی ہے، یہ وہ دورہ ہے جو اصل میں جمعہ کو ہونا تھا۔

جمعہ کو امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دونوں سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سوئٹزرلینڈ جانے کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

جنگ بندی کے بعد سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں جہاں وہ جیرڈ کشنر (صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد) کے ساتھ شامل ہوں گے، جو پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی بھی ہفتے کے روز وہاں پہنچیں گے۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اشارہ دیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، پیش رفت محدود رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ دورہ دراصل دوسرے فریق سے اس کی ذمہ داریوں کی تکمیل کا مطالبہ کرنے کے لیے ہے۔‘ ان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات تب ہی شروع ہوں گے جب بنیادی وعدوں پر عمل ہوگا، ورنہ ’مفاہمتی یادداشت پورے طور پر خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

معاہدے کے بعد سٹریٹ آف ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی تھی، تاہم اب یہ پیش رفت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

اسرائیلی حملوں میں لبنان میں کم از کم 16 افراد ہلاک

اس سے قبل ہفتے کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب چند گھنٹے پہلے وہاں جنگ بندی کے معاہدے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نبطیہ شہر اور قریبی دیہات پر ہونے والے حملوں کے بعد 7 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تازہ جنگ میں مجموعی اموات 4,000 سے تجاوز کر چکی ہیں۔

مصالحت کار لڑائی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ جمعہ کو ہونے والی شدید جھڑپوں میں لبنان میں کم از کم 47 افراد اور چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔