قانون یا جبر؟ ہمارے مقدمات اور عدالتی عمل پر سوالات
تحریر: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج (بروز اتوار) جیل میں ہمارے دھرنے کا آٹھواں دن ہے۔ اس دھرنے میں بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ شامل ہیں۔ جیل کے اندر یہ ہمارا پانچواں دھرنا ہے، تاہم یہ پہلا دھرنا ہے جو 192 گھنٹوں سے جاری ہے۔
13 جون کو جب ہمیں پیشی کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لے جایا گیا تو وہاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ہم نے فوری طور پر احتجاج کیا اور اپنے بیرکوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تب سے ہم جیل کے احاطے میں اپنا پرامن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس دھرنے نے ہماری مزاحمتی جدوجہد کی بے شمار یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ سردی ہو یا گرمی، ریاستی تشدد ہو یا پابندیاں، ہم نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ تمام چہرے، جو جبری گمشدگیوں، قتل و جبر اور مسلسل ریاستی تشدد کے باوجود ثابت قدم رہے، آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں۔ ہم نے اماں حوری، لمہ زرگل ، ادی مہر جان اور ان تمام ماؤں کو یاد کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کے باوجود ہمت اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
اسی طرح راجی مچی اور 22 مارچ کوئٹہ دھرنے کے وہ تمام مناظر بھی ہمارے سامنے آگئے، جب پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ یہ تمام یادیں محض ماضی کے واقعات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی مزاحمتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ یہی یادداشتیں ہماری اصل وراثت ہیں، ایک ایسی وراثت جسے کوئی ریاست، کوئی جبر اور کوئی قید ہم سے چھین نہیں سکتی۔
ہمارے دھرنے کے دو بنیادی مطالبات ہیں: اول، ہمارے مقدمات کی سماعت اوپن کورٹ میں کی جائے؛ دوم، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کا تبادلہ کیا جائے۔
ہمیں ابتدا میں 3MPO کے تحت حراست میں لیا گیا، اس کے بعد اٹھہتر دن تک ریمانڈ پر رکھا گیا۔ 11 اکتوبر سے ہمارے جیل ٹرائل کا آغاز ہوا، اور اب 12 جون کو چیف سیکریٹری کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ہمارے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اب بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک میں قانون جمہوری اصولوں کے مطابق چل رہا ہے؟ کیا بلوچ کو واقعی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے؟ جب مقدمات کی شفاف سماعت کے بجائے ایسے طریقہ کار اختیار کیے جائیں جو ملزمان اور ان کے وکلاء کو مزید محدود کر دیں، تو انصاف کی فراہمی کے دعوے اپنی معنی کھو دیتے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں حالیہ ترامیم نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو طویل مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہی قوانین کے تحت نام نہاد انٹرنمنٹ یا ڈیٹنشن مراکز میں میرے کزن سیف اللہ سمیت سینکڑوں بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو قید رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے یا ریاستی طاقت کو مزید وسعت دینا؟
ہمارے مقدمات کے دوران عدالتی عمل کے کئی ایسے پہلو سامنے آئے جنہوں نے ہمارے خدشات کو مزید گہرا کیا۔ ایک پیشی کے دوران بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل خود کمرۂ عدالت میں موجود تھے اور جج پر زور دے رہے تھے کہ مقدمات کو تیزی سے چلایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے تاکہ جلد از جلد فیصلے سنائے جا سکیں۔ اس موقع پر جج نے انہیں جواب دیا کہ مقدمات کا فیصلہ ان کے نہیں بلکہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔
اس سے قبل انہی نوعیت کے متعدد مقدمات میں ہمیں ضمانتیں دی جا چکی تھیں، مگر 16 نومبر کو جج محمد علی مبین نے مختلف مقدمات میں ہماری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک ہی مقدمے میں میری ضمانت منظور کی گئی جبکہ اسی مقدمے میں بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔ اس طرح تمام کیسیز پر میریٹ پر فیصلہ کرنے کے بجائے ضمانت کے کیسیز کو بیلینس کیا گیا جس سے ہمیں قید بھی رکھا جاسکے اور عدالت کے غیر منصفانہ کاروائی پر پردہ بھی ڈالا جاہیں ۔دورانِ سماعت ہمیں بارہا کہا گیا کہ ’’جا کر اپنا مسئلہ کہیں اور حل کریں، میں کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ہمارا جواب ہمیشہ یہی تھا کہ آپ کے سامنے قانون موجود ہے، آپ قانون اور انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔













































