بلوچ لبریشن آرمی نے کوئٹہ میں عسکری شٹل ٹرین پر حملہ آور بلال شاہوانی کی ویڈیو شائع کردی

5

بلوچ لبریشن آرمی کے آفیشل چینل ہکل نے کوئٹہ میں ایک عسکری شٹل ٹرین پر فدائی حملے کرنے والے بلال شاہوانی عرف سائیں کا وڈیو پیغام جاری کردیا۔

ویڈیو کیساتھ لکھا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی نقل و حرکت کی نگرانی کی بنیاد پر زراب یونٹ کی انٹیلی جنس معلومات اور بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کے فدائی بلال شاہوانی عرف شاہین نے پاکستانی فوج کو ایک شدید دھچکا پہنچایا۔

مزید لکھا گیا کہ مشکاف میں جعفر ایکسپریس کے ہائی جیک ہونے کے بعد پاکستانی فوج نے اپنی نقل و حرکت کا طریقہ تبدیل کر دیا تھا اور کوئٹہ کینٹونمنٹ سے شہر کے اندر چمن پھاٹک ریلوے اسٹیشن تک شٹل ٹرین سروس استعمال کرنا شروع کر دی تھی۔ اس شٹل ٹرین کو اس سے پہلے نشانہ بنایا گیا جب وہ شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن تک پہنچ پاتی۔

کوئٹہ حملے سے قبل مبینہ طور پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی میں سوار بی ایل اے مجید برگیڈ فدائی، بلال شاہوانی عرف سائیں کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ “سنگت میں اپنی سواری میں بیٹھا ہوں، دشمن کیلئے عید کا تحفہ لے جارہا ہوں، لمبے عرصے اس وقت کے انتظار میں تھا، تین مہینے ہورہے ہیں، اب دشمن کو ایک پیغام دینا ہے۔”

وہ کہتے ہیں کہ ایک کاری ضرب لگانا ہے، جنگ جاری ہے، قوم سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آئے اس جنگ کا حصہ بنیں۔ شہیدوں کے نام پر قربان جنہوں نے اپنے عمل سے قوم سمجھایا، خود جاکر ٹکڑے ٹکڑے ہوئیں۔

اپنے پیغام میں بلال شاہوانی کہتا ہے کہ دشمن کیساتھ دنیا کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ چاہے جیسی بھی ایٹمی طاقت ہو، پاکستان، چین، جو بھی ہو۔ بقول جنرل استاد اسلم کے کہ ‘خوشی سے کوئی یہاں ہمارے وطن سے ایک پتھر بھی نہیں لے جاسکتا ہے۔ہاں، ہماری کمزور ی یا نالائقی سے شاید کچھ لے جائیں،ویسے کچھ بھی نہیں لے جا سکتے ہیں۔

ویڈیو میں ایک اور منظر میں اپنے آخری پیغام میں مجید برگیڈ فدائی بلال شاہوانی کہتا ہے کہ سب سے پہلے اپنے مادر وطن کے شہیداء کو سلام پیش کرتا ہوں، قربان ان کے پاؤں کے دھول پر جنہوں نے ہمارے لیے، اور آنے والی نسلوں کیلئے خود کو قربان کردیا، ہمارے ہر شہید نے اپنی بات قوم تک پہنچائی اور دنیا کو پیغام دیا کہ تم بلوچستان سے ایک پتھر بھی نہیں لے جاسکتے ہو۔

وہ کہتا ہے کہ چاہے وہ چین، پاکستان یا دنیا کی کوئی بھی ایٹمی طاقت ہو،جب تک بلوچ رضا مند نہیں ہوگی اس سے کچھ بھی نہیں لے جاسکتے ہو اور قوم کو تمام باتیں معلوم ہے، ہمارے ہر نوجوان نے قربانی دے کر پیغام دیا ہے کہ یہ نوجوان کیوں خود کو قربان کررہے ہیں۔ ہم سب کو پتہ ہیں کہ ایک غیر، ایک قبضہ گیر نے ہم قبضہ کیا ہے۔وہ ایک ایسا قبضہ گیر ہے جس کی کوئی تاریخ نہیں ہے، پنجابی کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔

مزید کہتا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ جس کی تاریخ نہیں ہے اس نے ایک تاریخی ملک (بلوچستان) پر قبضہ کیا ہے۔ ہمارے ہر شہید نے قوم کو پیغام پہنچایا کہ بغیر جنگ اور بغیر بندوق کے ہمارے ملک میں کبھی بھی امن نہیں آسکتا ہے۔ قبضہ گیر کو نکالنے کیلئے خود کو قربان کرنا ہوگا۔

فدائی بلال کہتا ہے کہ اپنا لہو بہانا ہوگا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہے،ہم سب جانتے ہیں کہ وہ (پاکستان) ہمارے سائل و وسائل کے لیجانے کے علاوہ بلوچ نسل کشی کررہی ہے۔ پاکستانی فوج، ایف سی، سی ٹی ڈی، پولیس ہمیں روزانہ قتل کررہے ہیں، اس کے علاوہ کئی پالیسیز ہم پر مسلط کردیئے ہیں۔ ہزاروں نوجوان منشیات کے چنگل میں پھنس چکے ہیں، جو نالوں میں پڑے ہیں اور اپنے والدین کو بھی نہیں پہچانتے ہیں۔ اس کے علاوہ قبائلی جنگوں میں ہم نے اپنے ہزاروں نوجوان بازوؤں کو خود سے جدا کردیا ہے، وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو مارے، اسی میں مصروف رہیں، اپنے قومی جنگ سمجھ نہ سکیں، ہماری اصل جنگ یہ ہے کہ ہم پر ایک غیر نے آخر قبضہ کیا ہے اس کو یہاں سے نکالنا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ کہ دشمن ہمیں اس کیلئے چھوڑنا نہیں چاہتا،اس نے ہمارے قوم کو آپس میں مصروف رکھا ہے۔ایک غیر رات کے تین بجے چوروں کی طرح آتا ہے،تمہارے گھر کی چادر و چار دیواری کو پامال کرتا ہے۔ تمہارے بہنوں اور والدہ کو نیند سے اٹھاتا ہ،تمہیں تمہارے بیوی کے سامنے بنیان میں اٹھاکر مارتے ہوئے لے جاتا ہے۔اس آنکھیں نیچے کرنے والی، بے غیرتی کی زندگی سے آنکھیں اونچی کرنے والی عزت کی موت لاکھوں بہتر ہے۔

وہ مزید کہتا ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جس پر ظلم ہورہا ہے اور وہ خاموش بیٹھا ہے۔ دشمن کہتا ہے کہ ان کو بریش واش کیا گیا ہے، یہ جذباتی ہیں، ایجنٹ ہیں لیکن ہمارے شہداء نے یہ ثابت کردیا، شہید استاد اسلم نے اپنے بیٹھے کو قربان کیا۔کوئی بھی ایجنٹ اپنے اولاد کو ٹکڑے ہونے کیلئے نہیں بھیج سکتا، انسان جتنا بھی جذباتی ہو، جتنا بھی برین واش ہو اپنے معصوم بچوں کو نہیں چھوڑ سکت، ان چیزوں کو ماں شاری، استاد (اسلم) و دیگر نے ثابت کردیا ہے۔

بلال شاہوانی اپنے پیغام میں کہتا ہے کہ اس قبضہ گیر کو نکالنے کیلئے ہر ماں کو شاری اور لمہ یاسمین بننا ہوگا، ہر والد کو استاد اسلم بننا ہوگا، ہر بہن کو سمعیہ اور بہن ماہل کی طرح بننا ہوگ،ہر بھائی کو ریحان جان اور سربلند بننا ہوگا،پھر اس قبضہ گیر (پاکستان) کو نکال سکیں گے، بغیر لہو اور قربانی کے کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔

مجید برگیڈ فدائی کہتا ہے کہ آخر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے قومی فوج بلوچ لبریشن آرمی کا شکر گزار ہوں۔ان ساتھیوں فدائی درویش، فدائی ریحان جان نے خود کو ٹکڑے کرکے اس راہ کی بنیاد رکھی اور بلوچ لبریشن آرمی نے اس راہ کو مضبوطی سے عمل کو آگے بڑھاکر یہاں تک پہنچایا،ساتھیوں ‘رخصت نہیں، ایک ساتھ ہیں۔