بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کوئلے کی ایک کان میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 34 مزدور ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امدادی کارکن لاپتہ کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب واقع ایک کان میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق یہ دھماکہ کان کے اندر میتھین گیس بھر جانے کے باعث ہوا جس کے فوراً بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا جو رات گئے تک جاری رہیں۔
جمعے کی صبح بلوچستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ’موقعے پر تعینات کی گئی ٹیموں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اب تک 34 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔‘
انتظامیہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کان کے اندر پھنسے باقی ماندہ کان کنوں کا سراغ لگانے اور انہیں نکالنے کے لیے مشترکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔‘ تاہم محکمے کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت کان کے اندر مجموعی طور پر کتنے مزدور کام کر رہے تھے۔
واضح رہے بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات غیر معمولی نہیں ہیں۔
حفاظتی اقدامات کے فقدان، ناقص آلات اور پرانے طریقوں کے باعث اکثر ایسے جان لیوا واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں غریب مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔



















































