ظفر جان : ذہانت، بہادری اور خوبصورت کردار کی لازوال داستان – درشان بلوچ

136

ظفر جان ~ ذہانت، بہادری اور خوبصورت کردار کی لازوال داستان

تحریر: درشان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

کبھی کبھی انسان ایسی کیفیت سے گزرتا ہے جہاں الفاظ احساسات کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب احساس ہوتا ہے کہ آپ کو یقین ہو کہ آپ کسی کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ہمیشہ آپ کی نظروں کے سامنے رہا ہو، اُس کی ہر عادت، ہر ادا، ہر مسکراہٹ اور اُس کے کردار کا ہر پہلو آپ کے لیے مانوس ہو، لیکن جیسے ہی قلم اٹھائیں کہ اُس کے بارے میں کچھ لکھیں، اُسے لفظوں میں سموئیں، تو الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ ذہن یادوں سے اس قدر بھر جاتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اگر یہ تمام یادیں الفاظ کا روپ دھار لیں تو شاید کئی کتابیں بھی اُس کی شخصیت، کردار اور عظمت کو مکمل طور پر بیان نہ کر سکیں۔

مگر جب لکھنے کا وقت آتا ہے تو قلم جیسے خاموش ہو جاتا ہے اور الفاظ بے وفائی کر بیٹھتے ہیں۔ بیان و گمان انسان کے اختیار میں نہیں رہتے۔ نہ ایسے الفاظ میسر آتے ہیں اور نہ ہی ایسا قلم، جو ظفر جان جیسی عظیم شخصیت کا حق ادا کر سکے۔

بہرحال، بہت ہمت جمع کرنے کے بعد آج قلم اٹھا پایا ہوں۔ کئی دنوں سے خود کو سنبھالنے اور ہوش و حواس میں لانے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ آپ کے بارے میں کچھ لکھ سکوں۔ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں، قربان، کہ میں آپ کو لفظوں میں مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتا، مگر پھر بھی ایک خام سی کوشش ضرور کروں گا کہ اپنے اس کمزور قلم کے ذریعے آپ کے لیے چند ایسے الفاظ رقم کر سکوں جو میری عقیدت، محبت اور احترام کا ایک معمولی سا اظہار بن سکیں۔

سرمچاری زندگی

پہاڑوں کا اپنا ایک الگ ہی رنگ ہوتا ہے۔ جو شخص شہر کی مصروف اور شور بھری زندگی چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کرتا ہے، اُس کی زندگی یکسر بدل جاتی ہے۔ انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ ایسے ماحول میں اکثر نئے ساتھیوں کو خود کو سرمچاری اور پہاڑوں کی سخت زندگی سے ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے، مگر ظفر جان اُن لوگوں میں سے نہیں تھے۔

آپ نے بولان جیسے سخت و سنگلاخ پہاڑوں، دشوار گزار راستوں اور کٹھن موسموں میں قدم رکھتے ہی خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھال لیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ زندگی آپ کی فطرت کا حصہ ہو۔ آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ کے نزدیک کوئی بھی کام ناممکن نہیں تھا۔ ہر ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھ کر نبھاتے، ہر نئے کام میں بے حد دلچسپی لیتے اور ہر چیز سیکھنے کی لگن رکھتے تھے۔

جتنا بھی وقت آپ کے ساتھ گزارا، کبھی آپ کی زبان پر شکایت نہیں دیکھی۔ کسی بھی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنا یا “نہیں” کہنا آپ کی فطرت میں شامل ہی نہیں تھا۔ ہر مشکل گھڑی میں آپ خود کو سب سے آگے رکھتے اور ہر حال میں اپنے ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے تھے۔

آپ کا مزاج بے حد نرم، مہربان اور محبت کرنے والا تھا۔ آپ کبھی کسی کا غیر ضروری یا طنزیہ انداز میں مذاق نہیں اڑاتے تھے۔ آپ کی گفتگو کا زیادہ تر محور تنظیمی امور، ذمہ داریاں اور مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتی تھی۔ فضول باتوں اور بے مقصد گفتگو میں آپ زیادہ نہیں الجھتے تھے۔

آپ کی ایک خوبصورت عادت یہ بھی تھی کہ عمر میں چھوٹوں کے ساتھ چھوٹے بن جاتے تھے اور بڑوں کے ساتھ پورے وقار کے ساتھ بڑے اور ذمہ دار بنتے تھے۔ آپ کی طبیعت میں سمجھداری، اخلاص، محبت اور بردباری اس قدر رچی بسی تھی کہ ہر ساتھی خود کو آپ کے قریب محسوس کرتا تھا۔ آپ ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے تھے۔

مایوسی آپ کی لغت میں شاید تھی ہی نہیں۔ آپ نہ صرف خود ہر حال میں پُرامید رہتے تھے بلکہ اپنے اردگرد موجود ہر ساتھی کو بھی حوصلہ دیتے، اُس کے اندر امید جگاتے اور ہر مشکل وقت میں اُس کا سہارا بنتے تھے۔ یہی اوصاف تھے جنہوں نے آپ کو محض ایک ساتھی نہیں بلکہ ہر دل عزیز، قابلِ اعتماد اور ناقابلِ فراموش انسان بنا دیا۔

ذہانت

اگر آپ کے کردار کی سب سے نمایاں خوبی کا ذکر کیا جائے تو بلا شبہ میں سب سے پہلے آپ کی غیر معمولی ذہانت کا نام لوں گا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے ذہین اور تیز دماغ لوگوں کو دیکھا ہے، مگر آپ جیسی حاضر دماغی، سیکھنے کی صلاحیت اور فطری ذہانت کسی اور میں نہیں دیکھی۔ آپ ایک انتہائی ٹیکنیکل انسان تھے۔

کئی مرتبہ ہم سب حیران رہ جاتے تھے کہ ایک انسان اتنا تیز ذہن کیسے رکھ سکتا ہے۔ آپ کسی بھی کام کو صرف ایک مرتبہ دیکھتے، اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کے ذہن میں نقش ہو جاتا۔ دوسری بار نہ آپ کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی دوبارہ سیکھنے کی۔ آپ کی یادداشت، مشاہدہ اور سمجھنے کی صلاحیت واقعی غیر معمولی تھی۔

ابتدائی ٹریننگ انتہائی سخت، صبر آزما اور جسمانی طور پر تھکا دینے والی تھی، مگر آپ پہلے ہی دن سے سب سے زیادہ چست، مستعد اور پُرجوش ساتھیوں میں شامل تھے۔ آپ کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ آپ بندوق سے پہلے ہی کسی حد تک واقف تھے۔ پہلی مرتبہ فائرنگ کی مشق کے دوران اکثر ساتھیوں کا نشانہ درست نہیں لگتا تھا، لیکن مجھے آج بھی یاد ہے کہ آپ نے اپنا پہلا ہی نشانہ انتہائی درست لگایا تھا۔ اُس لمحے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ بندوق پر آپ کی گرفت عام نہیں۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے بندوق سے آپ کا برسوں پرانا تعلق ہو۔ آپ نہ صرف بہترین نشانہ باز تھے بلکہ ہتھیار کی ساخت اور اس کی باریکیوں پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ بندوق کو پرزہ پرزہ کھولنا، دوبارہ جوڑنا، کسی بھی خرابی کو فوری طور پر درست کرنا اور اس کا نشانہ برابر کرنا ایسے کام تھے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھے، مگر آپ انہیں نہایت مہارت اور اعتماد کے ساتھ انجام دیتے تھے۔

اسی لیے جب بھی کسی ساتھی کی بندوق میں کوئی خرابی آتی یا نشانہ درست کروانا ہوتا، سب سے پہلے آپ ہی کو یاد کیا جاتا۔ ہر ساتھی اپنا ہتھیار آپ کے پاس لاتا، کیونکہ اسے یقین ہوتا تھا کہ ظفر جان اسے ٹھیک کر کے بہترین حالت میں واپس کریں گے۔ آپ نہ صرف مہارت سے مسئلہ حل کرتے بلکہ دوسروں کو بھی سکھاتے تھے۔

لیکن آپ کی ذہانت صرف جنگی مہارت تک محدود نہیں تھی۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی آپ فوری، پختہ اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ چاہے میدانِ جنگ ہو یا روزمرہ کی کوئی ذمہ داری، آپ ہمیشہ حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے اور ایسا فیصلہ کرتے جو بعد میں درست ثابت ہوتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تنظیم میں آپ کو ایک مخلص، قابلِ اعتماد اور فیصلہ کن ساتھی کی حیثیت حاصل تھی۔

جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ آپ روزمرہ زندگی کے بے شمار ہنر بھی جانتے تھے۔ جیسے بال اور داڑھی بنانا ہو یا معمول کی زندگی سے متعلق دوسرے کام، آپ ہر چیز سیکھنے اور سکھانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ میرے نزدیک آپ کی ذہانت صرف تیز دماغ ہونے کا نام نہیں تھی، بلکہ حالات کو سمجھنے، صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینے، ہر نئی چیز سیکھنے کی بے پناہ لگن اور ہر ذمہ داری کو بہترین انداز میں نبھانے کا نام تھی۔ سچ کہوں تو اپنی زندگی میں، میں نے آپ سے زیادہ ذہین، سیکھنے کا شوق رکھنے والا اور ہر میدان میں خود کو ثابت کرنے والا انسان نہیں دیکھا۔

میدانِ جنگ

اگر میدانِ جنگ میں ظفر جان کی پہچان بیان کرنی ہو تو صرف ایک جملہ کافی ہے: فرنٹ لائن ہی اُن کی شناخت تھی۔ جہاں خطرہ سب سے زیادہ ہوتا، جہاں ہر لمحہ موت سامنے کھڑی ہوتی، وہاں ظفر جان ہمیشہ سب سے آگے دکھائی دیتے تھے۔ مشکل سے مشکل ذمہ داری ہو یا انتہائی حساس مرحلہ، آپ کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ بہادری، حاضر دماغی اور ذمہ داری آپ کی شخصیت کا ایسا حصہ تھیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اگر میں آپریشنِ مشکاف کا ذکر کروں تو وہ ایک ایسی تاریخی جنگ تھی جسے بھلانا شاید کبھی ممکن نہیں۔ اس آپریشن میں آپ فدائی دودا کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود تھے۔ ریل کلیئرنس ہو یا جنگی قیدیوں کو گرفتار کرنے کا مرحلہ، ہر جگہ آپ نے غیر معمولی مہارت، جرات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیاب کارروائی کے پیچھے آپ سمیت کئی سنگتوں کی محنت، استقامت اور قربانیاں شامل تھیں، جنہیں شاید الفاظ کبھی مکمل طور پر بیان نہ کر سکیں۔

مگر میرے ذہن میں اس آپریشن کی ایک اور تصویر ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکی ہے۔

جب تمام ذمہ داریاں مکمل ہو گئیں اور وہ لمحہ آیا کہ فدائی ساتھیوں کو اُن کے عظیم سفر پر رخصت کر کے لشکر نے واپس اپنے اپنے وتاخ کی طرف روانہ ہونا تھا، تو وہ لمحہ ہم سب کے لیے انتہائی کربناک تھا۔ اُن ساتھیوں سے بچھڑنا، جن کے ساتھ چند لمحے پہلے تک ہم ایک ہی محاذ پر کھڑے تھے، دل پر ایک ناقابلِ بیان بوجھ بن گیا تھا۔

ہم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر واپس روانہ ہوئے۔ ہمارے گروپ میں ظفر جان، لالی (سگار)، شہید فرید، اور دیدگ سمیت دوسرے ساتھی شامل تھے۔ طویل جنگ، مسلسل پیدل سفر اور بھاری اسلحہ و سامان اٹھانے کی وجہ سے سب بے حد تھک چکے تھے۔ کچھ فاصلے پر ایک وتاخ میں پہنچ کر ہم نے چند لمحوں کے لیے آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اور ظفر جان ایک ہی جانب بیٹھے آرام کر رہے تھے کہ اچانک فضا کو چیرتی ہوئی ڈرون کی آواز سنائی دی، اور اگلے ہی لمحے یکے بعد دیگرے پانچ گولے برس پڑے۔ دھماکوں کی آواز سے پورا پہاڑ لرز اٹھا۔

میں اور ظفر جان فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، اپنا سامان اور بندوق سنبھالی اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھے۔ تو دیکھا کچھ ساتھی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے اور کچھ شدید زخمی تھے۔

زخمیوں میں سب سے پہلے ہماری نظر شہید فرید پر پڑی۔ ہم فوراً اُن کی طرف دوڑے۔ اُن کے جسم کا زیادہ تر حصہ محفوظ تھا، مگر ایک ٹانگ درمیان سے مکمل طور پر الگ ہو چکی تھی اور خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔

میں اور ظفر جان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے انہیں چادر میں لپیٹا اور پوری طاقت سے اٹھایا، مگر شاید تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جیسے ہی ہم چند قدم آگے بڑھے، ڈرون نے مزید دو گولے داغ دیے۔ شدید دھماکے کی شدت سے ہم دونوں کئی فٹ دور جا گرے اور زخمی ہو گئے۔ اس حالت میں بھی فرید جان کو اپنی جان کی فکر نہیں تھی۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا:

تم لوگ یہاں سے نکل جاؤ… مجھے چھوڑ دو، ظفر… میرا خون بہت بہہ چکا ہے… میں نہیں بچوں گا۔

ظفر جان فرید کے نہایت قریبی ساتھی تھے۔ یہ الفاظ سن کر اُن کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ فرید نے ایک مرتبہ پھر کہا:

قربان… بس مجھے ایک بندوق دے دو تاکہ میں دشمن کے ہاتھ زندہ نہ لگوں۔

یہ وہ لمحہ تھا جب فرید جان کی بہادری دیکھ کر ہم سب کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئے۔

مگر جنگ کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ کمانڈر کے حکم کے مطابق ہم دو ساتھیوں کی صورت میں وہاں سے نکل گئے۔ میں اور ظفر جان ایک ساتھ روانہ ہوئے، مگر وہ رات میری زندگی کی سب سے طویل، سب سے کٹھن راتوں میں سے ایک تھی۔

میں نے صبح سے کچھ نہ کچھ کھایا تھا، مگر ظفر جان نے پورے دن میں ایک لقمہ بھی نہیں کھایا تھا۔ ہمارے پانی کی بوتلیں بھی دھماکوں میں کہیں گر چکی تھیں۔ نہ کھانے کو کچھ تھا، نہ پینے کو پانی۔ ہم پوری رات مسلسل دشوار گزار پہاڑوں میں پیدل سفر کرتے رہے۔

صبح تک بھوک، پیاس اور مسلسل سفر نے ہمیں انتہائی کمزور کر دیا تھا۔ ہمیں یہ خوف ہونے لگا تھا کہ کہیں بھوک کی شدت سے بے ہوش نہ ہو جائیں۔ آخرکار مجبوری میں ہم نے گھاس کھائی تاکہ جسم میں اتنی طاقت باقی رہے کہ چل سکیں۔

وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے تازہ ہے۔

ظفر جان بھی میرے ساتھ گھاس کھا رہے تھے، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اُن کے چہرے پر نہ کوئی شکوہ تھا، نہ مایوسی، نہ پریشانی۔ وہ ہمیشہ کی طرح مسکرا رہے تھے، جیسے یہ سختیاں بھی اُن کے حوصلے کو شکست نہ دے سکیں۔ اُن کی وہ مسکراہٹ آج بھی میری یادوں میں زندہ ہے۔

پانی کی حالت یہ تھی کہ آس پاس موجود ایک چھوٹا سا چشمہ بھی گولہ باری سے خراب ہو چکا تھا۔ اگلے دن دوپہر تک ہم مسلسل پانی کی تلاش میں چلتے رہے۔ پیاس سے ہماری حالت انتہائی خراب ہو چکی تھی۔ بالآخر کافی فاصلے پر ہمیں پانی ملا، مگر وہ نمکین تھا۔ اُس وقت ہمارے لیے وہی نمکین پانی زندگی بن گیا۔ ہم دونوں نے جھک کر جی بھر کر پانی پیا، پھر ایک خالی بوتل ملی جس میں وہی پانی بھر لیا اور مسلسل تین دن بھٹکتے رہے۔

تین دن تک ہم اسی نمکین پانی اور گھاس کے سہارے زندہ رہے۔ تین دن بعد ایک وتاخ پہنچے، جہاں کچھ ساتھی موجود تھے۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی سخت آزمائش، کئی دن کی بھوک، پیاس اور مسلسل سفر کے باوجود ظفر جان نے کبھی اپنے چہرے سے تکلیف ظاہر نہیں ہونے دی۔ وہ پہلے کی طرح ہنس رہے تھے، مسکرا رہے تھے اور دوسروں کو حوصلہ دے رہے تھے۔ ایسے کردار واقعی کم پیدا ہوتے ہیں، جو اپنی تکلیف کو اپنے اندر چھپا کر دوسروں کے لیے امید اور حوصلے کا ذریعہ بن جائیں۔

آپ واقعی ایک ایسے ساتھی تھے جن کے چہرے سے اخلاص، قربانی اور وطن دوستی جھلکتی تھی، اور یہی اوصاف آپ کو ہر دل میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔

مگر یہ پہلا موقع نہیں تھا جب میں نے ظفر جان کی قوتِ ارادی، بے مثال ہمت اور سنگت سے محبت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔

مجھے ایک اور واقعہ آج بھی پوری طرح یاد ہے۔

ہم وتاخ تبدیل کر رہے تھے اور ہمارے ساتھ چند نئے ساتھی بھی موجود تھے۔ راستہ انتہائی دشوار گزار تھا، اونچے اور سنگلاخ پہاڑ، بھاری اسلحہ اور ضروری سامان… ایسی چڑھائی جہاں انسان کے لیے اپنا جسم سنبھالنا ہی ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ اسی دوران ایک نیا ساتھی پھسل کر گر گیا اور اُس کے پاؤں میں شدید موچ آ گئی۔ وہ درد کی شدت سے مزید چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ظفر جان نے ایک لمحہ بھی سوچے بغیر اُس ساتھی کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ صرف ساتھی ہی نہیں، اُس کی بندوق اور سامان بھی ساتھ اٹھایا، جبکہ اپنے ہتھیار اور سامان کا بوجھ بھی اُن کے کندھوں پر موجود تھا۔

ہم سب حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک انسان اتنا وزن اٹھا کر اس قدر دشوار چڑھائی کیسے طے کر سکتا ہے۔ مگر ظفر جان نہ رکے، نہ تھکے اور نہ ہی اُن کے چہرے پر کسی پریشانی یا بوجھ کا احساس دکھائی دیا۔

تقریباً پچاس منٹ تک وہ مسلسل اُس ساتھی کو اپنے کندھوں پر اٹھائے پہاڑ کی بلندی کی طرف بڑھتے رہے، یہاں تک کہ اُسے بحفاظت اوپر پہنچا دیا۔

اس دن ہم سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے، مگر کسی کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ ہم میں سے شاید کوئی بھی یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ آج بھی جب وہ منظر یاد آتا ہے تو دل بے اختیار یہی گواہی دیتا ہے کہ یہ صرف جسمانی طاقت نہیں تھی، بلکہ یہ غیر معمولی صلاحیت، مضبوط ارادہ اور اپنے ساتھیوں سے بے لوث محبت تھی۔

اس کے بعد ہیروف 2 میں بھی آپ کا کردار ہمیشہ کی طرح قابلِ فخر رہا۔ جب آپ شال (کوئٹہ) کے ہزار گنجی میں اپنا فرض انجام دے رہے تھے، اُس وقت بھی آپ نے اپنی حاضر دماغی، بے مثال نشانہ بازی اور غیر معمولی بہادری سے دشمن کو ایک قدم بھی آگے بڑھنے نہیں دیا۔

آپ ایک بلند عمارت پر اپنی پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے اور نہایت مہارت سے دشمن پر مسلسل کاری ضربیں لگا رہے تھے۔ دشمن کے کرائے کے کئی سپاہی آپ کی درست نشانہ بازی (ٹک تیری) سے مردار ہوئے۔ آپ کی جرات اور ثابت قدمی نے دشمن کو آگے بڑھنے نہیں دیا، یہاں تک کہ مشن کامیابی سے مکمل ہوا اور تمام ساتھی بحفاظت واپس نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کامیاب واپسی میں بھی آپ کا کردار ہمیشہ کی طرح نمایاں اور قابلِ تحسین تھا۔

جب ہم اپنا مشن مکمل کر کے بحفاظت وتاخ پہنچے تو وہاں جا کر آپ نے اچانک اپنے اَمیل (جاٹ) کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک گولی آپ کے اَمیل میں لگی تھی، مگر خوش قسمتی سے وہ میگزین میں پھنس گئی تھی۔ اگر وہ میگزین نہ ہوتا تو شاید وہ گولی سیدھی آپ کے جسم میں پیوست ہو جاتی۔

یہ دیکھ کر ہم سب حیران رہ گئے، مگر آپ حسبِ معمول زور سے مسکرا کر ہنسنے لگے اور کہا:

“یار، مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ گولی لگ گئی ہے۔ شاید اُس وقت جھڑپ میں لگی ہوگی جب ہم دشمن پر حملہ آور ہوئے تھیں۔”

یہ جملہ سن کر ہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ اُس وقت آپ کی پوری توجہ صرف دشمن کی نقل و حرکت، ساتھیوں کی حفاظت اور مشن کی کامیابی پر تھی۔ اپنی جان کی پروا کیے بغیر آپ آخری لمحے تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے، یہاں تک کہ دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔

آپ کی نشانہ بازی ایسی تھی کہ جس پر آپ کی نظر ٹھہر جاتی، اُس کا بچ نکلنا شاید ہی ممکن ہوتا۔ کبھی کبھی آپ کی نشانہ بازی دیکھ کر شہید دلجان (ٹک تیر) کی کہانی یاد آتی تھی۔ آپ کی بہادری کے ایسے نہ جانے کتنے واقعات اور کتنی جنگوں کی داستانیں ہیں جنہیں شاید میں کبھی قلم بند نہ کر سکوں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے متعلق لکھنے بیٹھوں تو الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور یادیں ختم نہیں ہوتیں۔

مگر پھر ایک دن اچانک ایک ساتھی نے آ کر کہا:

یار… ظفر جان شہید ہو گئے۔

یہ سنتے ہی جیسے وقت میرے لیے تھم گیا۔ دل نے اس خبر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بے اختیار میری زبان سے صرف ایک ہی سوال نکلا:

کیسے…؟

دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

پھر جب میں نے آپ کا نام دیکھا، رحیم اللہ محمد حسنی عرف ظفر، تو آنکھیں بے اختیار اشک بار ہو گئیں۔ اُس لمحے میرے دل میں صرف ایک ہی لفظ بار بار گونج رہا تھا:

قربان… قربان پُل

جنگ کی شاید سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایسے لوگ بھی لے جاتی ہے جن کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔

آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے

قربان، آپ کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات میری زندگی کے سب سے خوبصورت لمحات تھے۔ مجھے ہمیشہ اس بات پر فخر رہے گا کہ مجھے آپ جیسا عظیم، مخلص اور نظریاتی ساتھی نصیب ہوا۔ آپ کی مسکراہٹ، آپ کا خوبصورت چہرہ، آپ کی باتیں، آپ کا بے ساختہ مزاح اور آپ کا بے مثال اخلاص آج بھی میرے دل میں اسی طرح زندہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ بولان کی وہ طویل راتیں، وہ سنگلاخ پہاڑ، وہ دشوار گزار راستے اور آپ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ ہمیشہ میری یادوں کا حصہ رہے گا۔ جب بھی دوبارہ بولان جانا ہوا تو وہاں کا ہر پہاڑ، ہر پتھر، ہر راستہ اور ہر وتاخ مجھے آپ کی یاد دلائے گا، اور آپ کی یاد مجھے پہلے سے زیادہ مضبوط بنائے گی۔

آخر میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ میں آپ کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ اگر اخلاص، مہر، بہادری، ذہانت، ڈُک خوری اور سنگتی کو ایک ہی شخصیت میں دیکھنا ہو تو وہ شخصیت آپ تھے۔

آج آپ ہمیشہ کے لیے بولان کی آغوش میں آسودۂ خاک ہیں، مگر آپ کا کردار، آپ کی قربانیاں اور آپ کی یادیں کبھی دفن نہیں ہوں گی۔ میں آنے والے ہر ساتھی کو فخر سے آپ کی داستان سناؤں گا تاکہ وہ جان سکیں کہ اس سرزمین پر ظفر جان جیسا انسان بھی گزرا تھا۔ قربان، اگر میری اس تحریر میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو مجھے معاف کر دینا۔ میں ایک بہت معمولی لکھاری ہوں۔ میرے قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ آپ جیسی عظیم شخصیت کا حق ادا کر سکے۔

بس آپ سے ایک وعدہ ہے:

آخری سانس تک آپ کی قربانیوں، آپ کی یادوں اور آپ کے راستے کو کبھی فراموش نہیں کروں گا۔

آپ ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہیں گے۔

اوارُن ظفر جان


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔