کوئٹہ حملہ: بلوچ لبریشن آرمی کی ‘فوجی بردار’ ٹرینوں پر تیسرا مہلک حملہ

1

بلوچستان کا مرکزی شہر کوئٹہ اتوار کی صبح اس وقت ایک زور دار دھماکے سے لرز اٹھا جب کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین، جعفر ایکسپریس، چمن پھاٹک کے قریب حملے کا نشانہ بنی۔ دھماکے کے نتیجے میں ٹرین کی تینوں بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، دو کوچز الٹ گئیں جبکہ ایک بوگی میں آگ بھڑک اٹھی۔

یہ شٹل ٹرین عید کے موقع پر خصوصی طور پر تین بوگیوں کے ساتھ کوئٹہ کینٹ سے پاکستانی فوجی اہلکاروں کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پہنچا رہی جہاں سے جعفر ایکسپریس کے ساتھ اس کو منسلک ہونا تھا۔

حکام کے مطابق ٹرین میں 336 مسافر تھے۔ واقعے میں کم از کم 27 اہلکار ہلاک جبکہ 131 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ہلاک و زخمی اہلکاروں کو کوئٹہ سی ایم ایچ، ایف سی ہستپال اور سیول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی گاڑیوں کو جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ الٹی ہوئی بوگیوں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ امدادی کارکن، پولیس اور فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ چمن پھاٹک کے قریب اس وقت ہوا جب ٹرین کوئٹہ کینٹ سے روانہ ہو کر اپنے روٹ پر گامزن تھی۔ ان کے مطابق انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو بوگیاں مکمل طور پر الٹ گئیں۔

بلوچ مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے کے فدائی یونٹ “مجید بریگیڈ” نے اس کارروائی کو انجام دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹرین میں “قابض فوج کے اہلکار” سفر کر رہے تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔

‘فوجی بردار’ ٹرینوں پر حملے:

یہ واقعہ بلوچستان میں جاری حملوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ بی ایل اے اس سے قبل بھی ریلوے تنصیبات اور پاکستانی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ ان مہلک حملوں میں شامل 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی  بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں انفنٹری اسکول کوئٹہ سے تربیت مکمل کرنے والے فوجی اہلکاروں کو ‘مجید برگیڈ’ نے نشانہ بنایا تھا۔

اسی طرح 11 مارچ 2025 کو بولان کے علاقے میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کیے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اس کارروائی میں بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے سینکڑوں پاکستانی اہلکاروں کو یرغمال بناکر ان کی رہائی مشروط رکھی تاہم بعدازاں فوجی آپریشن کے نتیجے میں تمام یرغمال فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آزادی پسند تنظیمیں اب نہ صرف دور دراز علاقوں بلکہ اہم شہری مراکز اور بنیادی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ریلوے انفراسٹرکچر پر بار بار حملوں نے پاکستان میں سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

آج ہونے والے حملے کے بعد کوئٹہ اور گرد و نواح میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ ریلوے ٹریکس، اسٹیشنز اور حساس تنصیبات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

بلوچستان، جو کئی دہائیوں سے مسلح تحریک جاری حالیہ دنوں وقتوں میں ان مسلح کارروائیوں میں شدت دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جو بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی مضبوطی نشاندہی کرتی ہے۔