پروفیسر غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت؛ کوئٹہ اور نصیر آباد میں شمعیں روشن، تقریبات کا انعقاد

2

پروفیسر غمخوار حیات کی علمی اور ادبی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ اور نصیر آباد میں اُن کی یاد میں تقریبات منعقد کی گئیں اور شمعیں روشن کی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق بی ایم سی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن الائنس کی جانب سے بی ایم سی میں پروفیسر اور دانشور غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی واک کا انعقاد کیا گیا۔

واک کے اختتامی مقام پر بلوچ ادب کے لیے اُن کی انتھک خدمات اور تعلیمی شعبے کے لیے اُن کی بے لوث وابستگی کو خراج پیش کرنے کے لیے شمعیں روشن کی گئیں۔

اس موقع پر طلبا نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ، پروفیسرز، دانشور اور اہلِ علم ہمارے معاشرے اور قوم کے بنیادی ستون ہیں، جن کے بغیر ہم کسی بھی صورت آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا فقدان ہمارے ادبی حلقے کے لیے ایک المناک نقصان ہے۔

علاوہ ازیں، نصیر آباد میں بھی طلبا اور اساتذہ نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شمعیں روشن کیں اور اُن کے قتل کو بلوچ دانش پر حملہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کو گزشتہ دنوں نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کی فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔

پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب، مترجم، افسانہ نگار اور انشائیہ نگار تھے۔ انہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور تقریباً بیس کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔

ان کے قتل پر سیاسی، سماجی، ادبی اور علمی حلقوں سمیت اُن کے قارئین نے شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ غمخوار حیات کی شہادت سے نہ صرف براہوی ادب بلکہ علم و دانش کی دنیا کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔