فدائی عطاء بلوچ: موجوں کی سرگوشی – نوھک بلوچ

103

فدائی عطاء بلوچ: موجوں کی سرگوشی

تحریر: نوھک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مدتوں سے اس شہر کی گلیوں میں تمہارے آنے کی خاموش آہٹ گونج رہی ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہر موڑ، ہر دیوار اور ہر راستہ اب بھی تمہارے قدموں کی چاپ کا منتظر ہو۔ اب اس شہر کے لوگ بھی تمہاری راہ تکتے ہیں۔ مدتوں سے اس شہر کی گلیاں، کوچے اور پہاڑ تمہاری آمد کے منتظر ہیں۔ جیسے اس شہر کی ہر دیوار، ہر راستہ اور ہر درخت نے تمہارا نام اپنی خاموشی میں محفوظ کر رکھا ہو، اور سب ایک ہی لمحے کے انتظار میں ہوں کہ تم آؤ، تاکہ اس شہر کی رکی ہوئی سانسیں پھر سے چلنے لگیں۔

انتظار۔۔۔ ہاں، انتظار! شاید یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

یہاں ہر شخص کسی نہ کسی انتظار کے سہارے زندہ ہے۔ کوئی اچھے دنوں کی آمد کا منتظر ہے، کوئی غموں کے بوجھ سے نجات کی ساعت گن رہا ہے۔ کسی کی نگاہیں اپنے کسی عزیز کی لاش کے انتظار میں پتھرا چکی ہیں، تو کوئی اپنے پیاروں کے زندہ و سلامت لوٹ آنے کی امید سے اب تک بندھا ہوا ہے۔

یہ ایسا زمانہ ہے جہاں زندگی سے زیادہ انتظار زندہ ہے، جہاں ہر دروازے پر ایک امید دستک دیتی ہے، مگر اکثر لوٹتی ہوئی صرف خاموشی ہوتی ہے۔ یہاں وقت نہیں گزرتا، صرف انتظار گزرتا ہے، اور انسان اسی انتظار کی صلیب اپنے کندھوں پر اٹھائے جیتا رہتا ہے۔

کہیں ایک ماں دروازے پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، جیسے ہر گزرتا لمحہ اس کے صبر کا امتحان لے رہا ہو۔ کہیں ایک بہن ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہے، اس امید کے ساتھ کہ شاید آنے والا قدم اس کا اپنا ہو۔ کہیں معصوم بچے اپنے باپ کی واپسی کے خواب آنکھوں میں سجائے، ہر شام دروازے کی سمت دیکھتے ہیں۔ کہیں ایک بھائی اپنے بھائی کی راہ تکتے تکتے موسم بدلتے دیکھ چکا ہے، اور کہیں ایک بیوی برسوں سے اپنے شریکِ حیات کے قدموں کی آہٹ سننے کی آس میں زندگی کے دن گن رہی ہے۔ یہ سب انتظار صرف کسی شخص کا نہیں، بلکہ ان رشتوں کی سانسوں کا انتظار ہے جو بچھڑ جانے کے بعد بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔

مگر اس شہر کو مدتوں سے تمہارے آنے کا انتظار ہے۔ یہاں کی گلیاں، ویران چوراہے اور شکستہ دیواریں تمہارے قدموں کی آہٹ سننے کو بے قرار ہیں۔ پہاڑ اپنی ازلی خاموشی کو سینے سے لگائے اس امید میں ایستادہ ہیں کہ ایک دن تم آؤ گے اور تمہاری گونج سے ان کی خاموشی چیخ میں بدل جائے گی۔ سمندر کی لہریں بھی ساحل سے سر ٹکراتی ہوئی اسی انتظار میں ہیں کہ شاید کسی روز تم لوٹو، اور تمہارے بارود کی گرج سے ان کی موجیں بھی ایک نئے ترانے کی لے میں جھوم اٹھیں۔

مدتوں سے اس سرزمین پر فوجی کیمپ قائم ہیں، جہاں دشمن کے سپاہی پناہ لیے بیٹھے ہیں اور ہر روز انسانیت کو اپنے قدموں تلے روندتے چلے جا رہے ہیں۔ جب شب کی نیم تاریکی میں وہ گھروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوتے ہیں، تو ان کی وحشت اپنے ساتھ صرف خوف ہی نہیں لاتی، بلکہ بے شمار زندگیوں کی روشنی بھی نگل جاتی ہے۔ ان کے گزرنے کے بعد گھروں میں صرف خاموشی، ویرانی اور بچھڑنے والوں کی یادیں رہ جاتی ہیں۔

لیکن کیا تم جانتے ہو کہ یہ لوگ آج تک زندہ کیوں ہیں؟ اس لیے کہ ان کے دلوں میں اب بھی تمہارے آنے کی امید روشن ہے۔ یہی امید ہر شکستہ دل کو نئے حوصلے عطا کرتی ہے، ہر اندھیری رات کے بعد ایک نئی صبح کا یقین بخشتی ہے، اور ہر زخم خوردہ روح کو یہ کہتی ہے کہ انتظار ابھی ختم نہیں ہوا، ایک دن تم ضرور آؤ گے، اور اسی دن اس سرزمین کی خاموشی بھی آزادی کا نغمہ گائے گی۔

عطاء اب تم آنا۔۔۔ اور ان ماؤں کو بتانا کہ میں بھی تمہارا بیٹا ہوں، تمہاری دعاؤں کا امین ہوں، اور تمہارے دکھوں کے بوجھ کو اپنے سینے پر اٹھانے آیا ہوں۔

اے اجمل تم آنا اور گواہی دینا کہ ظلم کے یہ قلعے ہمیشہ قائم نہیں رہتے، دشمن کے کیمپوں کی عمریں بھی وقت کی دھول میں گم ہو جاتی ہیں۔ انہیں گرانے کے لیے صرف بارود کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی مظلوموں کی امید، ان کے حوصلے اور ان کے سائے بھی تاریخ کا رخ بدلنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

تم آنا، تاکہ یہ شہر جان سکے کہ انتظار کبھی بے معنی نہیں ہوتا، امید کی ایک چھوٹی سی روشنی بھی اندھیری راتوں کے سینے میں صبح کا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔

اب تم آنا، اور اس جنگ کی سنیما میں وہ منظر چلانا، جب ناپاک قوتیں اپنے غرور کے بوجھ تلے ٹوٹ کر اپنی شکست کی چیخیں پکار رہی ہوں گی۔ تم آنا اور یہ گواہی دینا کہ ظلم کے محل ہمیشہ قائم نہیں رہتے، اور دشمن کے کیمپوں کی عمر تاریخ کے سامنے بہت مختصر ہوتی ہے۔

اے میری سرزمین کے جندندر (فدائی) عطاء عرف اجمل بلوچ۔

تم آنا اور یہ ثابت کرنا کہ جنگ کی گھڑی کے کانٹے کبھی کبھی صرف چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتے ہیں، جیسے وقت خود کسی بڑے فیصلے کا انتظار کرنے لگا ہو۔ اور انہی ٹھہرے ہوئے لمحوں میں، جب صدیوں کی خاموشی ٹوٹتی ہے، آزادی کی صدا پہاڑوں، وادیوں اور سمندروں تک گونجنے لگتی ہے۔

عطاء جب تم آؤ گے نا، تو میں تمہیں بتاؤں گی کہ اس شہر کی خاموشی نے اپنے اندر کتنے درد دفن کر رکھے ہیں۔ میں تمہیں دکھاؤں گی کہ ان ویران گلیوں نے کتنی آہیں سنبھال کر رکھی ہیں، اور یہاں تمہارے کتنے بھائیوں کی لاشیں مدتوں تک لاوارث پڑی رہیں۔

جب تم آؤ گے تو میں تم سے صرف ایک التجا کروں گی کہ تم دشمن کو بتانا، یہ لاشیں لاوارث نہیں تھیں۔ ان کے پیچھے ماؤں کی دعائیں تھیں، بہنوں کی امیدیں تھیں، اور ان لوگوں کی یادیں تھیں جنہوں نے انہیں کبھی بھلایا نہیں اور میں تمہیں یہ بھی بتاؤں گی کہ مدتوں سے یہ خشک اور بنجر زمین بارش کے ایک قطرے کو ترستی رہی ہے۔ اس نے صرف پانی کا انتظار نہیں کیا، اس نے انصاف، سکون اور زندگی کی کسی نئی صبح کا انتظار کیا ہے۔ اب بھی اس کی پیاسی مٹی کسی ایسے لمحے کی منتظر ہے جب آسمان سے صرف بارش نہیں، بلکہ امید بھی برسنے لگے۔

عطا، جب تم آؤ گے نا، تو تم دیکھو گے کہ تمہاری آمد کی خوشبو ہر گلی میں رقص کر رہی ہوگی۔ ویران راستوں پر بھی امید کے چراغ روشن ہوں گے، اور ہر طرف ایک نئی صبح کے آثار دکھائی دیں گے۔

بچے بچے عید کی خوشی کی طرح تمہارے آنے کا جشن منا رہے ہوں گے، ان کی آنکھوں میں برسوں کے انتظار کے بعد خوشی کے خواب جگمگا رہے ہوں گے۔ تمہاری قربانی کی داستان ہر دل میں ایک نئی امید، ایک نیا حوصلہ اور زندگی پر ایک نیا یقین پیدا کر دے گی۔

بہادر جندندر، جب تم آؤ گے تو شاید یہ شہر پہلی بار محسوس کرے گا کہ طویل انتظار کے بعد آنے والا ایک لمحہ بھی صدیوں کے دکھوں کا مداوا بن سکتا ہے۔

جب تم آؤ گے تو دشمن کو یہ بتانا کہ جبر کبھی نفرت کو ختم نہیں کر سکتا، بلکہ اکثر اسے اور بھی گہرا کر دیتا ہے۔ ہر لاش، ہر گمشدگی اور ہر ویران گھر اپنے اندر ایک ایسی داستان چھپا لیتا ہے جو آنے والی نسلوں کے دلوں میں سوال بن کر زندہ رہتی ہے۔

یہ زخم، یہ خاموشیاں اور یہ بکھرے ہوئے خواب کبھی کبھی لوگوں کے اندر ایک ایسی چنگاری پیدا کر دیتے ہیں جو انہیں اپنے حالات کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی درد، یہی یادیں اور یہی احساسِ ناانصافی مزاحمت کے جذبے کو جنم دیتے ہیں، کیونکہ انسان کی روح ہمیشہ جبر کے سامنے اپنی آزادی اور وقار کی تلاش کرتی رہتی ہے۔

اجمل، اب تم آنا کہ تمہاری قربانی کی خبریں ہواؤں میں خوشبو کی طرح اس شہر کی گلیوں میں پھیلنے لگی ہیں۔ ہر دیوار، ہر راستہ اور ہر خاموش گوشہ تمہاری کہانی کو اپنے اندر سنبھالے ہوئے ہے۔

عطاء، جب تم آؤ گے نا، تو تمہارے بارود کی آواز صرف ایک آواز نہیں رہے گی، بلکہ برسوں سے دلوں میں دبے ہوئے خوابوں کی بازگشت بن چکی ہوگی۔ وہ آواز ان آنکھوں کے خوابوں کو جگائے گی جو مدتوں سے کسی نئی صبح کی منتظر ہیں۔
تمہارے آنے سے معصوم قہقہوں میں ایک نئی روشنی شامل ہو جائے گی۔ بچوں کی مسکراہٹوں میں ایسا احساس ہوگا جیسے برسوں کی تاریکی کے بعد اس شہر کی دہلیز پر عید کا چاند اتر آیا ہو۔ جیسے انتظار کی طویل رات کے بعد امید نے پہلی بار اپنے قدم اس سرزمین پر رکھ دیے ہوں۔

جب تم آؤ گے تو یہاں صرف بارود کی آوازیں نہیں گونجیں گی، بلکہ مقصد کے لیے جینے اور مر مٹنے کا ایک پیغام بھی سنائی دے گا۔ وہ پیغام جو برسوں کی خاموشی کو توڑ کر لوگوں کے دلوں میں ایک نئی روشنی پیدا کرے گا۔

پھر وہ آواز پہاڑوں کے سینوں میں جذب ہو جائے گی، اور اس کی بازگشت گلیوں، کوچوں اور وادیوں میں ایک ایسے استعارے کی طرح پھیل جائے گی جسے خاموش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ صرف ایک آواز نہیں رہے گی، بلکہ ایک یاد، ایک احساس اور ایک امید کی علامت بن جائے گی۔

اور تمہاری قربانی اس شہر کے لوگوں کے لیے امید کا چراغ بن چکی ہوگی، وہ امید جو اندھیری راتوں میں بجھنے کے بجائے اور زیادہ روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ امید جو انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، ہر اندھیری رات کے بعد ایک صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔

زرپہاز! اب تم آؤ اور ہمیں یہ بتاؤ کہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے والا مرگ محض ایک اختتام نہیں ہوتا بلکہ ایک نئی زندگی، ایک نئی سوچ اور آزادی کے احساس کی ابتدا ہوتا ہے۔

اب آؤ، کہ ہمیں اس شہر کی زرد شام کو سرمئی رنگ میں بدلتے ہوئے دیکھنا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ برسوں کی اداسی میں ڈوبا ہوا افق کیسے نئے رنگوں سے بھر جاتا ہے، اور وہ راستے جو مدتوں سے خاموش تھے، کیسے امید کے قدموں کی آہٹ سننے لگتے ہیں۔

عطاء، اب آؤ کہ اس شہر کو ایک نئی صبح کا انتظار ہے، ایک ایسی صبح جہاں یادیں صرف زخم نہ رہیں بلکہ آنے والے وقت کے لیے روشنی کا راستہ بن جائیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔