پروفیسر غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے زیرِ اہتمام اسلام آباد اور ملتان میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں بی ایس سی اسلام آباد نے معروف دانشور، پروفیسر اور ادبی شخصیت پروفیسر غمخوار حیات کی یاد میں ایک یادگاری واک کا اہتمام کیا، جس کے اختتام پر شرکاء نے ان کے اعزاز میں شمعیں روشن کیں اور بلوچ ادب، تعلیم اور فکری شعور کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو یاد کیا۔
دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کی جانب سے بھی شہید پروفیسر غمخوار حیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک شمع روشن ریفرنس منعقد کیا گیا، جہاں مقررین نے خصوصی طور پر براہوئی ادب کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر اظہارِ خیال کیا۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر غمخوار حیات نے اپنی پوری زندگی علم، ادب اور معاشرتی شعور کی ترویج کے لیے وقف کیے رکھی، اور ان کی علمی و ادبی خدمات بلوچ قوم کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
تقریبات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اساتذہ، دانشوروں اور اہلِ قلم کا کردار کسی بھی قوم کے شعور اور مستقبل کی تشکیل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور ان کے افکار و قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کو گزشتہ دنوں نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کی فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔
پروفیسر غمخوار حیات براہوی زبان کے معروف شاعر، ادیب، مترجم، افسانہ نگار اور انشائیہ نگار تھے۔ انہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور تقریباً بیس کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔
ان کے قتل پر سیاسی، سماجی، ادبی اور علمی حلقوں سمیت اُن کے قارئین نے شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ غمخوار حیات کی شہادت سے نہ صرف براہوی ادب بلکہ علم و دانش کی دنیا کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔















































