پروفیسر غمحوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے گذشتہ دنوں نوشکی میں قتل کئے گئے پروفیسر غمخوار حیات کی قتل پر ہدہ جیل کوئٹہ سے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ پروفیسر غمحوار حیات کا نوشکی میں دن دہاڑے بہیمانہ قتل صرف ایک فرد کی جان لینے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ بلوچ ادب، فکری شعور اور قومی شناخت پر براہ راست حملہ ہے۔ ان کی ادبی جگہ، “راسکوہ ادبی دیوان”، جو شاعری، مکالمے اور علمی گفتگو کا مرکز تھی، مسمار کی گئی، انہیں ہراساں کیا گیا، اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر کے سبی منتقل کیا گیا، تاکہ ان کی علمی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔ آخر کار ریاستی حمایت یافتہ قاتل دستوں (جو ڈیتھ سکواڈ کے نام سے جانے جاتے ہیں) نے انہیں شہید کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ قتل بلوچستان میں جاری ایک وسیع اور منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جسے علمی اور فکری نسل کشی کہتے ہیں۔ طاغوتی ادارے اور قبضہ مافیا اس وقت سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں جب پرامن استاد، شاعر اور دانشور نوجوان نسل کو قومی شعور، مادری زبان اور تاریخی حقیقت کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف موجودہ جبر کے لیے خطرہ ہوتے ہیں بلکہ وہ ایک روشن فکری مزاحمت کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جاری یہ منظم علمی نسل کشی محض جسمانی قتل تک محدود نہیں۔ اس کا مقصد بلوچ زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کو جڑ سے اکھاڑنا اور قوم کو فکری طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ریاستی مشینری اور پروکسی ملیشیاؤں کے ذریعے اہل علم، شاعر اور ادیب دن دہاڑے نشانہ بنائے جاتے ہیں، تاکہ نوجوان نسل خوفزدہ ہو کر علم و کتاب سے دور ہو جائے اور قومی وفکری مزاحمت کی کوئی بنیاد باقی نہ رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر غمحوار حیات کے قتل سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ دانشور اور شاعروں کو صرف ان کے قلم اور خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ الگ الگ سانحات نہیں بلکہ بلوچستان میں علمی نسل کشی کے طویل اور منظم تسلسل کی کڑیاں ہیں، جس میں پروفیسر صبا دشتیاری، پروفیسر رزاق، استاد سراج زاہد آسکانی، رفیق اومان اور عبدالرؤف سمیت کئی نامور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حکمت عملی محض تشدد نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور فکری حربہ ہے، جس کا مقصد معاشرے کے مورال کو توڑنا اور تعلیمی اداروں کو خوف کا آماجگاہ بنانا ہے۔ بالادست قوتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خون کی پیاسے نظریات نہیں مرتے بلکہ شہید دانشور کی فکر اور قلم کی سیاہی اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔

بی وائی سی رہنما نے کہا کہ پروفیسر غمحوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہوں، اور اس واقعے کی شفاف، آزادانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ بلوچستان میں جاری علمی نسل کشی کے تمام پہلوؤں پر عالمی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ دنیا اس منظم اور خوفناک مظالم سے آگاہ ہو۔ مزید برآں، ریاستی اداروں کی جانب سے فکری اور ادبی مزاحمت کو دبانے کی منظم پالیسی کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ بلوچ دانشور آزادانہ طور پر علم اور ادب کی خدمت کر سکیں۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ تاریخ نے واضح کر دیا ہے کہ قلم، علم اور فکری مزاحمت کو کبھی گولی یا خوف سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پروفیسر غمحوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے، اور یہ قربانی ہر آنے والی نسل کے لیے مزاحمت، تعلیم اور قومی شناخت کے دفاع کی مثال و تائید کرتی رہے گئی ۔