نوحہ خوانی سے سرمستی تک – عابد میر

1

نوحہ خوانی سے سرمستی تک

 تحریر: عابد میر

دی بلوچستان پوسٹ

براہوئی کہنے کو تو بلوچوں کی دوسری بڑی زبان ہے مگر بدقسمتی دیکھیے کہ اس میں ادب نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوائے شاعری کے کوئی ایسی صنف نہیں، جس میں دو درجن سے زیادہ کتابیں ملتی ہوں۔ بیس پچیس سے زیادہ ناول نہیں، افسانوی مجموعے بہت ہوئے تو چالیس، پچاس سے زیادہ نہیں۔ تنقید کی تو بہ مشکل درجن بھر کتابیں۔ تحقیق بھی بس برائے نام۔

ایسے میں ایک نوجوان اٹھتا ہے اور اپنی اس مادری قومی زبان میں صرف بیس برس میں پچیس کتابیں لکھ ڈالتا ہے۔ شاعری، افسانہ، انشائیہ، کالم نویسی، تحقیق، تنقید، تراجم …. ڈھیر لگا دیئے اس نے۔ میں نے پوچھا، “کوئی شعبہ چھوڑنا بھی ہے کہ نہیں؟” ہنس کر کہا، “سنگت، ہماری زبان میں سارے شعبے خالی پڑے ہیں۔ کوئی تو کام کرے۔ ہم کم از کم خالی جگہ نہیں چھوڑیں گے، آگے آنے والے اسے مزید بھرتے رہیں۔”

ایسا تھا ہمارا یار غمخوار حیات، کل جسے اس کے گھر کے قریب ہی گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ گل خان نصیر کی سرزمین کے اس فرزند کو گل خان کی سال گرہ والے دن (14 مئی) کے آس پاس (16 مئی) کو شہادت نصیب ہونا تھی۔ وہ جو گل خان نصیر اور عبداللہ جان جمالدینی کے قافلے کا سپاہی تھا، ان کی راہ پہ چلتا ہوا، ان ہی کا حصہ بن گیا۔

صدیوں کی محکومی اور پسماندگی سماج کی نفسیات پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایسے سماج میں ایک دوسرے سے حسد، رقابت اور باہمی لڑائیاں روایت بن جاتی ہیں۔ ہمارا سماج بھی ان بدعتوں سے پاک نہیں رہا۔ براہوی میں کُل لکھنے والے اگر پچاس ہیں تو ان کے دھڑے اکیاون ہوں گے۔ اس دھڑے بازی نے زبان و ادب کا دھڑن تختہ کر دیا ہے، یار لوگ مگر ایک دوسرے کی گریبان کشی سے باز نہیں آتے۔

غمخوار ان معدوے چند لوگوں میں سے تھا، جنھوں نے بردارکشی کی اس روایت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ وہ تنظیمیں بنواتا، دوستوں کو اکٹھا کرتا مگر جہاں باہمی تصادم ہوتا، وہاں سے الگ ہو جاتا۔ دھڑے بازی سے دور رہتا۔ اس نے بس اپنا مشن طے کر رکھا تھا کہ کتابیں لکھنی ہیں، بہت ساری لکھنی ہیں، اپنی مادری زبان میں لکھنی ہیں، پہلے مرحلے میں مقدار بڑھانی ہے، معیار کا معاملہ اگلی نسل پہ چھوڑتے ہیں۔

اس نے مادری زبان میں ہی ایم اے کیا، اسی میں ٹیچر لگا، یہی زبان کالج میں پڑھاتا رہا۔ اسی میں لکھتا، پڑھتا اور ترجمے کرتا رہا۔ اس کے افسانوں کی پہلی کتاب (چیدہ) ہم نے مہردر سے چھاپی۔ افسانوں کے پہلے تراجم “مہرنامہ” میں شائع ہوئے۔ مہرنامہ کا تو وہ مستقل حصہ تھا۔ خود لکھنے اور تراجم کرنے کے لیے بس اسے صرف ایک میسج کرنے کی دیر ہوتی تھی۔ سب سے پہلے اس کی تحریر ملتی۔ کبھی یاددہانی کروانے کی ضرورت پیش نہ آئی۔

ایک زمانے میں اس نے “آجوئی دِتر خواہک” (آزادی لہو مانگتی ہے) جیسی انقلابی شاعری بھی لکھی، مگر حالات بدلے، زمانہ بدلا، موسم میں جوں جوں حبس بڑھتا گیا، وہ محتاط ہوتا گیا۔ اس نے اب مقبولِ عام شاعری لکھنا شروع کی۔ کہیں محبوب کو وطن جیسا کہا تو کہیں وطن کو محبوب جیسا۔ اس کی یہ شاعری مقامی گلوکاروں نے گائی اور یہ قریہ قریہ مقبول ہوئی۔ اس کے گیت عوامی قبولیت کی سند کے درجے کو پہنچے۔

مگر اسے شہرت کا خمار کبھی نہ چڑھا۔ وہ ہمیشہ ایک عاجز کل وقتی ادبی کارکن رہا۔ اسلام آباد کے ادبی میلے میں عموماً یہ مسئلہ ہوتا کہ انتظامیہ کے دوستوں کے وسائل کی قلت کے باعث یہاں کے دوستوں کو پبلک ٹرانسپورٹ سے آنے کی گزارش کی جاتی تو اشرافیائی فیسٹیولز کے عادی ہمارے سینئرز ناک بھوں چڑھا لیتے کہ ایئر ٹکٹ کے بغیر ہم تو نہیں جاتے۔ ایسے میں حسن ناصر اور غمخوار جیسے دوستوں کو بس ایک فون کال کرنے کی دیر ہوتی تھی، آگے سے جواب آتا؛ “جو حکم سنگت۔” اور ایسا وہ کسی تعیش کے شوق میں نہیں، قومی فکر کے ساتھ کرتے تھے۔ غمخوار کہتا تھا، اصل بات اپنی زبان کی نمائندگی کی ہے، وہ ہمیں ہر صورت ہر جگہ کرنی چاہیے، باقی باتیں غیرضروری ہیں۔

ایسے کمیٹڈ فکری ورکر کی بے وقت جدائی زبان و ادب کا، ہم سب دوستوں کا، خاندان کا نقصان تو ہے ہی لیکن جو مبینہ الزامات اس پر لگائے جا رہے ہیں، وہ اس سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ غمخوار کا لکھا ہوا ایک ایک حرف کتابوں میں محفوظ ہے، اس نے بلاشبہ اپنے وطن کی سرفرازی کے نغمے گائے، اپنی دھرتی پر امن کے خواب دیکھے، اپنے ہم وطنوں کو آسودہ و خوشحال دیکھنا چاہا، یہ اگر جرم ہے تو اس دھرتی کا ہر فنکار، ہر تخلیق کار مجرم ہے۔ اگر غمخوار کے گیت کسی “تنظیم” کے لیے ہیں، تو ہم سب کا لکھا ہوا ان تنظیموں کے لیے ہے۔ اپنے وطن کی سرفرازی کی تمنا اگر غداری ہے تو اس دھرتی کا ہر باضمیر لکھاری غدار ہے۔ استحصال اور استعمار کے خلاف لکھنے کو جو اپنے ساتھ دشمنی سمجھتے ہیں، وہ ہم سب کو اپنا دشمن ہی گردانیں۔

غمخوار اگر اپنے گیتوں، اپنی شاعری کے باعث مجرم ہے تو پھر یوسف عزیز اور گل خان نصیر کو بھلے قبر سے نکال کر سولی چڑھا دیں، عبداللہ جان جمالدینی کی قبر پہ پتھر برسائیں، عطاشاد اور مبارک قاضی کو قومی مجرم قرار دے دیں، کہ وہ اسی قافلے کا سپاہی تھا، وہ قافلہ جسے دوام ہے، جس کے لیے عطاشاد نے ہی کہا تھا کہ؛ “سروں کو کاٹنے سے تم افکارِ حیات نہیں مار سکتے!”

اپنے وطن اور اہلِ وطن کے نغمے گانا جرم ہے تو ہم سب مجرم ہیں۔ قاتل اپنی فہرست طویل کر لیں، ان کے ہاتھ تھک جائیں گے، نام کم نہیں پڑیں گے۔ ان کی گولیاں کم پڑ جائیں گی، سینے کم نہیں ہوں گے۔ یہ دھرتی ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی۔ دھرتی کے شہزادوں کا لہو جہاں جہاں ٹپکتا ہے، وہاں سے امیدِ بہار کی نئی کونپلیں ابھر آتی ہیں۔ ایک کلی کا سر چٹخو گے، سو کونپلیں کِھلتی نظر آئیں گی۔ ہماری نوحہ خوانی اب سرمستی کو پہنچ چکی ہے۔ اور سرمستوں کا، عاشقوں کا، دیوانوں کا گنوخوں کا گیت ہے کہ؛
رفتگاں کے قافلے کی پیروی میں مارے جائیں گے
ہم زمیں زادے، گل زمیں پر وارے جائیں گے
دار و زنداں سے جب بھی بلاوا آیا اے وطن!
ناچتے، جھومتے، گاتے عاشق تمہارے جائیں گے
وطن کی اور جانے والے جو بھی ہیں راہرو
قتل گاہوں سے چن کر عَلم ہمارے جائیں گے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔