عزمِ صمیم کمانڈر
تحریر: خالصہ قلندرانی
دی بلوچستان پوسٹ
انسانی شعور کے ارتقاء اور فکری بلوغت کا سفر کبھی بھی بند کمروں کی خاموشی یا محض سنی سنائی روایات پر اندھا یقین کر لینے سے طے نہیں ہوتا۔ جنگ ایک بہتا ہوا دریا ہے، اور جب تک انسان اس دریا میں اتر کر کسی انتہا تک خود غوطہ زن نہیں ہوتا، وہ تاریخ کے ان موتیوں تک نہیں پہنچ سکتا جو تہہ میں چھپے ہیں۔
بہت سے باصلاحیت اور باکمال لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ ان میں صلاحیت اور ہمت کی کمی ہوتی ہے، بلکہ اس لیے ناکام ہوتے ہیں کیونکہ وہ غلط میدان میں مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں یا ان کا تعلق غیر معیاری اور بے ضبط اداروں سے، محدود و سطحی ماحول سے اور کمتر و کم ذہن اور ناقص لوگوں سے ہوتا ہے۔
بلوچ قومی آزادی کی فکری، علمی اور شعوری جنگ کے افق پر کمانڈر شہناز ایک ایسا درخشاں نام ہے، جس کی ہمت و بہادری، پیہم جستجو اور حکمت کو سمجھنا ایک گہرا فلسفہ ہے۔
جب شہناز اپنی ساتھیوں کے ہمراہ مکمل طور پر مسلح اور منظم انداز میں دنیا کے سامنے آ کر باقاعدہ ناپاک دشمن کے خلاف اعلانِ جنگ کرتی ہے تو وہ نہ ہی کوئی کھوکھلا جذباتی فیصلہ لگتا ہے اور نہ ہی شعور سے عاری کوئی جذباتی یا وقتی فیصلہ نظر آتا ہے، بلکہ یہ ایک سلسلہ ہے جس کی بنیاد بلوچ تاریخ میں بہت سارے کرداروں نے پہلے ہی رکھی ہے۔
عصرِ حاضر کی جدوجہد میں جو نمایاں کردار جنگ کو جینڈر کے فرق سے نکال کر شعور کی بلند ترین سطح پر لے گیا، ان میں فدائی شاری جان کی فلسفۂ قربانی صرف ایک تاریخی باب نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل ثابت ہوا۔ اسی طرح سیاسی مزاحمت میں بانک شہید کریمہ بلوچ سے لے کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ تک جو سیاسی مزاحمت آج تک جاری و ساری ہے، اس نے پورے بلوچ سماج میں ایک انقلابی تبدیلی برپا کر دی، جہاں بلوچ قوم اپنی اصل شناخت کو دوبارہ تشخیص کرنے میں کامیاب ہوئی۔
آج جنگی محاذ پر پہلی مرتبہ ایک خاتون کمانڈر، شہناز بلوچ، منظرِ عام پر آئی تو وہ بلوچ قوم، خاص کر بلوچ خواتین کے لیے صرف ایک امید لے کر نہیں آئیں بلکہ انہوں نے بلوچ قومی جنگ میں وہ متاثر کن پہلو اجاگر کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ صرف دہشت و بربادی نہیں بلکہ اس کے بے شمار خوبصورت معنی بھی ہوتے ہیں، جن میں امن، خوشحالی اور بقا کا راز بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔
ایک وقت تھا جب براہِ راست مسلح محاذ پر کوئی عورت بظاہر موجود نہیں تھی، لیکن اس وقت بھی باشعور مائیں اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو شعوری و فکری طور پر تربیت دیتی تھیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک باشعور عورت اپنی سات نسلوں کو باشعور بناتی ہے، اور ایک انقلابی عورت اپنی سات نسلوں کو انقلابی بناتی ہے۔
اسی طرح ہماری خواتین اپنے فرزندوں کو جنگ کے لیے شعور دیتی رہیں اور وہ فرزندانِ وطن اپنے قومی فرض کو جنگی محاذ پر ادا کرتے رہے۔
پھر ایک دور آیا جب ریحان جان نے اس سرزمین پر خود کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا تو شہید استاد اسلم اور اماں یاسمین نے نہ صرف ان کے فیصلے میں ان کا ساتھ دیا بلکہ انہیں آزاد بلوچستان کے پرچم میں رخصت کیا۔ یہاں سے بلوچ قومی آزادی کی جنگ نے ایک نیا، پُرامید اور پُرعزم موڑ لیا، اور لمہ یاسمین کا کردار بلوچ قومی جنگ میں نمایاں ہوا۔
یہ تسلسل صرف ایک تسلسل نہیں بلکہ بلوچ قومی جنگ میں جدت و شدت کے ساتھ پوری قوم میں قومی حوصلہ، قومی خودداری اور قومی عزم پیدا کرنے کا باعث بنا۔ لمہ شاری جان، گودی سمعیہ جان، بانک ماہل جان، گودی ماہیکان جان، گودی زرینہ جان، لمہ ہتم ناز، بی بی بانڑی سمالانی، شہزادی آصفہ مینگل، گودی مریم سمی، گودی حواء جان، آسمہ جان صرف فدائیانِ وطن نہیں بلکہ موجودہ بلوچ قومی تحریک کے وہ استعارے ہیں جنہوں نے تاریخ کو نہیں بلکہ تاریخ نے انہیں جنم دیا ہے۔
آج بلوچ قومی جنگ میں بلوچ خواتین کا کردار پوری دنیا میں بلوچ قومی تحریک کی ایک خوبصورت شکل آشکار کر رہا ہے، جسے ہمیشہ نوآبادیاتی اور استعماری قوتیں قبائلیت، مذہبی شدت پسندی اور پسماندگی جیسے القابات سے مسخ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ آج بلوچ خواتین کی شمولیت اور ان کا فلسفۂ قربانی ان تمام بیانیوں کو رد کر چکا ہے۔
آج سدو انجام کے لیے نہیں بلکہ آغاز کے لیے فیصلہ کر چکی ہے، کیونکہ انجام کا خوف دراصل آغاز کا قتل ہوتا ہے۔
علم و حکمت، دانائی اور تجربات اس وقت تک محض ذخیرہ ہوتے ہیں جب تک ان میں عمل کا تسلسل برقرار نہ ہو، کیونکہ علم اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔
سدو ایک عملی اور خاموش طبع انسان ہے۔ وہ لفاظی اور خود پسندی کے مزاج رکھنے والے لوگوں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہتی کہ کیا کرنا ہے یا کیا ہونا چاہیے، بلکہ وہ کہتی ہے کہ یہ کرنا چاہیے۔ وہ سوال کرتی ہے اور سوال اٹھاتی ہے، مگر روایت کے مطابق نہیں بلکہ تحقیق، جستجو اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے۔
تمپ کی کھوکھ سے جنم لینے والی یہ کمانڈر اپنی سماجی بغاوت کو اپنی قیادت کی عملی اور اصولی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے آج اس مقام پر کھڑی ہے جہاں تاریخ آواز دیتی ہے کہ کردار نظریات بناتے ہیں اور نظریات اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں۔
آج سدو قومی جنگ میں وہ ارتعاش ہے جو کھڑی دھوپ اور گہری تاریکیوں میں ان گمنام اور خاموش سماجی بندھنوں میں جکڑے انسانوں کے لیے ایک واضح سمت اور راستہ فراہم کرتی ہے، جس پر چل کر ہر فرد کو کھل کر فیصلہ لینے اور تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔
تاریخ کبھی بھی ان لوگوں کو معاف نہیں کرتی جو تاریخ سے نابلد ہوتے ہیں، اور تاریخ انہیں فراموش کر دیتی ہے جو تاریخی مواقع پر اپنا کردار ادا کرنے سے گھبراتے ہیں یا محض نام کے لیے جدوجہد کا حصہ ہوتے ہیں۔
محض جنگ سے وابستگی، اپنی قومی اور تنظیمی ذمہ داریوں سے غفلت، اپنی ذاتی خواہشات کو تحریکی تقاضوں پر فوقیت دینا، یا صرف دعوؤں کی حد تک انقلابی ہونا دراصل خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
جہدوجہد کی بنیاد احساس سے شروع ہو کر احساس کی انتہا پر ختم ہوتی ہے۔ جہاں قومی احساس مفلوج ہو جائے، وہاں عمل نہیں بلکہ نعرہ، کردار نہیں بلکہ اظہار، ذمہ داری نہیں بلکہ بے بسی، ضمیر نہیں بلکہ ضمیر فروشی، اور مخلصی نہیں بلکہ خود غرضی باقی رہ جاتی ہے۔
سدو محض کمانڈر شہناز نہیں بلکہ تاریخ کے اس موڑ پر ایک ایسا کردار ہے جو حالات کا انتظار نہیں کرتا بلکہ حالات کو بدلنے کا عزم، عہد اور علامت ہے۔
بقول برزکوہی “اب افق کی سفیدی کچھ اور نمایاں ہو گئی ہے۔ پہاڑوں کی سیاہ پیشانیاں آہستہ آہستہ روشنی کی باریک دھار سے منور ہونے لگی ہیں۔ رات ابھی موجود ہے، مگر اس کے لہجے میں پہلے جیسا یقین باقی نہیں رہا۔ اور شاید یہی وہ منظر ہے جس میں سدو کو سمجھا جا سکتا ہے۔ نہ بطورِ یاد، نہ بطورِ افسانہ، نہ بطورِ روایت، بلکہ بطورِ آغاز۔ ایک ایسا آغاز جس کی پوری معنویت ابھی مستقبل کے بطن میں پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں اس کے متعلق کوئی آخری جملہ نہیں لکھتا، کیونکہ آخری جملے ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جن کے راستے ختم ہو چکے ہوں۔ سدو ان نامکمل صبحوں میں سے ہے جن کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا، مگر افق نے اس کی آمد کی شہادت دینا شروع کر دی ہے۔”
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































