اور میں آسمان سے یہ سب دیکھ رہا ہوں گا
تحریر: فرحان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج جس ساتھی کا ذکر کر رہا ہوں وہ ایک خاموش مزاج، گہری سوچ اور بلند کردار کا مالک تھا۔ عمر میں وہ ہم سب سے بڑا تھا، مگر اصل بڑائی عمر میں نہیں تھی، وہ اس کی سوچ، اس کی بصیرت اور اس کے ظرف میں تھی۔
وہ بہت کم بولتا تھا مگر جب بھی بولتا تو ایسا لگتا جیسے کوئی ماہر استاد، کوئی تجربہ کار رہبر، کوئی شفیق والد، یا کوئی کمانڈر اپنے سنگتوں کو بڑے پیار سے راہ دکھا رہا ہو۔ اس کی ہر بات میں وزن تھا، ہر جملے میں نصیحت تھی۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی باپ اپنے چھوٹے بچوں کو محبت سے چلنا، بولنا اور جینا سکھاتا ہے۔ اسی لیے ہم سب سنگت اسے “ماما زگرین” کہتے تھے۔ لیکن تھا وہ سنگت نصراللہ عُرف زگرین ۔
جب پہلی بار میری ملاقات ماما زگرین سے ہوئی تو دل خوش ہو گیا۔ مجھے لگا کہ ہماری جدوجہد میں صرف نوجوان نہیں، ہمارے بزرگ بھی شامل ہیں۔ ہمارے ساتھ وہ ہستیاں بھی ہیں جنہوں نے زندگی دیکھی ہے اور جن کی آنکھوں میں قوم کا مستقبل نظر آتا ہے۔
ماما جب بھی ملتا، لمبی باتیں نہیں کرتا تھا۔ اس کی ایک ہی فکر ہوتی تھی۔ وہ مجھ سے بس یہی پوچھتا: “سنگت، نیا کون سا کتاب آیا ہے؟”
اور میں فخر سے جواب دیتا: “ماما، نئی کتابیں آئی ہیں۔ اگلی ملاقات میں ضرور آپ کے لیے لاؤں گا۔”
کتابیں اس کے لیے سانس تھیں۔ اس کے نزدیک علم کے بغیر جدوجہد اندھی ہے۔
ایک اور بات جو مجھے آج تک یاد ہے۔ ہم سنگت آپس میں مذاق کرتے، ہنستے، ایک دوسرے کو “تم” کہہ کر پکارتے۔ لیکن ماما واحد شخص تھا جسے ہم سب “آپ” کہتے تھے۔ اس کے لیے لفظ “ماما” خود ایک عزت کا خطاب بن گیا تھا۔ کوئی اس کا نام نہیں لیتا تھا، سب عزت سے “ماما” کہتے تھے۔
وہ ماما جس نے اپنا گھر، بیوی، بچے، سب کچھ چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کیا۔ اور پھر کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کے بعد اس نے کبھی اپنے گھر والوں کا نام تک زبان پر نہیں لایا۔ اب اس کا گھر پہاڑ تھے، اور اس کا خاندان ہم سب سنگت تھے۔
ماما کے نزدیک بلوچ کی آزادی کا ایک ہی راستہ تھا: بلوچ کی جنگ۔
وہ کہتا تھا: “یہی جنگ ہے جو ہمیں غلامی سے نکال کر آزاد بلوچستان تک پہنچائے گی۔”
میرا ایمان ہے کہ ایک دن آئے گا جب بلوچ لاکھوں کی تعداد میں پہاڑوں کا رخ کریں گے اور پھر وہ دن بھی آئے گا جب بلوچ سرمچار ایک ہی دن، ایک ہی وقت میں سڑکوں پر، کیمپوں میں، بازاروں میں، شہروں میں، گاؤں میں، ہر جگہ نکلیں گے۔ اس دن دشمن کا نام و نشان اس دھرتی سے مٹ جائے گا۔
اس دن بلوچ دنیا کے سامنے سر اٹھا کر کہے گا: “یہ ہے آزاد بلوچستان۔”
اور پھر ہم اپنے ان گمنام شہیدوں کو وہ عزت دیں گے جس کے وہ اصل حقدار ہیں۔
ہم اپنے شہروں، سڑکوں، چوکوں، گراؤنڈوں، گلیوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نام بدل کر شہیدوں کے نام پر رکھیں گے۔ تاکہ تا قیامت تاریخ انہیں یاد رکھے۔
چلتن کے دامن میں شہیدوں کے بڑے بڑے مجسمے بنیں گے تاکہ آنے والی نسلیں ان کی قربانی کو نہ بھولیں۔
اس آزاد بلوچستان میں:
– ہمارے اسکولوں میں بروہی اور بلوچی پڑھائی جائے گی۔
– نصاب میں بلوچ قومی ہیرو ہوں گے۔
– ہر صبح اسکولوں میں بلوچی قومی ترانہ گایا جائے گا۔
– ہر گھر، ہر چھت پر بلوچستان کا پرچم لہراتا ہوگا۔
– قومی غداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
– شہیدوں کا دن قومی دن ہوگا۔
– ہماری اپنی کرنسی، اپنا پیسہ ہوگا۔
– ہمارے موسم، ہماری ہوا، ہمارا پانی، سب پر بلوچ کا حق ہوگا۔
اس سرزمین پر ظلم ختم ہوگا۔ جبر ختم ہوگا۔
بلوچ کا قتلِ عام بند ہوگا۔ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا۔
کوئی بہن اپنے بھائی کے لیے سڑکوں پر دہائی نہیں دے گی۔
چوری ختم ہوگی۔ منشیات ختم ہوگی۔ ذاتی دشمنی ختم ہوگی۔
کوئی بلوچ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی نہیں کرے گا۔
کسی کا گھر نہیں جلایا جائے گا۔ رات کے اندھیرے میں کسی کے گھر پر چھاپہ نہیں پڑے گا۔
کسی کے کھیت، کسی کے باغات کو آگ نہیں لگے گی۔
کسی ماں کے سامنے اس کے بیٹے کو شہید نہیں کیا جائے گا۔
میرے بوڑھے والد کو کوئی فوجی سڑک پر ذلیل نہیں کرے گا۔
اور میں آسمان سے یہ سب دیکھ رہا ہوں گا۔ فخر سے کہوں گا: “اس آزادی پر قربان ہونا میری خوش قسمتی تھی۔”
ہاں، میں بھی آزاد بلوچستان کے آزاد آسمان تلے، باقی شہیدوں کے ساتھ بیٹھا یہ سب دیکھ رہا ہوں گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































