نوشکی گرلز کالج حملہ: بی وائی سی، بلوچ وومن فورم، بی ایس او پجار اور بی این پی کا واقعہ کی مذمت

10

تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا طالبات کے تحفظ، واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پر مسلح افراد کی فائرنگ سے تین طالبات کے زخمی ہونے کے واقعے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی “بی وائی سی” بلوچ وومن فورم، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے مذمتی بیانات جاری کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات، زخمی طالبات کے بہتر علاج اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں گرلز ڈگری کالج نوشکی پر مسلح حملے اور قادر آباد میں ویژن پبلک اسکول کو مبینہ طور پر زبردستی بند کروانے کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی ہے۔

کمیٹی کے مطابق 27 اکتوبر کو تین نقاب پوش مسلح افراد کالج میں داخل ہوئے، پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور سیکیورٹی کیمروں کو نقصان پہنچانے کے بعد طالبات پر فائرنگ کی، واقعے کے دوران سیکیورٹی انتظامات اور حملہ آوروں کے فرار ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کالج کے قریب ایف سی چیک پوسٹ کی موجودگی کے باوجود ملزمان کیسے فرار ہوگئے۔

بی وائی سی کے مطابق فائرنگ سے سیکنڈ ایئر کی 17 سالہ طالبہ مریم، 18 سالہ رخسانہ اور 17 سالہ میمونہ زخمی ہوئیں، مریم کے جسم سے گولی نکال دی گئی ہے، جبکہ رخسانہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پیٹ میں گولیاں لگنے کے بعد ان کا آپریشن کیا گیا اور وہ کوئٹہ میں زیرِ علاج ہیں، میمونہ کی ٹانگ میں گولی لگی اور انہیں اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق مسلح افراد نے اسی روز قادر آباد میں ویژن پبلک اسکول میں داخل ہوکر بچوں کو ہراساں کیا اور اسکول دوبارہ کھولنے کی صورت میں نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔

بیان میں رواں سال پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تعلیمی اداروں کے گرد پیش آنے والے یہ واقعات تشویش ناک سوالات پیدا کرتے ہیں۔

بی وائی سی نے ویژن پبلک اسکول کو اساتذہ اور بچوں کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ فوری کھولنے، گرلز کالج حملے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا اور قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی واقعے کا نوٹس لینے اور حقائق جاننے کے لیے آزاد مشن بھیجنے کی اپیل کی۔

بلوچ وومن فورم نے اپنے بیان میں کالج پر مسلح نقاب پوش افراد کے حملے اور تین طالبات کے زخمی ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے واقعات ریاستی اداروں کی کارکردگی اور طالبات کے تحفظ کے انتظامات پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

فورم کے مطابق تعلیمی ادارے علم، شعور اور سماجی ترقی کی بنیاد ہیں، جبکہ طالبات کو نشانہ بنانے سے ان کے ساتھ ان خاندانوں میں بھی خوف پیدا ہوتا ہے جو اپنی بچیوں کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں، اگر ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سزا نہ ملی تو بلوچستان میں پہلے سے مشکلات کا شکار تعلیمی ماحول مزید متاثر ہوسکتا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو تشدد اور خوف کا نشانہ بنانا بلوچ معاشرے کے تعلیمی، سماجی اور فکری مستقبل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی بلوچ طالبات پر تیزاب پھینکنے، خواتین کی تعلیم کے خلاف دھمکیوں اور انگریزی زبان کے مراکز بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے جیسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، نوشکی گرلز کالج پر حملہ خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ تعلیمی اداروں کے تقدس کو پامال کرنا، طالبات میں خوف و ہراس پھیلانا اور پُرامن تعلیمی ماحول کو متاثر کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

پارٹی کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر طالبہ کا بنیادی حق ہے اور حکومت و متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو محفوظ بنائیں۔ ایسے واقعات طالبات اور ان کے والدین میں خوف پیدا کرنے کے ساتھ بچیوں کے تعلیمی مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ نوشکی گرلز ڈگری کالج میں 27 اکتوبر کو فائرنگ کے واقعے میں تین طالبات زخمی ہوئی تھیں، مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے طالبات کے تحفظ اور تعلیمی اداروں میں پُرامن ماحول کی بحالی پر زور دیا ہے۔