بلوچستان کے علاقے دالبندین میں افغانستان کی سابقہ حکومت کے کمانڈر متین آغا کوہِ تران میں ہونے والے دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے، جبکہ اس دھماکے میں افغانستان کی سابقہ فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔
صحافی باہوٹ بلوچ نے ہسپتال میں زیر علاج متین آغا اور جائے وقوعہ کی تصاویر کی تصاویر شئر کرتے ہوئے خبر کی تصدیق کی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، اس دھماکے میں پاکستانی حکومت کے حمایت یافتہ مسلح گروہ کا اہم رکن شاہو بھی ہلاک ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں سابقہ افغان فورسز کے اہلکاروں کی موجودگی اور بلوچ قومی تحریک کے خلاف ان کے استعمال کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ بلوچستان میں سرگرم بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق، خضدار میں شفیق مینگل کے ٹھکانے پر ہونے والے حملے میں بھی افغان سابقہ فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
جبکہ بلوچ قوم پرست تنظیم بی وائی سی اور بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت بلوچستان اسمبلی کے ارکان بھی بلوچستان میں سابقہ افغان اہلکاروں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
ان قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ سابقہ اہلکار بلوچستان میں فوجی آپریشنز اور دیگر جرائم میں پاکستانی فورسز کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔
جبکہ پشتون علاقوں میں مقامی آبادی بھی اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ یہ اہلکار بدامنی، چوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ تاہم، اب تک حکومتی سطح پر ان کی موجودگی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر اور پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کے رکنِ اسمبلی عبدالرحمان کھیتران نے بھی ڈیرہ بگٹی اور بارکھان کے سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
مصدقہ ذرائع یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان کے عسکری ادارے ان سابقہ اہلکاروں کو افغان طالبان کے خلاف عسکری تیاریوں کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔



















































