بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے میزئی اڈہ میں دو افراد کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری ہے، جہاں مظاہرین نے ایک لاپتہ شخص کی بحفاظت بازیابی، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی علاقے سے واپسی اور منشیات کے مکمل خاتمے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق پانچ روز قبل ایک گھر پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک والد اور ان کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا، جبکہ ایک اور بیٹے کو مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ حملے کے دوران گھر کی دو بیٹیاں بھی فائرنگ سے زخمی ہوئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، جو بعد ازاں دھرنے کی شکل اختیار کر گیا۔
مقامی مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران دو مسلح افراد کو پکڑا گیا، جنہوں نے مبینہ طور پر خود کو افغانستان سے تعلق رکھنے والے سابق سکیورٹی اہلکار بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ مقامی پولیس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق ان افراد نے بتایا کہ ایک کو ماہانہ 30 ہزار جبکہ دوسرے کو 50 ہزار پاکستانی روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ بعد ازاں مقامی افراد نے دونوں گرفتار افراد کو ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کے حوالے کر دیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر زیرِ حراست افراد میں سے ایک کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے لیے کام کرتا ہے اور اسے ماہانہ 50 ہزار روپے جبکہ دوسرے شخص کو 30 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں اور ان افراد کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ان مبینہ انکشافات کے بعد پاکستان میں مقیم سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی سرگرمیوں اور ان کی مبینہ بھرتیوں سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔
مظاہرین اور مقامی افراد کا الزام ہے کہ علاقے میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کے واقعات میں سابق افغان سکیورٹی اہلکار ملوث ہو سکتے ہیں، تاہم ان الزامات کی سرکاری یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ حملے کے دوران اغوا کیے گئے شخص کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے، سابق افغان فورسز کے اہلکاروں کو قلعہ عبداللہ سے واپس بھیجا جائے اور علاقے میں منشیات کے کاروبار کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
مظاہرین نے ریاستی پالیسیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عام افغان مہاجرین اور مزدوروں کو ملک سے نکالا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی افراد کے مطابق سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان میں جگہ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکام کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
ادھر احتجاج کے خاتمے اور مظاہرین کے مطالبات کے حل کے لیے صوبائی حکومت کا وفد صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو کی قیادت میں دھرنے کے مقام پر پہنچا، جہاں انہوں نے مظاہرین سے ملاقات کی اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔
مذاکرات میں صوبائی وزیر صحت بخت خان کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی اسفندیار کاکڑ اور رکن صوبائی اسمبلی زمُرک خان اچکزئی بھی شریک تھے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ وہ مظاہرین کے دکھ اور غم میں شریک ہونے اور ان کے مسائل سننے کے لیے یہاں آئے ہیں۔
حکومتی وفد کے ترجمان بابر یوسفزئی کے مطابق مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا اور وفد نے ان کے تحفظات غور سے سنے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مسئلے کے پُرامن حل اور مظاہرین کے مطالبات پر پیشرفت کے لیے سنجیدہ ہے۔
صوبائی وزیر صحت بخت خان کاکڑ نے بھی مذاکرات کے پہلے دور کو مثبت قرار دیتے ہوئے دوسرے دور میں مزید پیشرفت کی امید ظاہر کی، جبکہ معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی مثبت پیشرفت متوقع ہے۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے بنیادی مطالبات، بالخصوص لاپتہ شخص کی بازیابی، علاقے میں امن و امان کی بحالی اور مبینہ طور پر سرگرم سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں سے متعلق تحفظات پر عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، ان کا احتجاج جاری رہ سکتا ہے۔



















































