بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 16 سالہ حسن اور 20 سالہ سودیس کی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق، مند کے رہائشی 16 سالہ حسن ولد جمعہ کو مندسے تمپ جاتے ہوئے دن دہاڑے فرنٹیئر کور (ایف سی) نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔ کمیٹی کے بیان کے مطابق، 41 روز بعد 14 اکتوبر 2026 کو حسن کی لاش مند، ضلع کیچ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ حسن پیشے کے اعتبار سے چرواہا تھا اور محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت میں حصہ لیتا تھا۔
بی وائی سی نے حسن کی گمشدگی اور موت کے حالات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک کم عمر نوجوان کی زندگی کا اس طرح خاتمہ اس کے خاندان کے لیے شدید صدمے اور بے شمار سوالات کا باعث ہے۔ کمیٹی نے قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بی وائی سی نے کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل، مدرّسہ روڈ، لانگو محلہ کے رہائشی 20 سالہ طالب علم سودیس ولد محمد اشرف کی ہلاکت کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ کمیٹی کے مطابق، سودیس کو 20 مئی 2026 کی رات دو بجے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
بی وائی سی کے مطابق، سودیس کے اہل خانہ نے ان کا معاملہ محکمہ داخلہ کے زیر نگرانی کام کرنے والی مسنگ پرسنز کمیٹی میں اٹھایا۔ 16 اکتوبر کو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے دفتر میں ہونے والی پہلی سماعت کے دوران خاندان کو سودیس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم، 21 اکتوبر کو ہونے والی دوسری سماعت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کمیٹی کو بتایا کہ سودیس 20 اگست 2026 کو ایک مقابلے کے دوران مارے گئے تھے اور انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق، سودیس کو گھر سے لاپتہ کیے جانے کے ٹھیک تین ماہ بعد ان کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ اس دوران اہل خانہ ان کے بارے میں لاعلم رہے۔ بی وائی سی نے سوال اٹھایا کہ اگر سودیس کسی جرم میں ملوث ہونے کے شبہے میں زیر تفتیش تھے تو انہیں عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا، اور ان کی ہلاکت کے حالات کی آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں کی جاتیں۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بعد جعلی مقابلوں میں ہلاکتوں اور مرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینے کے واقعات انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔ کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ بعض واقعات میں لاپتہ افراد کو طویل عرصے تک اہل خانہ سے دور رکھنے کے بعد ان کی ہلاکت کا اعلان کیا جاتا ہے، جس سے جواب دہی اور شفاف تحقیقات کے تقاضے مزید اہم ہو جاتے ہیں۔
بی وائی سی نے قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ حسن اور سودیس کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، جعلی مقابلوں اور جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے اقدامات کریں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کردار ادا کریں۔ کمیٹی نے بالخصوص سودیس کی ہلاکت کے معاملے میں آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے تحت جواب دہ ہے۔


















































