شام: قسد اور کرد خودمختار انتظامیہ تحلیل، کرد جنگجو شامی فوج میں ضم

51

شام میں کرد قیادت والی شامی جمہوری افواج (قسد) اور شمال مشرقی شام کی خودمختار انتظامیہ کو تحلیل کردیا گیا ہے، جبکہ اس کے فوجی و سول ڈھانچے کو شامی ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

قسد کے کمانڈر مظلوم عبدی نے 25 اگست کو دمشق کے صدارتی محل میں ایک ٹیلی ویژن تقریر کے دوران اعلان کیا کہ شامی جمہوری افواج کا بطور آزاد فوجی قوت مشن ختم ہو گیا ہے اور تنظیم کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔

مظلوم عبدی کے مطابق نئے شامی حکومت اور صدر احمد الشرع کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اور قسد کی افواج کو شامی فوج کے بریگیڈز میں ضم کرنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

عبدی نے کہا کہ شام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب ملک کو امن، استحکام اور تعمیر نو کی جانب لے جانے کا وقت ہے۔ انہوں نے اسے میدان جنگ سے تعمیر اور ہتھیاروں کے دور سے امن کے دور کی جانب منتقلی کا آغاز قرار دیا۔

اس فیصلے کے تحت شمال مشرقی شام میں کرد قیادت والی خودمختار انتظامیہ اور اس سے وابستہ فوجی و سول اداروں کو بھی شامی ریاستی اداروں میں شامل کر دیا گیا ہے۔

قسد 2015 میں قائم ہوئی تھی اور اسے امریکہ کی حمایت حاصل رہی، تنظیم نے داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اہم اتحادی کے طور پر کردار ادا کیا اور شام کے شمال مشرقی علاقوں میں ایک وسیع خودمختار انتظام قائم کیا تھا۔

دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق کی نئی حکومت اور کرد قیادت کے درمیان مستقبل کے سیاسی و انتظامی بندوبست پر مذاکرات شروع ہوئے، جنوری 2026 میں ہونے والے معاہدے کے تحت قسد کے فوجی، سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچوں کو مرحلہ وار شامی ریاست میں ضم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مظلوم عبدی نے اپنے بیان میں کردوں کے حقوق کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صدر احمد الشرع نے کرد زبان میں تعلیم کے حق کے تحفظ پر مثبت موقف اختیار کیا ہے، جبکہ اس حق کو رواں سال عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے ایک ایسے نئے شام کی تعمیر پر زور دیا جس میں کرد، عرب، ترکمان اور آشوری سمیت تمام قومیتیں شامل ہوں۔

ترکی میں پی کے کے کے خاتمے کے بعد شام میں بڑی پیش رفت

شام میں قسد کی تحلیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جبکہ گزشتہ سال ترکی میں کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ بھی کئی دہائیوں پر محیط مسلح تصادم کے خاتمے کا عمل جاری ہے۔

پی کے کے نے مئی 2025 میں اپنے بانی اور جیل میں قید رہنما عبداللہ اوجالان کی اپیل کے بعد تنظیم کو تحلیل کرنے، ہتھیار ڈالنے اور ترکی کے خلاف مسلح جدوجہد ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جولائی 2025 میں شمالی عراق میں پی کے کے کے جنگجوؤں نے ہتھیار نذرِ آتش کرکے غیر مسلح ہونے کے عمل کا باضابطہ آغاز بھی کیا۔

ترکی نے شام میں قسد کی تحلیل اور شامی ریاستی اداروں میں اس کے انضمام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شام کی وحدت کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے، انقرہ قسد کے مرکزی کرد عسکری دھڑوں کو پی کے کے سے منسلک سمجھتا رہا ہے۔

یوں ایک سال کے دوران خطے میں کرد مسلح تنظیموں کے حوالے سے دو بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں: ترکی میں پی کے کے کی مسلح جدوجہد اور تنظیمی ڈھانچے کے خاتمے کا عمل، جبکہ شام میں قسد نے اپنی آزاد فوجی حیثیت ختم کرکے اپنے جنگجوؤں اور اداروں کو شامی ریاست میں ضم کردیا ہے۔