ترکی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جنوبی ترکی میں ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم آٹھ طلبہ اور ایک ٹیچر ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ ترکی کے شہر کہرامان مرعش میں واقع آیسر چالک سیکنڈری سکول میں پیش آیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق 13 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران 14 سالہ حملہ آور بھی ہلاک ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایک دن قبل ہی جنوبی ترکی میں ایک اور ہائی سکول میں سابق طالب علم کی فائرنگ سے 16 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اس حملہ آور نے خودکشی کر لی تھی۔
بدھ کے روز ہونے والے اس تازہ حملے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ترک میڈیا کے مطابق حملہ آور، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ طالب علم تھا، دو کلاس رومز میں داخل ہوا۔ اس کے پاس پانچ بندوقیں اور سات میگزین موجود تھے۔
مقامی گورنر نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ اسلحہ طالب علم کے والد کا تھا جو سابق پولیس اہلکار ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور کے والد کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
تصدیق شدہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کے دوران بعض افراد سکول کی پہلی منزل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی کے ایک رپورٹر نے کہا کہ ’گولیوں کی آواز بہت شدید تھی‘ اور سکول کے باہر ’شدید بھگدڑ‘ مچی ہوئی تھی۔
واقعے کی خبر پھیلنے کے بعد روتے ہوئے والدین سکول کے باہر جمع ہو گئے۔
ایک والد عمر ارداغ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میرے بچے نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس نے کہا میرا دوست زخمی ہو گیا ہے‘۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اب اپنے بچوں کو دوبارہ اس سکول کیسے بھیجوں گا؟‘
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ’ہمارے بچوں، خاندانوں اور اساتذہ کی جلد صحت یابی کے خواہاں ہیں۔‘



















































