معروف بلوچ قوم پرست سیاسی رہنما ڈاکٹر حکیم لہڑی کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا، میت پر بلوچستان کا پرچم رکھا گیا۔
نمازِ جنازہ اور تدفین میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، بی این پی کے رہنما ثنا بلوچ ، ولی کاکڑ، اصغر اچکزئی سمیت بلوچ اور پشتون سیاسی و سماجی شخصیات، کارکنوں، عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر فضا سوگوار رہی، جبکہ شرکا نے ڈاکٹر حکیم لہڑی کی سیاسی و قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر حکیم لہڑی طویل علالت کے بعد گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ بلوچستان کی قوم پرست سیاست میں ایک نمایاں نام تھے اور کئی دہائیوں تک بلوچ قومی جدوجہد، قومی حقوق، سیاسی خودمختاری اور بلوچستان کے سیاسی مسائل کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرتے رہے۔
وہ بلوچ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ طویل عرصے تک وابستہ رہے اور بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے مختلف ادوار کے اہم واقعات کے چشم دید گواہ اور شریکِ کار بھی رہے۔
ڈاکٹر حکیم لہڑی کو بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل کے قریبی سیاسی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ بلوچستان کی سیاست کے ان ادوار سے بھی وابستہ رہے جب قوم پرست سیاست ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔
انہوں نے مختلف مواقع پر بلوچستان کی سیاسی تاریخ، بلوچ قومی تحریک اور ماضی کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے اپنے تجربات اور خیالات بیان کیے۔
ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اپنی سیاسی زندگی میں بلوچستان کے مختلف سیاسی بحرانوں اور واقعات کو قریب سے دیکھا۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کی سیاسی صورتحال، 1970ء کی دہائی کی قوم پرست سیاست، بلوچ رہنماؤں کے درمیان سیاسی اختلافات اور بعد کے ادوار میں بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں ان کے بیانات کو اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔


















































