معروف بلوچ قوم پرست رہنماء ڈاکٹر حکیم لہڑی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

7

معروف بلوچ قوم پرست ڈاکٹر حکیم لہڑی طویل علالت کے بعد آج شام کراچی میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی بلوچستان کی قوم پرست سیاست میں ایک نمایاں نام تھے اور کئی دہائیوں تک بلوچ جہد آزادی، قومی حقوق، سیاسی خودمختاری اور بلوچستان کے سیاسی مسائل کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرتے رہے۔

وہ بلوچ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ طویل عرصے تک وابستہ رہے اور بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے مختلف ادوار کے اہم واقعات کے چشم دید اور شریکِ کار بھی رہے۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی کو بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل کے قریبی سیاسی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ بلوچستان کی سیاست کے ان ادوار سے بھی وابستہ رہے جب بلوچستان میں قوم پرست سیاست ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔

انہوں نے مختلف مواقع پر بلوچستان کی سیاسی تاریخ، بلوچ قومی تحریک اور ماضی کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے اپنے تجربات اور خیالات بیان کیے۔

ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اپنی سیاسی زندگی میں بلوچستان کے مختلف سیاسی بحرانوں اور واقعات کو قریب سے دیکھا۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کی سیاسی صورتحال، 1970ء کی دہائی کی قوم پرست سیاست، بلوچ رہنماؤں کے درمیان سیاسی اختلافات اور بعد کے ادوار میں بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں ان کے بیانات کو اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔

ان کے انتقال پر بلوچ قوم پرست حلقوں، سیاسی کارکنوں اور ان کے دیرینہ ساتھیوں کی جانب سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔