بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 8 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواندگی منایا جاتا ہے اس دن دنیا میں شرحِ خواندگی پر بحث مباحثے سمیت تعلیمی بہتری اور تعلیمی انقلاب کے لیے نت نئے نظریات سامنے لائے جاتے ہیں۔
تنظیم نے کہا ہے خواندگی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور شرحِ خواندگی میں بہتری لانے کے لیے یونیسکو کی جانب سے 1966ء میں عالمی یومِ خواندگی کا اعلان کیا گیا، تاکہ دنیا بھر میں کم شرحِ خواندگی کے خلاف ایک عالمی پروگرام کے تحت عمل درآمد کیا جا سکے، جس کے لیے یونیسکو دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اقدامات اٹھاتا ہے۔
اس اقدام کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی، اور کئی ممالک نے اس فیصلے کے بعد اپنی شرحِ خواندگی کو بہتر کرنے کے لیے مثبت اقدامات کیے جس سے ان کی شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوا۔
تنظیم کے مطابق لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں تعلیمی نظام بدترین مسائل سے دوچار ہے اور شرحِ خواندگی ابتر ہوتی جا رہی ہے، جس سے ایک تعلیمی بحران جنم لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہماری تنظیم کی جانب سے “بلوچ لٹریسی کیمپین” کے تحت رواں سال کی گئی فیلڈ رپورٹ سے جو ڈیٹا ہمیں ملا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، تنظیم کی لٹریسی ٹیم نے رواں سال گیارہ اضلاع کے کم از کم پچپن سے زائد اسکولوں کا دورہ کیا، جہاں بدترین صورت حال کا سامنا رہا۔
انہوں نے کہا ان اسکولوں میں سے چوبیس ایسے اسکول ہیں جو بند پڑے ہیں جنہیں گھوسٹ اسکول کا درجہ دیا جا سکتا ہے، جبکہ انتیس ایسے اسکول ہیں جو فعال تو ہیں لیکن شدید مسائل سے دوچار ہیں، جنہیں جزوی طور پر فعال کا درجہ دیا گیا ہے۔
تنظیم کے مطابق وہیں ہمیں چار ایسے علاقوں سے ڈیٹا موصول ہوا ہے جہاں اسکول کا نام و نشان تک نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ جو اسکول قائم ہیں، ان میں یا تو اساتذہ غیر حاضر ہیں یا پھر انہوں نے اپنی جگہ ایسے متبادل افراد بٹھائے ہیں جو اہل نہیں ہیں۔
بساک کے مطابق اسکولوں کی حالت ایسی ہے کہ یا تو عمارتیں بوسیدہ ہیں، پینے کے صاف پانی اور واش رومز کی سہولت میسر نہیں، یا پھر ڈیسک اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے صرف کوہلو کے علاقے کاہان میں پچپن ایسے اسکول ہیں جن کا کاغذات میں نام تو ہے لیکن عملً کوئی وجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے اس تمام صورت حال سے یہ تشویش ناک امر سامنے آیا ہے کہ بلوچستان میں اس سال بھی شرحِ خواندگی بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے، اگر کہیں ایک دو جگہوں پر کچھ بچے داخل کروائے گئے ہیں یا اسکول کھلوائے گئے ہیں، تو وہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے شرحِ خواندگی میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں لا سکے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے کہ محترمہ وزیرِ تعلیم اسمبلی فلور پر کہتی ہیں کہ ہمارے پاس سولہ جامعات ہیں جنہیں چلانے کے لیے وسائل کی کمی کے باعث کافی مشکلات کا سامنا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت اسکول، کالجز اور جامعات کے قیام کا بالکل ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی موجودہ اداروں کی بہتری کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام کر رہی ہے۔
بساک نے مزید کہا تنظیم معیاری تعلیم اور شرحِ خواندگی کی اس ابتر صورت حال کو “تعلیمی بحران” کا نام دیتی ہے اور حکومت سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ تعلیمی میدان میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہتر پروگرامز اور پالیسی سازی کرے، نیز شرحِ خواندگی میں اضافے سمیت بہترین تعلیمی نظام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔

















































