پاکستانی تعلیمی اداروں سے افغان طلبہ کی بے دخلی: ایمنسٹی نے فیصلے کو امتیازی قرار دے دیا

0

پاکستان میں افغان شہریوں کے خلاف جاری ملک بدری اور بے دخلی کی مہم کے دوران پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو بھی تعلیم ادھوری چھوڑ کر افغانستان واپس جانے کی ہدایات دی گئی ہیں، جس سے متعدد طلبہ، خصوصاً میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے طلبہ کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستانی سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر افغان پناہ گزینوں اور طلبہ کے خلاف مہم میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ مختلف پاکستانی جامعات اور تعلیمی اداروں سے افغان طلبہ کو بے دخل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ان میں ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو اپنی تعلیم کے آخری مراحل میں پہنچ چکے تھے۔

پاکستان میں افغان شہریوں کی گرفتاری، ملک بدری، گھروں سے بے دخلی اور جائیدادوں سے محرومی کا سلسلہ گزشتہ سال سے جاری ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی اس دوران افغان پناہ گزینوں کی گرفتاری، ہراسانی اور جبری ملک بدری کے خلاف متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔

حالیہ فیصلے کے تحت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل پروگرامز میں زیر تعلیم افغان شہریوں کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کی ہے، جبکہ طبی اور ڈینٹل اداروں کو نئے افغان طلبہ کے داخلے، منتقلی یا دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض پاکستانی میڈیکل کالجز نے افغان طلبہ کو ضروری دستاویزات جمع کرا کے کلیئرنس حاصل کرنے اور افغانستان واپسی کی تیاری کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے کو امتیازی اور من مانا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات بالخصوص افغان طالبات کے لیے انتہائی سنگین ہیں۔

تنظیم کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر جاری صنفی امتیاز اور اعلیٰ تعلیم پر پابندیوں کے باعث بہت سی افغان طالبات پہلے ہی تعلیم کے مواقع سے محروم ہیں، اور اب پاکستان سے واپسی کی صورت میں ان کے لیے تعلیم اور پیشہ ورانہ مستقبل کے باقی ماندہ راستے بھی بند ہونے کا خدشہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ متعدد طلبہ نے میڈیکل کی تعلیم میں کئی سال صرف کیے ہیں اور انہیں اچانک اور بلاجواز اپنی تعلیم ختم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے لیے کسی دوسرے ملک میں تعلیم دوبارہ شروع کرنے کے امکانات بھی محدود ہیں۔

تنظیم نے پاکستان کو یاد دلایا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت وہ قومی شناخت یا اصل کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر تعلیم کے حق کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ انسانی اور عملی حل اختیار کریں اور افغان طلبہ، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دیں۔