مستونگ، کردگاپ میں پاکستانی فوج کی گولہ باری سے جانبحق افراد کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ کی تحصیل کردگاپ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے عام آبادی پر کی گئی شیلنگ کے واقعے میں مزید ایک زخمی بچی کے دم توڑ جانے کے بعد جانبحق افراد کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی ہے۔
مستونگ کردگاپ کے علاقے گرگینہ کلی پسند خان میں عام آبادی پر فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والی مزید ایک 6 سالہ بچی کوئٹہ کے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی، جس کے بعد اس واقعے میں جانبحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4 ہوگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق منگل کی شام تقریباً سات بجے ایف سی کی جانب سے عام آبادی پر اندھا دھند بھاری گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد گولے مقامی گھروں پر جا گرے۔
پاکستانی فورسز کی جانب سے فائر کیے گئے متعدد گولے مولوی عبدالجلیل سرپرہ نامی شخص کے گھر پر جا گرے، جہاں موجود ان کی والدہ اور دو بچیاں موقع پر ہی جانبحق ہوگئیں، جبکہ گولہ باری سے متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
تاہم زخمیوں میں شامل 6 سالہ بچی کوئٹہ کے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
واقعے کے بعد شہریوں نے جانبحق افراد کی لاشیں کوئٹہ-نوشکی شاہراہ این-40 (N-40) پر رکھ کر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دینے اور شاہراہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی یا انتظامی سطح پر اس سنگین واقعے اور سویلین ہلاکتوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔



















































