خاموشی یا مزاحمت – سید ماہ زیب شاہ

4

خاموشی یا مزاحمت

تحریر: سید ماہ زیب شاہ

دی بلوچستان پوسٹ

اس وقت ہم ایسے حالات میں جی رہے ہیں جن کا اندازہ ہمارے سوا کسی کو نہیں، کیونکہ حالات کا مقابلہ کرنا اور وقت کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ بلوچستان، جہاں امن و امان کا نام دور دور تک نہیں، کیونکہ یہاں بغاوت چل رہی ہے۔ یہ رکے گی نہیں۔ یہاں ہر روز بم دھماکے اور گولیوں کی آواز گلی گلی سے آتی ہے۔

کیا آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ ابھی امن آئے گا؟ امن چاہنے کے باوجود بھی نہیں آ سکتا کیونکہ حالات ابھی ہاتھوں سے نکل چکے ہیں اگر کوئی کہتا ہے کہ ابھی حالات ہمارے ہاتھ میں ہیں تو وہ بالکل جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ باتیں وہی کرتے ہیں جو خود کسی اور کے کنٹرول میں ہیں۔

بلوچستان میں اس سے پہلے بھی بغاوتیں ہوئی ہیں، لیکن جو ابھی چل رہی ہے وہ کافی تیز اور کافی خطرناک ہے، کیونکہ اس میں جنریشن زی اور وہ سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی سے واقف اور مضبوط ذہنیت رکھنے والے نوجوان شامل ہیں جو کل کے دن کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کیا ہوگا؟ کیوں ہوگا؟ کس وجہ سے ہوگا؟ ہر سوچ پر ہزاروں سوال کرتے ہیں۔

جہاں دوسرے صوبوں کے لڑکے اور لڑکیاں اپنی انفرادی سوچ میں اٹکے ہوئے ہیں، وہاں بلوچستان کا فرد اپنی انفرادی سوچ سے نکل چکا ہے۔ وہ اپنی قوم کے آنے والے کل کے لیے سوچتا ہے اور ان کے لیے ایک آزاد خیال کے بارے میں سوچتا ہے۔ ان کو چین اور خوش رہنے کے لیے سوچتا ہے۔ ہمارے وقار اور عزت کے لیے لڑ رہا ہے، ہمارے کل کے امن کے لیے لڑ رہا ہے۔

تم اس ماں سے پوچھو جس کے جگر کے ٹکڑے کو اس کی گود سے اٹھایا جاتا ہے اور مسخ شدہ لاش اس کو دی جاتی ہے۔ کیا پھر خاموشی بہتر ہے یا مزاحمت؟

کیا تمہاری بہن کو اٹھایا جاتا ہے؟ تمہارے گھر کی چادر اور چار دیواری کی پامالی کی جاتی ہے؟ کیا یہ صحیح ہے؟ بالکل صحیح نہیں۔ پھر خود کو تیار کرنا ہوگا مزاحمت کی راہ کے لیے، وہ راہ جو تمہیں اور تمہاری آنے والی نسل کو آزادی دینے کے لیے ہے۔

آج اگر میں اپنی جان نہیں دوں گا، آپ نہیں دیں گے، تو کون دے گا؟ اگر میں خاموش رہا، آپ خاموش رہے، تو حق کی بات کون کہے گا؟ مزاحمت کون کرے گا؟

کبھی خود کو کسی کمرے میں بند کرو اور چند گھنٹے سوچو کہ جو ظلم ستم اور بربریت ہو رہی ہے، کیا وہ آپ کے ساتھ درست ہے؟ اگر درست نہیں، پھر کیوں اور کس وجہ سے ہے؟

اگر وجہ میری قوم پرستی اور راج پرستی ہے تو آپ کو تیار رہنا چاہیے۔ جو آپ کو قوم پرستی کی سزا دے رہی ہے، جو آپ سے خوف زدہ ہے جہاں حق و سچ کی بات نہیں کر سکتے، جہاں آپ کو غلامی کی زنجیروں میں قید کیا گیا ہے جہاں آپ سوچ نہیں سکتے، جہاں بول نہیں سکتے، جہاں ہر وقت خوف کی فضا ہے، جہاں ہر گلی گاؤں سڑک اور روڈ پر میرے اور تمہارے پیاروں کی لاش پڑی ہے۔
جہاں بھی ظلم جنم لیتا ہے وہیں سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے وطن بلوچستان کو دیکھیں تو یہ سوال ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ اگر آپ یہاں حق اور سچ کی بات کریں تو آپ کو قید خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے یا لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔

ایک ریاست جب کمزور اور مفلوج ہو جاتی ہے تو وہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر ظلم و ستم کرتی ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جس نے بنگالیوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔ ہر وہ ظلم ان کے ساتھ کیا گیا، اور آج وہی کچھ ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

تو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہم سب کو مزاحمت کی راہ پر چلنا ہوگا۔ یہ آزادی تمہارا میرا اور دشمن کا خون مانگتی ہے۔ اس آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنا ہوگا۔ اپنی انفرادی سوچ کو ختم کرنا ہوگا اور اپنے قومی مفاد کو آگے رکھنا ہوگا۔ ہمارا ہر ایک قدم آزادی کی جانب ہو اور دشمن کے لیے عذاب بن جائے، اس کے لیے ہمیں مزاحمت کی راہ پر چلنا ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔