نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام میر غوث بخش بزنجو اور حاصل بزنجو کی یاد میں کوئٹہ پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کرتے ہوئے کہاکہ دونوں عظیم شخصیات نے جمہوریت کے استحکام، آئین کی حکمرانی، پارلیمان کی بالادستی اور آزادی اظہارِ رائے کو ملک کی بقا کا ضامن قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ غوث بخش بزنجو اور میر حاصل بزنجو نے پاکستان اور بلوچستان کے حالات کی حقیقی معنوں میں نشاندہی کی اور طاقتور طبقے کو متنبہ کیا کہ عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے، بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی حقوق، سامراج دشمنی اور بہترین خارجہ پالیسی میر غوث بخش بزنجو کی سیاست کا محور رہی۔ میر غوث بخش بزنجو نے اپنی زندگی کے 23 سال جیلوں میں گزارے اور جمہوری و سیاسی جدوجہد کی پاداش میں شدید مشکلات اور تشدد کا سامنا کیا۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ میر غوث بخش بزنجو کے ساتھ ان کا پدرانہ رشتہ تھا جبکہ میر حاصل بزنجو کے ساتھ سیاسی سفر بھی انتہائی خوبصورت رہا۔ میر حاصل بزنجو ایک لیڈر بھی تھے اور کارکن بھی، جنہوں نے سیاسی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان آج انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ایک جانب لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب اغواء برائے تاوان ایک منافع بخش کاروبار بنتا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں شاہراہیں بند، ٹرالرز جلائے اور کاروبار بند کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج بلوچستان کے عوام کسمپرسی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ ہمارے لیے مستونگ تو دور، اب سریاب جانا بھی محفوظ نہیں رہا۔ ایک جانب درختیں کاٹی جا رہی ہیں تو دوسری جانب بسوں سے لوگوں کو اتار کر اغواء کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو اس وقت ایک کالونی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور بلوچستان کے عوام کے حقوقِ حاکمیت سلب کیے گئے ہیں۔ ساحل اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناانصافیوں کا خاتمہ اور عوام و قومیتوں کا احترام ہی موجودہ معاملات کو درست سمت میں لے جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں قومی قیادت قوموں کو سہارا دیتی ہے، اس لیے سیاسی کارکنوں کو اپنی تنظیم مضبوط کرنے اور اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کارکنوں پر زور دیا کہ نیشنل پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنی تنظیم کو مضبوط نہ کیا تو مسلط کردہ لوگ مزید طاقتور ہوجائیں گے۔ سیاسی جدوجہد کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ہی موجودہ حالات کا مؤثر جواب ہے۔



















































