جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6,353ویں روز بھی جاری رہا۔
احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ سے گزشتہ روز ملنے والی لاشوں کو شناخت ظاہر کیے بغیر دفنانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ لاشوں کی شناخت ظاہر نہ ہونے کے باعث لاپتہ افراد کے لواحقین شدید ذہنی کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ لاشیں ان کے لاپتہ پیاروں کی تو نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، اس لیے حالیہ واقعے نے لاپتہ افراد کے خاندانوں میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اگر مستونگ سے ملنے والے افراد کسی مبینہ مقابلے میں بھی مارے گئے ہیں تو متعلقہ حکام کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ ان کی شناخت فوری طور پر ظاہر کی جائے اور لاشوں کی شناخت کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستونگ سے ملنے والی تمام لاشوں کی شناخت فوری طور پر ظاہر کی جائے تاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش کا خاتمہ ہو سکے اور خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے۔















































