اعتبار کی شمشیر اور حوصلے کی ڈھال – کوہ شان بلوچ

41

اعتبار کی شمشیر اور حوصلے کی ڈھال

تحریر:کوہ شان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تم قابلِ دید ہو، ہم غیب میں فنا
ہم مست و مگن، گمراہ اس زمین کے
اور تم ذاتِ حوا کے عشق میں پختہ
ہم اور تم ایک ہیں؟ یہ سخن ہے گناہ

طوفانِ حوادث کو پار کرنے کے لیے انسان کے پاس دو چیزوں کا ہونا بے حد ضروری ہے: یقین اور حوصلہ۔ یہ دونوں جب آپس میں ملتے ہیں، تو ایک فولادی طاقت بن جاتے ہیں۔ میدانِ کارزار میں یقین اور حوصلے کا باہمی ربط انتہائی ناگزیر ہے، جو ایک جنگجو کو فکری مضبوطی اور بے پناہ طاقت فراہم کرتا ہے۔

عشق کی راہ پر گامزن ہو کر لال خان نے اعتبار کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ اپنے ساتھی پر خود سے زیادہ یقین،آزادی کو مقصد اور موت کو ایک بہترین مرہم سمجھ کر وہ کمر بستہ ہوا۔ اس کی بہادری اور مخلصی نے اس کی ذاتی پہچان کو جلا کر راکھ کر دیا، اور اسی راکھ سے جنم لینے والا دھواں “دُرّک” میں بدل گیا۔ آج بلوچستان کی ہر وادی اس نام سے آشنا ہے۔

میرا یوں ایک پوشیدہ واسطہ تم سے ہونا یقیناً اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ وہی محبت اور مقصد ہے جو ہزاروں کی بھیڑ میں ہم خیالوں کو جوڑتا ہے۔ 2023ء کی وہ سرد رات آج بھی یاد ہے جب تم سے ملے بغیر مجھے تمہاری طبیعت اور مزاج سے آگاہ کیا گیا اور کہا گیا کہ جب تم وہاں جاؤ گے تو تمہیں لال خان ملیں گے، تو اُن سے ضرور تعلق قائم کرنا کیونکہ وہ ہم میں سے ایک ہیں۔ سبزو نے مجھ سے کہا کہ مُلّا لال اور تم ایک بہترین تعلق قائم کر سکتے ہو اور ایک لازوال پوشیدہ کہانی بن سکتے ہو۔ بس انہی کے کہے ہوئے الفاظ اور پیغام سے مجھے تم ایک ایسیبھیڑ میں ملے جہاں لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے، پر مجھے تمہاری پہچان میں ذرا بھی دیر نہیں ہوئی اور وہی تعلق کہاں اور کس موڑ تک پہنچ گیا، وہ ایک پوشیدہ اور گمنام قصہ ہے جسے اب مجھے سینے میں کہیں دفن کرنا ہوگا اور وقت آنے پر اُس کے گیت وادیوں میں گونج اُٹھیں گے۔

دُرک کی آنکھوں میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا، جیسے وہ آنے والے ہر طوفان سے پہلے ہی باخبر اور تیار ہو۔ دُرّک کی بہادری اور مخلصی اس کٹھن سفر کے ہر مسافر نے دیکھی ہوگی۔ وہ ایک حقیقی عاشق بن چکا تھا، اسی لیے عشق کی انتہا تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ دنیا کی نظر میں دیوانہ ہو گیا تھا۔

تمہارا وہ فیصلہ، جس میں تم نے وطن کے لیے عملی میدان میں اترنے کا عزم کیا، آج بھی مجھے یاد ہے۔ تم چاہے جہاں بھی بچپن گزار کر جوان ہوئے ہو، مگر بطور ایک انقلابی سپاہی، میں نے تمہیں ہر پل بڑے ہوتے دیکھا ہے۔ تم کس طرح اپنے فیصلوں پر غور کرتے تھے، پھر کیسے مطمئن ہو کر ان پر عمل پیرا ہوتے تھے، یہ سب میری یادوں میں نقش ہے۔ یہ قلم لکھتے لکھتے تھک ہار جائے گا، مگر تمہاری شخصیت کا احاطہ کبھی نہیں کر سکے گا۔

آسائشوں اور جھوٹی تسلیوں سے دستبردار ہو جانا، اور وطن کے ساتھ ساتھ اس کے محافظوں کے لیے خود کو ہر میدان میں پیش کرنا، اپنے آپ میں ایک لازوال داستان ہے جسے تم نے خود اپنے خون سے لکھا ہے۔ مجازی عشق کی حدود سے نکل کر حقیقی عشق (وطنِ عزیز) کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنانا ہی تمہارا طرۂ امتیاز تھا، اور اسی عشق کی راہ میں تم نے دم توڑا ہے۔

دُرّک! تم اپنے فیصلوں میں خود مختار اور بے نیاز تھے، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تم اپنی ذات کے حصار سے نکل کر ہمیشہ جنگی اصولوں کے پابند سپاہی بن چکے تھے۔ تعریف اور نرگسیت کو تم نے اس طرح شکست دی تھی کہ یہ بیماریاں تمہارے سائے کے قریب بھی نہیں پھٹکتی تھیں۔ ہر سرمچار کے درد کو اپنے سینے میں اتار لینا اور اس درد کے باوجود مسکرانا تمہارا منفرد ہنر تھا۔
سنگت! ایک تنخواہ دار فوجی اور ایک حقیقی سرمچار کا فرق تمہاری شخصیت میں صاف نظر آتا تھا۔ جب کوئی سیاسی یا غیر سیاسی شخص تمہیں ریاستی کارندہ سمجھتا، یا محفلوں میں یہ کہا جاتا کہ “لال خان ایک ریاستی آلہ کار ہے، اسے بلوچستان کی مٹی اور بلوچ قوم سے کوئی واسطہ نہیں”، تو تم مسکرا کر کہا کرتے تھے: “بطور گوریلا سپاہی یہ میری کامیابی ہے کہ لوگ مجھے پہچاننے میں غلطی کر رہے ہیں۔ وقت اور حالات ہی طے کریں گے کہ لال خان کیا تھا اور لوگوں نے کیا تصور کیا تھا”۔ آج وہی دن ہے کہ لوگ اپنے کہے ہوئے الفاظ پر پشیمان ہیں، مگر تم اب ان کے درمیان نہیں بلکہ شہیدوں کی مقدس فہرست میں شامل ہو چکے ہو۔
میں تمہیں یاد دلاؤں، جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس کٹھن سفر میں تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ تو تم نے ایک ہی جملے میں بہادری، بھروسے اور شجاعت کا سمندر سمو دیا تھا۔ تم نے کہا تھا: “یار! ڈرے وہ جو اکیلا ہو، یا جس کے ذہن میں اپنے ہمراہیوں کے متعلق سوالات ہوں۔ میں تو اس لیے مطمئن ہوں کہ اس راہ سے زیادہ پاک کچھ نہیں، اور میرا دوست ہر وقت میرے ساتھ ہے۔ اگر کبھی دشمن سے سامنا ہوا، تو پہلی گولی تمہارے سینے میں پیوست ہوگی، اس کے بعد مجھ تک پہنچے گی؛ اب تم خود بتاؤ، میں کیسے ڈر سکتا ہوں؟” یہ وہی جواب تھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ تمہیں اپنے دوستوں پر حد سے زیادہ یقین اور اپنے مقصد سے جنون کی حد تک عشق تھا۔

دُرّک! جب تم نے خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے چند سیاسی چہروں کو بیدار کرنا چاہا اور انہیں حقیقت کا آئینہ دکھانا چاہا، تو انہوں نے عجب عجب رنگ دکھائے۔ کچھ نے تو تمہارے گہرے شعور کو محض ‘جذباتی پن’ قرار دیا اور کہا کہ یہ نوجوان جذباتی ہے، اسی لیے سیاسی حلقوں میں اس طرح کے (چبھتے ہوئے) سوالات کرتا ہے۔ مگر وہ نادان یہ نہیں جانتے تھے کہ جس انسان نے سرمچاروں کو اپنی گود میں دم توڑتے دیکھا ہو، جس نے کٹھن اور پتھریلی راہوں پر سفر کیا ہو، جس نے عشق کی انتہا کو چھوا ہو اور اپنے باہم شعور دوستوں کو شہید ہوتے دیکھا ہو، وہ ہرگز جھوٹ، فریب، دغابازی اور مکر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک سچے سرمچار کا تو خاصہ ہی یہی ہے کہ وہ سچ اور حقیقت کی بقا کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتا ہے۔

دُرّا جان! پروم کی وادی سے لے کر علم و شعور کی جستجو میں شال (کوئٹہ) کا رخ کرنا، پھر شال کو ماں کا درجہ دے کر اور کمر بستہ ہو کر ‘شور پارود’ کے پہاڑوں کی طرف نکل جانا، اور دھرتی ماں کے لیے آخری سانس تک لڑنا—یہ بہادری کی وہ لازوال داستان ہے جس میں بے پناہ قربانیاں شامل ہیں۔ اس راہ میں ذاتی خواہشات، آسائشیں، خوشیاں، ماں باپ اور ہر رشتے کی قربانی سرفہرست تھی، مگر تم ان تمام قربانیوں کو ہنستے مسکراتے احسن طریقے سے دیتے چلے گئے۔

دُرا کے بچپن کے دوستوں کی بات کی جائے تو وہ خود میں ایک لازوال قصہ بن جاتا ہے جہاں ہر ایک نے اپنے نقش مادرِ وطن کے لئے چھوڑ دیے ہیں، اُس فہرست میں فدائی ناصر، فدائی سربلند،فدائی سلال, شہید ساربان اور اب دُرک خود اس فہرست کی زینت بن چُکے ہیں، شاید وہ بچپن سے ہی بہتر انسانی چھناؤ سیکھ چکے تھے۔ یہ مزاج شاید بچپن سے اُنکی شخصیت کا حصہ بن چُکا تھا بس اُسے تراشنے کی ضرورت تھی اور اب وقت اور حالات نے اُسے تراش ڈالا اسی دوران وہ بدل گئے اور لال خان سے دُرّک میں تبدیل ہوگئے۔
دُرک !تم وہ منفرد سپاہی ہو جو اس ناپاک اور بدتہذیب ریاست کیلئے دردِ سر بن گئے ہو،جو چیخ رہا ہے کہ لال خان ایک ڈاکٹر ہوکر کیوں جنگ کا چھناؤ کر گئے،پر اُسے بلوچ نوجوانوں نے ہزار بار یہی پیغام دیا ہے کہ یہ جنگ آزادی،خود مختاری،بقا اور روشن مستقبل کی جنگ ہے اور یہی بات دشمن ہر بار سمجھنے سے غافل رہ چکا ہے۔دُرک تم نے ایک معتبر اور معیاری شعبے کو پسِ پشت ڈال کر اس کٹھن سفر کا انتخاب کیا۔ طبی شعبے سے وابستہ ہو کر دھرتی کے لیے خود کو یوں فنا کر دینا اس انسان کے لیے ہرگز ممکن نہیں جو مادی دنیا کی زنجیروں میں بند ہو، مگر تم تو عشقِ زمین میں غرق تھے؛ اسی لیے یہ مادی آسائشیں تمہارے نزدیک ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔تم یہ جانتے تھے کہ طبعی شعبے سے منسلک ہو کر اگر میں غلامی جیسی بیماری کی تہہ تک نہیں پہنچ جاؤں تب تک میں ایک محض ریاستی مشینری کی طرح کام کرتا رہوں گا اور اس طرح بے ضمیر ہو کر جینا تمہاری فطرت میں ہر گز نہیں تھا۔
بندوق کندھے پر رکھنے سے پہلے تم نے خود سے یہ عہد کیا تھا کہ اب واپسی کا راستہ صرف موت ہے؛ میرا لوٹنا تبھی ہوگا جب میرا لاش کا تابوت میرے محلے میں جائے گا، لیکن جب تک سانس چلتی رہے گی، اس ناپاک دشمن سے جنگ جاری رہے گی۔ اور تم نے یہ سچ کر دکھایا! رخصتی سے پہلے تم نے اہل معاشرے کو ‘آہو گُل’ کے اس شعر کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ اب تم محض لال خان نہیں، بلکہ ‘دُرّک’ بن چکے ہو:”
پہ وتن ما اے کسم وارت کُت وت ءَ در میتگ ء
بئیت گُڑا مئے جون بئیت بس تھنا واتر میتگ ء
(ہم نے وطن کی خاطر یہ قسم کھائی اور خود کو گلی کوچوں سے دور کر لیا، اب اگر ہم لوٹیں گے تو صرف ہمارا جنازہ ہی اس مٹی کی طرف واپس آئے گا)

آج ‘آہو گُل’ کا یہ شعر تمہاری قربانی کے ساتھ مکمل انصاف کر رہا ہے، اور تم نے بھی اپنے عہد کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ تم اپنے ہر ہر لفظ پر عمل پیرا ہو کر ایک سچے سرمچار بنے، اور اسی پاک راہ پر چلتے چلتے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

دُرّک وعدوں کا پاسدار اور ایک منفرد انسان تھا ،وہ جنگی تبدیلیوں میں بدلنا جانتا تھا،دشمن کیلئے قہر اور دوستوں کیلئے شمع بننا جانتا تھا انھیں خوبیوں کی وجہ سے وہ لال خان سے نکل کر دُرّک بن گئے اور ایک علاقائی حدود پروم سے نکل کر بلوچستان میں سما گئے۔بندوق کی نوک سے نکلتی ہوئی گولی اپنے اہداف سے بخوبی واقف ہو چُکا تھا کیونکہ بندوق کے مالک اپنے نظریہ اور فکر میں پختگی اختیار کر چُکا تھا، ایک سرمچار اور تنخواہ دار فوجی،ڈیتھ اسکواڈ اور ریاستی آلہ کار میں یہی فرق ہوتا ہے۔دُرّک ہر سرمچار کی طرح تمہاری بندوق ایک سیاسی مسکن تھا اور اس سے نکلنے والی ہر گولی ایک ساسی پیغام لیکر نکلتا تھا جو دشمن کی سات نسلوں کو یہی سکھاتا تھا کہ بلوچ اپنی سرزمین کے وارث خود ہیں اور یہی گولی بلوچ قوم کو یہ پیغام پہچاتا تھا کہ دُرّک کے بعد اس سیاسی مسکن کو آپ نے آکر سنبھالنا ہے۔

دُرا جان! تم عہد نبھا کر ہمیشہ امر ہوگئے،آج بلوچستان کی ہر وادی کو تم پر ناز ہے۔تمہاری داستان کو لیکر نوشکی ، شورپارود، گِدر،خاران اور بلوچستان کے ہرسنگلاخ پہاڑ آج غم اور فخر سے آنسو بہاتے رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو تم سے آگاہ کرتے رہیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔