ضلع کیچ میں بدامنی، بارڈر بندش اور چیک پوسٹوں کے خلاف آل پارٹیز کا ردعمل، 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

1

ضلع کیچ میں بدامنی، چیک پوسٹوں، بارڈر بندش اور تاجروں کو ہراساں کرنے کے خلاف آل پارٹیز کی پریس کانفرنس میں سخت ردعمل، سابق وزیرِ اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی موجودگی میں 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش۔

ضلع کیچ میں مسلسل بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال، شہریوں کے جان و مال کے عدم تحفظ، بارڈر تجارت میں رکاوٹوں، تاجروں کو مبینہ ہراساں کیے جانے، شاہراہوں اور عوامی راستوں کی بندش اور بنیادی شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کے خلاف آل پارٹیز کیچ اور انجمن تاجران کیچ نے حکومت اور انتظامیہ کے سامنے 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام کو مزید خوف، بدامنی، معاشی گھٹن اور غیر ضروری پابندیوں میں نہیں رکھا جاسکتا۔

تربت پریس کلب کے آڈیٹوریم میں آل پارٹیز کیچ کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خصوصی شرکت کی جب کہ بی این پی، بلوچستان نیشنل الائنس، انجمن تاجران، پیرامیڈیکل اسٹاف، بار ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے نمائندے پریس کانفرنس میں شریک رہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ کیچ کے عوام ایک طرف بدامنی، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کے خوف میں مبتلا ہیں تو دوسری جانب روزگار اور کاروبار کے راستے مسلسل محدود کیے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ ایسے حالات پیدا کرنا جن میں عام شہری اپنے گھروں، بازاروں، شاہراہوں اور کاروبار میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تربت، بلیدہ، دشت، ہوشاپ سمیت پورے ضلع کیچ میں امن و امان فوری طور پر بحال کیا جائے، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو محض دعووں کے بجائے عملی طور پر یقینی بنایا جائے۔

آل پارٹیز نے پولیس اور فورسز کی کارکردگی پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جوسک، ناصر آباد، دشت، بلیدہ اور ہوشاپ سمیت تمام تھانوں میں پولیس نفری اور ذمہ دار افسران کی موجودگی یقینی بنائی جائے، تمام ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں فعال کیا جائے اور عوام کو بروقت قانونی و انتظامی امداد فراہم کی جائے۔

کلگ سہرانی میں بلوچ خاتون ماہ گل کی اغوا و قتل پر پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب کلگ سہرانی میں ایک 30 سالہ بلوچ خاتون کو گھر سے جبری طور پر اغوا کرنے کے بعد قتل کرکے لاش پھینکے جانے کے واقعے پر شدید غم و غصہ موجود ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ایک بلوچ خاتون کا گھر سے جبری اغوا، قتل اور لاش کو پھینک دینا محض ایک فوجداری واقعہ نہیں بلکہ بلوچ معاشرے کی بنیادی روایات، اقدار اور سماجی حرمت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر شہری اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں تو امن و امان کے حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے بے معنی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کلگ سہرانی کے واقعے کی فوری، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، واقعے میں ملوث تمام عناصر کو گرفتار کیا جائے اور کسی دباؤ یا مصلحت کے بغیر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے واقعات کو معمول کا فوجداری واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہوگا۔

بارڈر بندش اور معاشی مشکلات پر بھی مؤقف اپناتے ہوئے آل پارٹیز کیچ نے کیچ کے تمام بارڈر پوائنٹس، بالخصوص عبدوئی اور جالگی بارڈر پوائنٹس کی بندش کو ہزاروں خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے انہیں فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ بارڈر تجارت کی بندش سے براہ راست ہزاروں خاندان متاثر ہورہے ہیں اور لوگوں سے روزگار کا ذریعہ چھین کر انہیں معاشی بدحالی اور بے روزگاری کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ردیگ بارڈر کو پرانی پوزیشن پر بحال کیا جائے، بارڈر تجارت معمول کے مطابق بحال کی جائے اور تاجروں کے لیے ایسا شفاف، آسان اور تاجر دوست نظام وضع کیا جائے جس میں غیر ضروری ڈیوٹیز، شرائط اور رکاوٹوں کے ذریعے کاروبار کو مفلوج نہ کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ردیگ اور دیگر بارڈر پوائنٹس پر تاجروں اور عام شہریوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے جبکہ کراچی سے سامان لانے والی گاڑیوں کو موچکو کے مقام پر روک کر مبینہ طور پر تنگ کرنے اور بھتہ وصولی کے عمل کا فوری سدباب کیا جائے۔

تربت شہر میں چیک پوسٹوں اور راستوں کی بندش ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ نے سیکیورٹی کے نام پر عوامی راستوں کی مسلسل بندش پر بھی شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کے اقدامات عوام کی زندگی مفلوج کرنے کا جواز نہیں بن سکتے۔ شہر کے اندر راستے بند کرکے عوام کو تکلیف دینے کے علاوہ لوگوں کی تزلیل کی جارہی ہے، جن سڑک اور راستوں پر رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں فوری کھولی جائیں اور بار بار مین شاہراہ سمیت اندرون شہر کئی گھنٹوں سڑکیں بند کرنے کا سلسلہ فی الفور بند کی جائے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جوسک سے ہوشاب تک بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جائے، غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، چیک پوسٹوں پر متبادل راستوں کے نام پر بنائے گئے راستے ختم کرکے عوام کے براہِ راست اور قدیم راستے بحال کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تربت ہسپتال، بلوچستان ہائی کورٹ اور لا کالج جیسے اہم عوامی و تعلیمی اداروں کے راستوں پر غیر ضروری رکاوٹیں فوری ختم کی جائیں تاکہ مریضوں، طلبہ، وکلا اور عام شہریوں کو مشکلات سے نجات مل سکے۔

آل پارٹیز نے غلام نبی پمپ سے پارک ہوٹل تک روڈ کی بندش فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ سیکیورٹی پالیسی مرتب کرتے ہوئے عوامی سہولیات، بنیادی حقوق اور معاشی سرگرمیوں کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔

اغوا برائے تاوان اور ڈرون نگرانی پر بھی اعتراض کیا گیا، پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ اغوا برائے تاوان کے لیے شہریوں کو فون کرکے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کا فوری سدباب کیا جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

رہنماؤں نے شہری آبادی والے علاقوں میں ڈرون کیمروں کے استعمال پر بھی پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی کی نجی زندگی اور بنیادی آزادیوں کو سیکیورٹی کے نام پر مسلسل متاثر کرنا قابل قبول نہیں۔

آل پارٹیز کیچ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کیچ کے عوام کے جان و مال کے تحفظ، روزگار، کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی آئینی حقوق کی عملی ضمانت دی جائے اور 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے لیے فوری اور واضح لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے۔

رہنماؤں نے کہا کہ کیچ کے عوام کو مزید خاموش تماشائی سمجھنا حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی غلط فہمی ہوگی۔ اگر مطالبات پر فوری پیش رفت نہ کی گئی اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آل پارٹیز کیچ اپنی احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں شٹر ڈاؤن، احتجاجی جلسوں، دھرنوں اور دیگر جمہوری و آئینی احتجاجی اقدامات کا راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔