کوئٹہ میں ایف سی چیک پوسٹوں پر تاجروں کا شدید ردعمل، غیر ضروری چیکنگ ختم کرنے کا مطالبہ

1

انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا، جنرل سیکرٹری ولی افغان، حاجی نصرالدین کاکڑ، میر محمد رحیم بنگلزئی، حاجی یعقوب شاہ کاکڑ، حاجی فاروق شاہوانی، حاجی سید حیدر، حاجی حبیب اللہ، حاجی اسلم ترین، خان کاکڑ، حاجی ظہور کاکڑ، سید شفیع آغا، طاہر خان جدون، ملک محمد حسین شاہوانی، سید غنی آغا و دیگر نے کوئٹہ شہر اور صوبے کی مختلف شاہراہوں پر قائم ایف سی چیک پوسٹوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے وسط میں ریلوے اسٹیشن اور عسکری پارک کے قریب چیک پوسٹوں کا قیام شہریوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں چیک پوسٹیں عموماً شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم کی جاتی ہیں، تاہم کوئٹہ میں شہر کے اندر عوام کو روکنے اور گھنٹوں قطاروں میں کھڑا کرنے سے شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔

رحیم آغا نے کہا کہ کوئٹہ کے عوام پہلے ہی بدامنی، مہنگائی، بجلی، ٹریفک اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں شہر کے اندر جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کرکے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بلیلی کسٹم، بائی پاس، لک پاس اور دیگر مقامات پر طویل چیکنگ کے باعث عوام اور تاجروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریض ایمبولینس یا نجی گاڑیوں میں ہسپتال جاتے ہوئے قطاروں میں پھنس جاتے ہیں، خواتین، بچے اور بزرگ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ طلباء، ملازمین اور تاجر بھی بروقت اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگر سیکیورٹی کا مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے تو چیکنگ کا ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں سیکیورٹی کے ساتھ عوامی سہولت اور عزت و وقت کا بھی خیال رکھا جائے۔

صدر انجمن تاجران بلوچستان نے سوال اٹھایا کہ اگر شہر اور صوبے کے راستوں پر اتنی بڑی تعداد میں چیک پوسٹیں موجود ہیں تو سمگلنگ کا سامان مارکیٹوں تک کیسے پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سامان یا سمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، تاہم قانونی کاروبار کرنے والے تاجروں کو بلاجواز روکنے اور ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔

رحیم آغا نے کہاکہ ایک طرف تاجروں کے خلاف چھاپے مار کر سامان ضبط کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ٹیکس اور متعلقہ دستاویزات رکھنے والے تاجروں کو بھی راستوں میں روک کر مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹیکس وصول کرتی، دستاویزات جاری کرتی اور کاروبار کی اجازت دیتی ہے تو ان دستاویزات کے حامل تاجروں کو راستوں میں روکنے اور ان کے کاروبار میں مداخلت کا جواز واضح کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اعلیٰ حکام کے ساتھ متعدد ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں اور یہ طے کیا گیا تھا کہ کوئٹہ سے بلوچستان کے دیگر اضلاع جانے والے تاجروں کے پاس ٹیکس اور متعلقہ پرچیاں موجود ہوں تو ان کا سامان بلاجواز ضبط نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جائے گا، تاہم یقین دہانیوں کے باوجود عملی صورتحال میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

رحیم آغا نے کہا کہ اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عوام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم ان کی عزت، وقت اور کاروبار کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی کو اگر سیکیورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تو وہ سیکیورٹی پر توجہ دے، جبکہ کسٹم سے متعلق معاملات متعلقہ اداروں کے دائرہ کار میں رہنے چاہئیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، کور کمانڈر بلوچستان، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ شہر کے وسط میں قائم غیر ضروری چیک پوسٹوں کا جائزہ لے کر انہیں ختم کیا جائے، جبکہ بلیلی، بائی پاس، لک پاس اور دیگر مقامات پر چیکنگ کے نظام کو عوام اور تاجروں کی سہولت کے مطابق بنایا جائے۔