پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ عوام کو جبراً اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا نوآبادیاتی جبر کے سلسلے ہیں۔ بی ایس او آزاد

19

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہےکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگیں ہوئی ہیں تو ظالم اور طاقتور قوتوں کی جانب سے ہمیشہ مظلوم عوام کو جبر کا نشانہ بنایا گیا ہے، ان کی قتلِ عام سمیت ان کی معمول کی زندگی بری طرح متاثر کی گئی ہے۔ اسی طرح کے حالات مقبوضہ بلوچستان میں رونما ہوئے ہیں جہاں قابض پاکستانی ریاست صدیوں سے آباد بلوچوں کو اپنی آبائی علاقوں سے جبری طورپر بے دخل کرکے انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں پسنی کے علاقے کلانچ میں واقع قدیم سردشت اور قریب و جوار کی آبادی کو جبراً علاقے سے بے دخل کیا گیا ہے۔ ان کو ڈرا دھمکا کر مسلسل ہراساں کیا گیا، لوگوں کی معمول کی زندگی کو مفلوج کرکے ان پر تشدد کیا گیا اور بالاخر انہیں جبراً اپنے آبائی وطن سے بے دخل کیا گیا۔

ترجمان نے کہاکہ قابض پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ آبادی کو اپنے آبائی وطن سے بے دخل کرنے کا یہ نوآبادیاتی عمل نیا نہیں ہے بلکہ یہ کئی عرصوں سے جاری ہے۔ اس سے پہلے بلوچستان بھر میں عام آبادی کو جبر کا نشانہ بنا کر انہیں جبراً اپنے علاقوں سے بے دخل کیا گیا ہے جبکہ کئی لوگ نوآبادیاتی تشدد سے تنگ آ کر اپنے اپنے وطن سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کوہلو، بولان اور ڈیرہ بگٹی وہ علاقے ہیں جو برسوں سے اسی جبر کے شکار ہوئے ہیں جہاں کثیر تعداد میں لوگ قابض کی جبر سے تنگ آکر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ کئی بہ زور طاقت اپنے علاقوں سے بے دخل کیے گئے ہیں۔ اسی طرح آواران، مشکے، بالگتر، دشت، پنجگور، زامران، مستونگ، بولان، نوشکی، کلات سمیت کئی مصافاتی علاقے اس جبراً بے دخلی سے متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ قابض پاکستانی ریاست کی جانب سے رواں سال مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ کی عام آبادی کو دھمکی دے کر انہیں اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر زور دینا، کلات کے کئی علاقوں کو خالی کرنے کی جبری کوشش جبکہ نوشکی اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی جبری انخلا سے بلوچ عوام ذہنی بحران کے شکار ہیں۔ لوگوں کے اپنے آباؤ اجدادی وطن سے بے دخلی صرف ہجرت کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی وجود اور بقا کی تمام جہتوں پر حملہ ہے۔ زمین سے لوگوں کی یاداشتیں اور پہچان وابستہ ہیں، ان کو بے دخل کرنا اور مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور کرنا انسانیت سوز جرم ہے جس کا زمہ دار قابض پاکستانی ریاست ہے۔

بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ بلوچ قوم کی مادرِ وطن ہے جہاں وہ صدیوں سے آباد ہیں۔ اس سرزمین سے ان کی وجود قائم ہے مگر پاکستانی قبضے کے بعد بلوچ قوم کو نوآبادیاتی جبر کا سامنا ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے عام آبادی پر بمباری، عوام کو تنگ کرکے ہراساں کرنا، ان پر تشدد اور اپنے وطن سے جبری بے دخلی نے بلوچستان میں انسانی بحران پیدا کردیا ہے۔ مگر دنیا کے تمام انسانی حقوق کے ادارے ان جرائم پر خاموش ہیں جو قبضہ گیریت اور انسانی بحران کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ انسانوں کی حفاظت کے لیے قائم دنیا کی ان تمام عالمی اداروں کی زمہ داری بنتی کہ وہ بلوچستان میں اس انسانی بحران کا نوٹس لے کر پاکستانی قبضہ کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔