بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، مزید چھ افراد کے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خضدار سے قادر بخش بلوچ ولد حاجی محمد رمضان، سکنہ باغبانہ، کو گزشتہ روز گھر سے شہر کی طرف جاتے ہوئے راستے میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ قادر بخش بلوچ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل 2021 میں فوج نے انہیں بچوں سمیت حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا اور شدید اذیتوں کے بعد رہا کیا تھا۔ دوسری بار جون 2026 میں سرکاری مسلح گروہ نے انہیں اغوا کرکے لاپتہ کیا اور تین دن بعد رہا کر دیا۔ یہ تیسری بار ہے کہ انہیں کل لاپتہ کیا گیا ہے۔
پنجگور سے باسط بلوچ ولد محمد امین، سکنہ پروم، کو رواں سال 5 ستمبر کو گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
کیچ، گیبن کے رہائشی عدنان بلوچ، محمد اور احمد کو پاکستانی فورسز نے رواں سال 2 ستمبر کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
جبکہ نوشکی سے بختیار ولد عبدالسلام کو 23 اگست 2026 کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بیشتر کیسز ریاستی دباؤ، خوف اور مختلف رکاوٹوں کے باعث بروقت رپورٹ نہیں ہو پاتے، جس کے سبب جبری گمشدگیوں کی اصل تعداد ریکارڈ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
















































