سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو مسلسل اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ

38
 

بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ پارٹی کے سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو برسوں سے منظم اور مسلسل اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بڑے بھائی قادر بخش بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔ یہ محض ایک شخص کا اغوا نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کو توڑنے، خوف زدہ کرنے اور خاموش کرانے کے لیے بار بار دہرایا جانے والا ریاستی جرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ قادر بخش بلوچ اور ان کے بیٹوں کو ایک طویل عرصے سے پاکستانی ریاست کے ناقابلِ بیان ظلم و اذیت کا سامنا ہے۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ خاندان کے سربراہ قادر بخش بلوچ کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل انھیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر عقوبت خانوں میں منتقل کیا، جہاں انھیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کیا گیا۔ لیکن ان کی رہائی بھی آزادی نہ تھی؛ انھیں مسلسل خوف، نگرانی اور دوبارہ اٹھائے جانے کے سائے میں زندہ رہنے پر مجبور رکھا گیا۔ آج ایک مرتبہ پھر قادر بخش بلوچ کو ان کے گھر، خاندان اور زندگی سے چھین لیا گیا ہے—اور ان کے پیچھے رہ جانے والے اہلِ خانہ کو ہر لمحہ اس اندیشے کے ساتھ زندہ رہنا پڑ رہا ہے کہ معلوم نہیں ان کا پیارا کس عقوبت خانے میں، کس حال میں اور کس اذیت سے گزر رہا ہوگا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے اجتماعی سزا کو بلوچ قومی و سماجی زندگی پر مسلط ایک مستقل عذاب بنا دیا ہے۔ بلوچ وطن کے طول و عرض میں اب شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کسی گھر ، محلے پر حملہ نہ ہو، کسی ماں کی گود نہ اجاڑی جائے، کسی بچے سے اس کا باپ اور کسی بہن سے اس کا بھائی نہ چھینا جائے۔ بلوچستان میں اب ایسے خاندان انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو ریاستی جبر، جبری گمشدگی، تشدد، فوجی یلغار کی اذیت سے محفوظ رہے ہوں۔ یہاں انسان صرف لاپتہ نہیں کیے جاتے، ان کے ساتھ پورے خاندانوں کی نیند، سکون، مستقبل اور زندگی چھین لیا جاتا ہے۔ مائیں برسوں دروازوں کی آہٹ پر چونکتی ہیں، بچے اپنے باپ کے انتظار میں جوان ہوجاتے ہیں اور خاندان اپنے پیاروں کی موت و زیست کے درمیان معلق روزانہ موت جیسی کربناک تجربات سے گزر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم جبر، تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے ان تمام مرحلوں سے حوصلے کے ساتھ ضرور گزرے گی لیکن جو لوگ پاکستانی نوآبادیاتی درندگی کے ظالمانہ نظام کا کسی بھی سطح پر حصہ ہیں، جو سامنے یا پسِ پردہ ریاستی جرائم میں معاونت کر رہے ہیں اور جو قومی سیاست کے دعویدار ہونے کے باوجود بلوچ گھروں سے اٹھتی چیخوں پر خاموش ہیں، وہ تاریخ اور بلوچ قوم کے احتساب سے بچ نہیں سکیں گے۔ ریاستی طاقت انھیں وقتی تحفظ، عہدے اور مراعات تو دے سکتی ہے مگر بلوچ سماج کی یادداشت سے ان کے کردار کو مٹا نہیں سکتی۔ جس دن بلوچ قوم نے انھیں اجتماعی طور پر مسترد کردیا، اس دن ان کے پاس اپنے کردار، اپنی خاموشی اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے روئے زمین پر کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔