فدائی سعد مینگل: بولان کی یادیں – یزدان بلوچ

8

فدائی سعد مینگل: بولان کی یادیں

تحریر: یزدان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ جنگ میں مختلف کردار، جہدکار اور سنگتی مختلف شکل میں کام کر رہے ہیں، اور ہر جہدکار کی اپنی ایک الگ شناخت قائم ہے، جہاں صرف وہ موجود رہتا ہے۔ جنگ میں کچھ ایسے لوگ ملتے ہیں جو صرف سنگتی نہیں رہتے، جن کے ساتھ آپ کام کرتے ہیں، سفر کرتے ہیں یا زندگی کے چند لمحات گزار دیتے ہیں، بلکہ وہ عام انسانی سوچ، خیال اور زندگی سے بہت زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ وہ جدوجہد میں اپنی ایک الگ پہچان اور شناخت رکھتے ہیں اور جدوجہد کی روح بن جاتے ہیں۔ وہ پوری تحریک کا ایک ایسا خوبصورت حصہ بن جاتے ہیں جو زندگی بھر تمہارے ساتھ رہتے ہیں، جو جسمانی حوالے سے تو موجود نہیں رہتے مگر ان کی باتیں، یادیں، ان کا رویہ، ان کے ساتھ گزارا گیا ہر لمحہ گویا ایک یاد اور ایک زندگی بن جاتا ہے۔

انہی عظیم اور جدوجہد، انقلابی و قومی شعور سے پُر سنگتیوں میں ایک سنگتی فدائی سعد مینگل تھے، جنہوں نے اسلام آباد کی سرد ہواؤں کو چھوڑ کر سرمچارانہ زندگی اپنائی اور خود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وطن پر قربان کر دیا۔ انہوں نے جنگ میں صرف شمولیت کی غرض سے بندوق نہیں اٹھائی بلکہ اس فکر، شعور اور سوچ کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے کہ وہ قوم کے لیے حقیقی معنوں میں کچھ عظیم کرنا چاہتے تھے، اور اسی فکر و مقصد کو لے کر انہوں نے آخر تک وطن کی حفاظت کی اور اپنی زندگی تک سرزمین پر قربان کر دی۔

شہید سعد مینگل انہی شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے وطن سے بے پناہ محبت کی، اور اسی محبت کو انہوں نے عملی شکل دیتے ہوئے خود کو وطن پر قربان کر دیا۔ وہ چاہتے تو اسلام آباد میں رہ کر ایک خوشحال زندگی گزار سکتے تھے، لیکن انہیں اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ ان کی قوم غلام ہے، اور دنیا میں غلاموں کی کوئی انسانی عزت و شناخت نہیں ہوتی، بلکہ دنیا میں صرف آزاد انسان ہی حقیقی زندگی کے حق دار ہوتے ہیں۔

میں نے بولان کے محاذ پر سعد کو دیکھا، اور دیکھتے ہی مجھے اس سے ایک قریبی تعلق و یاری ہو گئی، کیونکہ ان کا مزاج، رنگ اور روح ہمیشہ ایک انقلابی جہدکار کی حیثیت رکھتے تھے، اور ان میں ہمیشہ ایک سنگتی کی کشش موجود تھی۔ یہی کشش مجھے بھی ان کے قریب لے گئی، اور ہم دونوں جلد ہی بہت قریبی سنگتی بن گئے۔

وہ ہمیشہ اور ہر وقت اپنی قوم و لوگوں کے لیے سوچتے، مجھ سے مختلف مسائل پر بحث کرتے اور ہمیشہ اس بات پر فکرمند رہتے کہ ان کے علاقے سے اتنے زیادہ لوگ اس عظیم جنگ میں شامل نہیں ہیں، اور انہیں اس عظیم جنگ کا زیادہ سے زیادہ حصہ بننا چاہیے۔ ان کی خواہش تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس جنگ کا حصہ بنیں اور قومی آزادی کے اس عظیم مقصد کے لیے کام کریں، جس کے لیے سینکڑوں نوجوانوں نے قربانی دی ہے۔ ان کے اندر ایک گہری سنجیدگی پائی جاتی تھی، اور مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ زیادہ دیر تک ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔

وہ سرداری نظام کی سخت مخالفت کرتے تھے اور انہیں ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ سرداری نظام ان کے لوگوں اور قوم کی ترقی کے سامنے ایک رکاوٹ ہے، اور وہ اس سے سخت نفرت کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ ان کے لوگ سرداری نظام سے آزاد ہو جائیں اور آزادی سے جینے کا فیصلہ کریں، تاکہ وہ سماج، معاشرے، قوم اور جدوجہد کے لیے کچھ کر سکیں۔ انہیں اس بات سے سخت پریشانی ہوتی کہ لوگ سرداری غلامی سے اس حد تک آگاہی نہیں رکھتے، اس لیے وہ سرداری نظام کو فالو کرتے ہیں اور ان سرداروں کی غلامی کرتے ہیں جو فوج سے تعلق رکھتے ہیں اور بلوچستان پر قائم پنجابی قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے ان کا ساتھ دیتے ہیں، تاکہ ہم ان کے غلام رہیں۔

وہ ہمیشہ یہی سمجھتے تھے کہ اگر ہمارے علاقے سے کوئی نوجوان بڑا قدم اٹھائے اور قومی تحریک کے لیے ایک بڑی قربانی دے تو لوگوں کو جدوجہد کی اہمیت و مقام کا اندازہ ہو جائے گا اور وہ جدوجہد میں شمولیت کریں گے۔ ان کی ہمیشہ یہی خواہش تھی کہ ان کے لوگ جنگ اور جدوجہد میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کریں، جو ہماری بقا و شناخت کی ضمانت ہے۔

میں نے ان کی آنکھوں میں قوم و وطن کے لیے ہمیشہ وہ درد دیکھا تھا، اور میں سمجھ گیا تھا کہ وہ ایک نہ ایک دن وطن کے لیے ضرور کچھ بڑا کریں گے۔ آپریشن ہیرو کی تیاریوں میں ہم ایک ساتھ تھے۔ جب ہم آپریشن ہیرو کے تاریخی حملے کے لیے روانہ ہو رہے تھے تو ہمیں کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ کون واپس لوٹے گا یا واپس نہیں آئے گا، اس لیے ہم نے جتنا وقت گزارا، انتہائی محبّت و مہربانی کے ساتھ گزارا۔

آپریشن ہیروف کے دوران ہمیں ساتھیوں کی جانب سے کوئٹہ کی طرف روانہ کیا گیا، جبکہ شہید سعد مینگل ہم سے جدا ہو گئے۔ میری خواہش تھی کہ میں اور سعد ایک ساتھ دشمن کے ساتھ لڑیں، لیکن پارٹی فیصلے کے مطابق ہمارے حملوں کے مقامات الگ ہو گئے۔ میں کوئٹہ کے محاذ پر ساتھیوں سمیت روانہ ہوا، جہاں ہم نے کوئٹہ شہر کے اندر اتر کر دشمن پر وار کیا، جبکہ سعد جان نے نوشکی کے مقام پر دشمن کے ساتھ لڑتے ہوئے شہادت حاصل کر لی۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی شہادت کے بعد ان کے لوگ جنگ میں زیادہ سے زیادہ شرکت کریں۔

وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھے بلکہ انہیں کتابیں پڑھنے کا بھی بہت شوق تھا، اور وہ ہمیشہ فارغ اوقات میں چند کتابیں اپنے پاس رکھ کر ان کا مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے مطالعے کی روایت کو آخر تک برقرار رکھا۔ کیمپ میں وہ ساتھیوں کو ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف معاملات میں سمجھاتے بھی تھے، اور کسی بھی ساتھی کو کوئی مسئلہ یا پیچیدگی درپیش ہوتی تو وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر خوش اسلوبی سے اس مسئلے کا حل نکال لیتے اور اسے ہمیشہ ہمت دیتے تھے۔ وہ مختلف دلائل اور تاریخی مثالوں کے ذریعے انہیں آگاہی دیتے تھے اور انہیں آسانی سے سمجھاتے تھے۔

وہ شہید لالی کے کردار و عمل سے انتہائی متاثر سنگتی تھے اور ہمیشہ ان کی مثالیں دیتے تھے۔ مشکاف جنگ سے لے کر بولان تک انہوں نے لالی کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارا تھا۔ شہید سعد مینگل ایک مکمل جہدکار اور انقلابی سنگتی تھے، ان میں ایک انقلابی جہدکار کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ مجھے اپنے یار کی شہادت پر فخر ہے، اور میرا یہ ایمان ہے کہ ان قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لے آئیں گی اور بلوچستان آزادی دیکھے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔