کھڈ کوچہ، گرو کے مقام پر پاکستانی فورسز کے قافلے پر حملہ

31

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں پاکستانی فورسز کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ واقعہ کھڈ کوچہ کے علاقے گرو کے مقام پر پیش آیا۔

گرو کے مقام پر قافلے پر حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کھڈ کوچہ اور اس کے گردونواح میں گزشتہ کئی ہفتوں سے صورتحال مسلسل کشیدہ ہے۔

اس سے قبل 14 اگست کو بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کے قافلے کو بھی کھڈ کوچہ میں مسلح افراد نے نشانہ بنایا تھا۔ وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے، تاہم قافلے میں شامل پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ رواں ماہ بائیس اگست کو کھڈ کوچہ میں پاکستانی فورسز کے قافلے کو ایک بڑے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایک بکتر بند مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا، اور متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

کھڈ کوچہ مستونگ ضلع کا ایک اہم علاقہ ہے اور کوئٹہ-کراچی شاہراہ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس کی سکیورٹی صورتحال براہ راست بلوچستان کی بین الصوبائی آمدورفت پر اثرانداز ہوتی ہے۔

اس شاہراہ پر فورسز اور دیگر گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ حملوں نے اس راستے پر سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

تازہ حملے کے بعد شاہراہ کو عارضی طور پر بند کیا گیا اور علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی۔

کھڈ کوچہ میں حالیہ چند ہفتوں کے واقعات کو دیکھا جائے تو علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلوں، و حکومتی شخصیات کو مختلف نوعیت کے حملوں کا سامنا رہا ہے۔